ڈاکٹر حسین محی الدین قادری کا وکٹوریا میں شہادت امام حسین علیہ السلام کانفرنس سے خطاب

منہاج القرآن وکٹوریا (آسٹریلیا) کے زیراہتمام ’’ذکر سیدنا امام حسین علیہ السلام کانفرنس‘‘ منعقد ہوئی، جس میں منہاج القرآن کے صدر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے خصوصی خطاب کیا۔ منہاج القرآن وکٹوریا کی طرف سے منعقدہ کانفرنس میں تحریک کے کارکنان اور مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے ممتاز پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

اس موقع پر انہوں نے ’’فلسفہ شہادت امام حسین‘‘ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضرت امام حسین جان دے کر سرخرو ہو گئے۔ یزید تخت بچا کر بھی قیامت تک کے لئے رسوا ہو گیا۔ اہل بیت اطہار کی زندگیاں حسب نسب ، وقت سب کچھ دین مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے وقف تھا۔ حضرت امام حسین علیہ السلام نے اپنی زندگی کے ہر سانس میں اللہ کی توحید اور اسکے سچے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت بیان کی اور اس راستے میں سب کچھ لٹا دیا، آخر میں جان بچی تھی وہ بھی قربان کر دی۔

ڈاکٹر حسین محی الدین القادری نے کہا کہ پوری دنیا میں محرم الحرام کے پہلے عشرہ میں اہل بیت اطہار کی قربانیوں کا غم محسوس کیا جاتا ہے۔ اس عظیم قربانی کو اللہ رب العزت کی طرف سے بھی اس طرح قبولیت میسر آئی کہ اہل بیت کے مصائب کے تذکرہ پر مسلمان تو کیا غیر مسلموں کی آنکھیں بھی نم ہو جاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ اللہ کا وعدہ ہے کہ جو سچے دل سے اس کا ذکر کرے گا اور اسی کے ذکر میں اپنی آخری سانسیں لے گا تو اللہ تعالیٰ قیامت تک کےلئے اسکا ذکر بلند کر دے گا۔ حضرت امام حسین نے کربلا کے تپتے ہوئے صحرا میں نیزے پر اللہ کا ذکر کیا تو پھر کیوں نہ اللہ رب العزت اپنے وعدے کے مطابق ان عظیم قربانی کا تذکرہ زبان زدعام نہ کرتا۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کا کوئی خطہ ایسا نہیں جہاں حضرت امام حسین کی قربانی اور واقعہ کربلاکا ذکر نہ ہوتا ہو۔ انہوں نے کہا کہ حضرت امام حسین نے جام شہادت نوش کر کے پوری انسانیت کو یہ پیغام دیا کہ حق کے راستے میں موت بھی آ جائے تو اسے قبول کر لیا جائے مگر باطل کے ساتھ کسی صورت سمجھوتا نہ کیا جائے۔

تبصرہ

Top