شکر گزاری نعمتوں میں اضافہ اور دلوں میں سکون کا ذریعہ بنتی ہے: ڈاکٹر حسن محی الدین قادری

شکر گزار لوگ معاشرے میں مثبت سوچ اور بھائی چارے کو فروغ دیتے ہیں
نا شکری، مایوسی اور معاشرتی بگاڑ کو جنم دیتی ہے: چیئرمین سپریم کونسل منہاج القرآن

شکر گزاری نعمتوں میں اضافہ اور دلوں میں سکون کا ذریعہ بنتی ہے: ڈاکٹر حسن محی الدین قادری

لاہور (13 جنوری 2026) چیئرمین سپریم کونسل منہاج القرآن انٹرنیشنل پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے کہا ہے کہ آج ہر انسان مسائل اور پریشانیوں میں گھرا نظر آتا ہےان پریشانیوں کی سب سے بڑی وجہ ناشکری اور بے صبری ہے۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا اور اس کی عطا کردہ نعمتوں کی قدر کرنا اسلامی تعلیمات کا بنیادی حصہ ہے۔ شکر گزار لوگ نہ صرف اپنی انفرادی زندگی میں سکون اور اطمینان پاتے ہیں بلکہ وہ پورے معاشرے کےلئے خیر، امید اور مثبت تبدیلی کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔ ایسے افرادرب کی رضا پر راضی رہتے ہیں اور نا شکری کی بجائے صبر و شکر کو اپنا شعار بناتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ قرآن کریم میں شکر ادا کرنے والے بندوں کو محبوب قرار دیا گیا ہے اور فرمایا گیا ہے کہ شکر گزاری نعمتوں میں اضافہ کا سبب بنتی ہے۔ شکر گزار انسان اپنی زندگی میں ملنے والی ہر نعمت خواہ وہ صحت ہو، رزق ہو، علم ہو یا امن اس کی قدر کرتا ہے اور اسے درست طریقے سے استعمال کرتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ شکر گزاری انسان کے اندر عاجزی، قناعت اور برداشت پیدا کرتی ہے جبکہ نا شکری معاشرتی بگاڑ، بے چینی اور مایوسی کو جنم دیتی ہے شکرگزار افراد معاشرے میں محبت، برداشت اور بھائی چارے کو فروغ دیتے ہیں، خدمت خلق کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ موجودہ دور میں جب مایوسی اور منفی رویے عام ہوتے جا رہے ہیں شکر ادا کرنے اور نعمتوں کی قدر کرنے والے افراد معاشرے کےلئے امید کی روشن مثال ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر افراد اور اقوام اجتماعی طور پر شکر گزاری کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں تو معاشرتی استحکام، اخلاقی بلندی اور خوشحالی کا حصول ممکن ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہر فرد کو چاہئے کہ اپنی روز مرہ زندگی میں شکر کو محض الفاظ تک محدود نہ رکھے بلکہ اپنے کردار، عمل اور رویے سے بھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی قدر کرے تاکہ ایک پر امن، مضبوط، خوشحال اور مثالی معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکے۔

تبصرہ

Top