حیدرآباد انڈیا میں شیخ الاسلام کا درس اصول حدیث (دوسرا روز)

مورخہ: 04 مارچ 2012ء

منہاج القرآن انٹرنیشنل انڈیا حیدر آباد دکن کے زیراہتمام سٹی کنونشن سنٹر حیدرآباد میں دو روزہ دورہ اصول حدیث 4 مارچ 2012ء کو اختتام پزیر ہو گیا، جس میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے اصول حدیث پر خصوصی خطاب کیا۔ درس اصول حدیث کی اس خصوصی نشست میں خطباء، علماء و مشائخ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ جن میں مولانا سید کاظم پاشا قادری الموسوی، مولانا سید غوث محی الدین قادری اعظم پاشاہ، مولانا قاضی سید اعظم علی صوفی قادری، مولانا حبیب موسی الحسینی، مولانا حیات اللہ قادری، سید آل رسول قادری حسنین پاشاہ، ڈاکٹر امین الدین اویسی، عبدالمنعم حاجی سیٹھ، نعیم سیٹھ، مولانا حبیب احمد الحسینی اورر دوسرے علماء و مشائخ شامل تھے۔

دو روزہ دورہ اصول حدیث کی پہلی نشست 3 مارچ 2012ء کو منعقد ہوئی تھی۔ دوسرے روز بھی پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن پاک اور نعت مبارکہ سے ہوا۔ حافظ و قاری محمد خان قادری ارشد حبیبی نے قرآت پیش کی۔ جبکہ جلسہ حدیث میں نقابت کے فرائض بھی انہوں نے خود سر انجام دیئے۔

پروگرام کا آغاز شب پونے 9 بجے ہوا۔ ابتداء میں مولانا سید عالم مصطفیٰ قادری الموسوی علی پاشاہ نے اظہار خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں حکم دیا کہ تم میرا ذکر کیا کرو، میں تمہارا ذکر کیا کروں گا۔ اس آیت کے پیش نظر ڈاکٹر طاہر القادری نے دنیا میں خدمت دین کی جس راہ کو منتخب کیا ہے۔ اس کی وجہ سے وہ دنیا بھر میں اپنی منفرد پہچان اور ایک علمی اتھارٹی بن چکے ہیں۔ طاہرالقادری کی فکر گنبد خضراء کے فیض سے فیض یافتہ ہے، یہی وجہ ہے کہ مخلوق ان کی آواز کو سن کر کشاں کشاں ان کی طرف بڑھ رہی ہے۔ آج ہمیں اس عالم دین کی قدر کرنی ہوگی، جو کسی ایک مخصوص علاقے اور لوگوں کی ملکیت نہیں بلکہ عالم اسلام کی پہچان بن چکے ہیں۔

خطاب شیخ الاسلام

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے دورہ اصول حدیث میں پہلے روز کے موضوع کے تسلسل کو آگے بڑھایا اور ساڑھے 4 گھنٹے تک خطاب کیا۔ آپ نے کہا کہ تمام آئمہ حدیث کا اس بات اور اصول پر اجماع ہے کہ ضعیف حدیث قبول کرنا جائز ہے، صرف کفر و ایمان کا مسئلہ، حرام و حلال کا مسئلہ کے علاوہ باقی تمام معاملات اور امور میں ضعیف حدیث کو قبول کرنا مستحب قرار دیا گیا ہے۔ احکام شرعی کے باب میں اگر ضعیف حدیث سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ اس پر عالم اسلام کے کسی مکتب نے انکار نہیں کیا۔ ہر امام حدیث نے یہ بات مانی ہے کہ جسے ضعیف حدیث کہا جا رہا ہے، حقیقت میں اس کا متن کمزور نہیں بلکہ اس کی صرف اسناد و روایات میں سقم یعنی کمزوری ہے۔ امام بخاری سے تمام آئمہ تک ضعیف حدیث کا بیان کرنا جائز ہے، بلکہ اکثر ضعیف حدیثوں کے اعمال و فضائل احکام شریعت ثابت ہوئے ہیں۔ اگر ضعیف حدیث کو چھوڑ دیا جائے یا ترک کر دیا جائے تو احکام شریعت کو بھی چھوڑنا ہوگا، جو آج ہم ضعیف احادیث کے ثبوت کی وجہ سے بجا لا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کوئی شخص کسی مسلک کا ٹھیکدار نہیں، جہالت اور کم نظری کی وجہ سے مسلک اہل سنت کو پریشان کیا جا رہا ہے۔ اس کے خلاف طرح طرح کی فتوے بازی کا سلسلہ شروع ہے۔ ہر کوئی خود کو اہل سنت کا ٹھیکدار کہہ رہا ہے۔ جبکہ علمی طور پر کسی نے بھی اہل سنت کے لیے کچھ نہیں کیا۔ آج کچھ نام نہاد لوگ اپنے فتووں سے لوگوں کو سنی ہونے کا سرٹیفکیٹ جاری کر رہے ہیں، لیکن وہ سن لیں کہ کسی کے کہنے یا نہ کہنے سے کوئی سنی نہیں ہو جاتا۔ شیخ الاسلام نے کہا کہ وہ علمی روشنی پھیلا کر بدعلمی اور بدعقیدگی اور انا پرستی کی دیواروں کو گرانے کے لیے آئے ہیں۔ اسی انا پرستی نے ہمیشہ اسلام کو نقصان پہنچایا ہے۔ مسلمانوں کو تقسیم کرنے کے فتووں کو ردی کی ٹوکری کی نذر کر دینا چاہیے۔ شیخ الاسلام نے کہا کہ اہل سنت کو ایک فرقہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ یہ طریقہ سواد اعظم کا ہے۔ اہل بیت، صحابہ کرام، تابعین اولیاء اور صلحاء کا مسلک ہے۔ شیخ الاسلام نے واضح طور پر اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بریلوی کوئی مسلک نہیں ہے کیونکہ اعلیٰ حضرت شاہ احمد رضا خان بریلوی نے اپنی کسی کتاب میں کبھی مسلک بریلوی نہیں لکھا۔

