شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری سے جامعہ نعیمیہ کے سینئر طلباء اور اساتذہ کرام کی ملاقات

قائد تحریک منہاج القرآن شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری سے جامعہ نعیمیہ کے سینئر کلاسز کے طلباء و اساتذہ کی خصوصی ملاقات آپ کی رہائش گاہ پر ہوئی۔ اس موقع پر علامہ فرحت حسین شاہ، علامہ امداد اللہ خان قادری، علامہ میر آصف اکبر، علامہ محمد خلیل حنفی، علامہ عثمان سیالوی اور دیگر اساتذہ بھی موجود تھے۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے ملاقات کے دوران بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ علماء انبیا کے وارث اور اسلاف کی علمی اقدار کے محافظ ہیں، عالم دنیاوی حرص میں مبتلا ہو جائے تو دینی، اخلاقی اقدار مسخ ہو جاتی ہیں اور اسکا نقصان ملک، معاشرے اور نسلیں بھگتتی ہیں۔

ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ عالم کی شناخت علم اور کردار ہے، عالم کی غلطی سے دین بدنام ہوتا ہے، عالم خوف تعصب اور حسد میں مبتلا ہو جائے تو پھر سچ اور جھوٹ کی تفریق ختم ہو جاتی ہے، تنگ نظری اور کم ظرفی سے دل کی تنگی بڑھتی ہے اور دین اسلام ہر قسم کی تنگی سے مبرا ہے، پہلے علماء صوفیا بھی تھے اس لیے ان کی طبیعتوں میں نرمی اور برداشت تھی اور دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی ان کے چاہنے والوں میں کوئی کمی نہیں آئی۔

ڈاکٹر طاہرالقادری نے علوم دینیہ کے طلباء سے کہا کہ قرآن زمین اور آسمان کے علوم کا انسائیکلوپیڈیا ہے، قرآن کی برکتیں سمیٹنے کیلئے اس پر غور و تدبر شرط ہے، حضور نبی اکرم ﷺ کا سب سے بڑا معجزہ قرآن ہے، قرآن و حدیث علوم کے ماخذ ہیں، انہوں نے طلبا کو نصیحت کی کہ سوچ اور فکر میں پاکیزگی لائیں، مطالعہ کو وسعت دیں، قرآن و حدیث کے علم کو محبتیں بانٹنے اور صراط مستقیم پر لانے کا ذریعہ بنائیں۔ ’’لاتفرقو‘‘ کے ربانی حکم پر سختی سے کار بند رہیں، منتشر ملت اسلامیہ اور اہل پاکستان کو متحد اور یکجا کرنے کیلئے علمائے کرام کواپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ دین تنگ نظری کا نام نہیں ہے، اس میں آسانیاں اور وسعتیں ہیں، دین اسلام اقلیتوں کے حقوق کی بات کرتا ہے، کمزور طبقات کی دستگیری کرتا ہے، خواتین، بچوں، مزدوروں یہاں تک کہ حیوانات، پرندوں کے حقوق کی رکھوالی کرتا ہے، دیانتداری کے ساتھ علم حاصل کرنا اور پھر اسے دوسرے تک پہنچانا انبیاء کی سنت ہے۔

تبصرہ

Top