کوئٹہ: پاکستان عوامی تحریک کا قصاص و سالمیت پاکستان مارچ اور دھرنا

مورخہ: 28 اگست 2016ء

سانحہ ماڈل ٹاؤن میں تاریخ کی بدترین ریاستی دہشت گردی، پولیس گردی اور سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس میں انصاف کی عدم فراہمی کے خلاف پورے ملک میں پاکستان عوامی تحریک کا احتجاج جاری ہے۔ 28 اگست 2016 کو پاکستان عوامی تحریک کوئٹہ نے ’قصاص و سالمیت پاکستان تحریک‘ کے تحت جی پی او سے منان چوک تک احتجاجی مارچ کیا اور منان چوک میں دھرنا دیا۔ کوئٹہ میں احتجاجی تحریک کی قیادت پاکستان عوامی تحریک کے مرکزی رہنما احمد نواز انجم نے کی، جبکہ مارچ اور دھرنے میں پیر حبیب اللہ چشتی، بختیار احمد بلوچ، محمد اسماعیل نورزئی، حامد بلوچ ایڈووکیٹ، عطاءاللہ کامریڈ، ڈاکٹر عطاءالرحمٰن، مفتی محمد قاسمی، عبد الرحیم کاکڑ، سید قیوم آغا، عنایت اللہ درانی، محمودہ شبنم، سیدہ انجم ضیاء سمیت پاکستان عوامی تحریک اور اپوزیشن جماعتوں کے کارکنان اور سول سوسائٹی، مذہبی و انسانی حقوق کی تنظیموں کے نمائندگان شریک تھے۔ مارچ اور دھرنے کے شرکاء شہدائے ماڈل ٹاؤن کے قصاص اور قاتلوں کی گرفتاری کیلئے نعرے لگا رہے تھے۔

ڈاکٹر طاہرالقادری نے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری قصاص اور سالمیت پاکستان تحریک کی کامیابی سے شہدائے ماڈل ٹاؤن کے ساتھ ساتھ سانحہ اے پی ایس پشاور، سانحہ کوئٹہ، سانحہ گلشن اقبال پارک لاہور، سانحہ واہگہ بارڈر، سانحہ بلدیہ کراچی اور سانحہ کارساز کے شہداء کے ورثاء کو انصاف ملے گا اور پھر کسی امیر کو کسی غریب کو اپنے اقتدار کے لیے کچلنے کی جرات نہیں ہو سکے گی۔

ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ کلبھوشن کی گرفتاری کا سوراغ حکمران خاندان کی شوگر ملوں میں بیٹھے ہوئے انڈین سے ملا، آج بھی شریف خاندان کی ملوں میں 54 بھارتی موجود ہیں، جو واہگہ بارڈر سے لائے جاتے ہیں، وزیر اعلی پنجاب اپنے گیسٹ ہاؤ س میں ان کا استقبال کر تے ہیں اور کسی ایجنسی کو ان کی تلاشی اور کاغذات کی جانچ پڑتا ل کی اجازت نہیں ہوتی، اور اگر کوئی اہلکار اس کی کوشش کرے تو فونوں کے تانتے بندھ جاتے ہیں۔ ہمیں سلامتی کے اداروں کے صبر پر حیرت ہے کہ وہ یہ گھناؤنا کھیل کب تک دیکھتے رہیں گے؟ پاکستان کی سالمیت شٹل کاک بن کر درخواست کرتی پھرتی ہے کہ کوئی ہے مجھے بچانے والا؟ جہاں پاکستان کا آئین اور ریاست انصاف کی منتظر ہو وہاں شہدائے ماڈل ٹاؤن کو انصاف کون دے گا؟ انہوں نے کہا کہ قاتل حکمرانوں کے ملکی سالمیت کے ساتھ دشمنی پر مبنی کردار پر انگلی اٹھائیں تو یہ کہتے ہیں جمہوریت خطرے میں پڑ گئی، نظام خطرے میں پڑ گیا، انہوں نے کہا کہ کراچی کی سر زمین پر پاکستان کو گالی دی گئی، حکومت کہتی ہے کہ خط لکھ دیا ہے، ہم پوچھتے ہیں پاکستان کی سالمیت پر حملے ہو رہے ہیں وزیر اعظم کے لب کیوں سلے ہوئے ہیں، پارلیمینٹ کے فلور پر پاک فوج کے خلاف ہرزہ سرائی کر کے پاکستان کی سالمیت کو زخمی کیا گیا اور یہ مذموم کھیل کھیلنے والے آج بھی وزیر اعظم کے اتحادی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے ہجرت کرنے اور جان، مال، اولاد کی قربانیاں دینے والے پاکستان کو گالی دینے والوں کو کبھی برداشت نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری تحریک قصاص، انصاف، احتساب، اور سالمیت پاکستان کی تحریک ہے اس کے ذریعے کرپشن اور دہشت گردی کے گٹھ جوڑ کا خاتمہ ہوگا، سالمیت پاکستان کی اس تحریک کے ذریعے پہاڑوں کی چوٹیوں پر بیٹھے ہوئے بلوچوں کو بھی ملکی ترقی اور سالمیت کے تحفظ کے دھارے میں لائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کرپٹ شریف حکومت پاکستان کی سالمیت کو شہید کر نے کی سازش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب سیاست نہیں ریاست کا مسئلہ ہے، پاکستان کی 20 کروڑ عوام، ہزاروں شہداء اور مظلوموں کے حقوق کا مسئلہ ہے۔ قصاص تحریک کی ابتداء شہدائے ماڈل ٹاؤن سے ہوئی مگر اس کی کامیابی سے پاکستان کے ہر شہید و مظلوم کو انصاف ملے گا۔

احمد نواز انجم نے کہا انصاف دینے والوں کی آنکھیں بند ہیں۔ دو سال سے انصاف نہیں ملا۔ جنرل راحیل شریف صاحب 14 لاشیں انصاف کی منتظر ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سانحہ ماڈل ٹائون کا کیس نیشنل ایکشن پلان کے تحت بننے والی انسداد دہشت گردی کی فوجی عدالت میں چلایا جائے۔

پاکستان عوامی تحریک کوئٹہ کے صدر میر بختیار رند نے دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہدائے ماڈل ٹاؤن کے قصاص، حکمرانوں کے احتساب اور استحصالی نظام سے نجات تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر طاہرالقادری 20 کروڑ عوام کے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ 17 جون کو سانحہ ماڈل ٹاؤن میں پاکستان کی تاریخ کی بدترین ریاستی دہشت گردی کرائی گئی۔ حکمرانوں نے پولیس اور کالعدم تنظیموں کے دہشت گردوں سے ماڈل ٹاؤن میں دو خواتین سمیت 14 لوگوں کو شہید اور سو سے زائد کو گولیوں سے زخمی کرایا۔ دو سال گزر گئے ملک کے کسی ادارے نے اب تک انصاف نہیں دیا۔ جب انصاف اور عدالتیں بکنے لگیں، انصاف ناپید ہو جائے، غریب کو اسکا حق نہ ملے تو بغاوت پھیلتی ہے۔ انھوں نے کہا ریاست اور ریاستی اداروں نے انصاف نہ دیا تو اپنا حق چھین کر لیں گے۔ آلو سموسے پر سوموٹو ایکشن لینی والی عدلیہ کو 14 لوگوں کی شہادت نظر کیوں نہیں آئی؟

تبصرہ

Top