آپ نے کہا کہ امام بخاری نے جن 16 لاکھ سے زائد احادیث کو جمع کیا، ان میں سے 3 لاکھ احادیث کو زبانی یاد کیا۔ تین لاکھ میں سے انہوں نے ایک لاکھ احادیث کو صحیح قرار دیا، باقی دو لاکھ احادیث کو امام بخاری نے حدیث حسین یا حدیث ضعیف کی قسم قرار دیا۔ اس طرح انہوں نے اپنی کتاب الجامع الصحیح بخاری میں صرف 7 ہزار احادیث کو شامل کیا۔ امام بخاری کے مطابق انہیں ایک لاکھ صحیح احادیث زبانی یاد تھیں، لیکن وہ تمام کو بخاری میں جمع نہیں کر سکے۔ اس طرح امام احمد بن حنبل کی مثال آپ کے سامنے ہے۔ آپ کو 7 لاکھ احادیث زبانی یاد تھیں، اس میں امام احمد بن حنبل نے 30 ہزار احادیث کو جمع کر کے اپنی حدیث کی کتاب "مسند احمد بن حنبل" مرتب کی۔ امام احمد بن حنبل کے مطابق 7 لاکھ احادیث صحیح ہیں، اگر وہ تمام کو کتاب کی شکل دیتے تو 70 جلدیں ہو جاتی۔ امام ابن الصلاح جو اصول حدیث کے بانیان میں سے ہیں، ان کی مثال بھی آپ کے سامنے ہے۔ ان کے دور کی کتب میں سے کسی مکتب فکر کے علماء نے انکار نہیں کیا ہے۔

یہ کتب ہر مکتب فکر کی جامعات اور تعلیمی اداروں میں پڑھائی جاتی ہیں۔ ان تمام کا اس بات پر اجماع ہے کہ ضعیف حدیث سے بھی استدلال کیا جا سکتا ہے۔ اس سلسلہ میں شیخ الاسلام نے سینکڑوں آئمہ کرام کے نام گنوائے، تمام آئمہ کرام حدیث ضعیف کے استعمال پر اجماع کرتے ہیں تو یہاں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ حدیث ضعیف کو رد کرنے والا کس مذہب سے تعلق رکھتا ہوگا؟ ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے علامہ ابن تیمیہ کے شاگرد حافظ ابن کثیر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ لکھتے ہیں کہ امام بخاری و امام مسلم نے اپنے ذمہ یہ کام ہی نہیں لیا کہ وہ تمام احادیث جن کے صحیح ہونے کا حکم ان تمام احادیث کو شیخیں نے اپنی کتابوں میں جمع نہیں کیا۔ بلکہ طوالت کے خوف سے اس میں سے منتخب احادیث کو شامل کر لیا۔

شیخ الاسلام نے کہا کہ نہ صرف امام بخاری و مسلم بلکہ صحاح ستہ کی کتابوں میں بھی تمام احادیث صحیحہ شامل نہیں ہو سکیں۔ امام بخاری نے اپنی کتاب التاریخ الکبیر میں حدیث کے 40 ہزار راویوں کا ذکر کیا۔ اس میں انہوں نے 30 ہزار سے زائد راویوں کو صحیح قرار دیا۔ اس کے باوجود امام بخاری نے بخاری شریف میں صرف دو ہزار راویوں سے بھی کم احادیث کو شامل کیا۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ بعض لوگ اس بات سے گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ صحیح حدیث صرف بخاری میں ہے۔ اس طرح جو بات گزشتہ 1200 سال میں نہیں کہی گئی، آج کے کاذب، منبر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کھڑے ہو کر الزامات عائد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ احادیث کے معاملہ میں من مانی کرنے کی بجائے بخاری و مسلم کے بشمول صحاح ستہ کو ماننے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ایک حدیث کا ذکر کرتے کیا، جسے بخاری و مسلم دونوں نے بیان کیا۔

ایک مرتبہ اہل مدینہ کے سامنے آقا منبر پر کھڑے ہیں اور سوال کرتے ہیں کہ آج جو چاہو مجھ سے پوچھ لو، اتنے میں ایک شخص اٹھا، جسے لوگ طعنہ دیتے تھے کہ وہ اپنے باپ کی اولاد نہیں ہے۔ اس نے سوال کیا کہ یارسول اللہ میرے نام کا باپ کیا ہے؟ تو آقا علیہ السلام نے ارشاد فرمایا "ابوحذافہ"۔ ایک اور شخص کھڑا ہوا، جسے لوگ حرامی کہتے تھے۔ اس نے سوال کیا کہ میرے باپ کا کیا نام ہے؟ اس پر سرکار علیہ السلام نے ارشاد فرمایا تیرے باپ کا نام سالم ہے۔ جو شیبہ کا آزاد کردہ غلام ہے۔ اس طرح دونوں نے علم غیب کا اور ماضی کا مسئلہ دریافت کیا۔ ایک اور شخص اٹھا، اس نے کہا کہ وہ مرنے کے بعد کہاں جائے گا، جنت میں یا دوزخ میں۔ اس پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم جہنم میں جاو گے۔ تیرا ٹھکانہ دوزخ ہے۔

شیخ الاسلام نے کہا کہ متفق علیہ حدیث سے عقیدہ ثابت ہو رہا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کا یہ عقیدہ تھا کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب جانتے ہیں، وہ ماضی کی خبریں بھی جانتے ہیں اور مستقبل کا حال بھی بتا سکتے ہیں۔ ضعیف احادیث سے کئی احکام شریعت اور اعمال ثابت ہیں۔ اس لیے ضعیف احادیث کو جمع کرنا امام بخاری کی کتابوں سے ثابت ہے۔ شیخ الاسلام نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ عورت کی ماہواری کے متعلق، عیدین کے احکام، صدقہ کےجائز ہونے کے احکام اور دیگر احکام شریعت ضعیف حدیثوں سے ثابت ہیں۔ اس لیے جمہور آئمہ حدیث کے مطابق احکام کے باب میں بھی ضعیف احادیث سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے علماء و مشائخ کو مشورہ دیا کہ وہ دین کی خدمت کے لیے عقائد، فقہ، حدیث اور دیگر علوم پر محنت کریں۔ کیونکہ اسلام کا صحیح پیغام دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لیے تمام علوم سے بہرہ ور ہونا لازمی ہے۔

انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ حیدرآباد دکن میں دوہ روز اصول حدیث کی اس نشست نے ایک علمی تاریخ رقم کر دی ہے۔ جس سے دنیا بھر میں کروڑوں مسلمانوں کے ایمان کو تقویت ملے گی۔ حدیث کے حوالے سے کئی ابہام اور شبہات کا ازالہ ہوگا۔ آپ نے مسلمانوں کو تلقین کرتے ہوئے کہا کہ وہ نفرت پر مبنی فتاویٰ کے ذریعے مسلمانوں کو تقسیم کرنے اور انہیں کافر قرار دینے کی رسم چھوڑ دیں۔ بلکہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسل، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت، صحابہ کرام، تابعین، اولیاء، صالحین کے طریقہ کار پر چلیں اور عشق و محبت کے ذریعے عالم اسلام کو ایک وحدت کی لڑی میں پرو دیں۔

دوسری نشست کے اختتام پر شیخ الاسلام نے شرکاء کو چاروں آئمہ کرام فقہ حنفی، فقہ شافعی، فقہ مالکی، فقہ حنبلی اور صحاح ستہ کے آئمہ حدیث بخاری، مسلم، ترمزی، ابوداود، ابن ماجہ اور نسائی کے علاوہ شریعت و طریقت کے مختلف اسانید احادیث جاری کیں۔

پروگرام کا باقاعدہ اختتام دعا سے ہوا۔

تبصرہ

Top