سفرِ معراج حضور ﷺ کو جسم و روح کے ساتھ بیداری کی حالت میں کروایا گیا: پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری

حضور ﷺ کی جسدی معراج کا انکار کرنا حقیقت میں قدرتِ الٰہی کا انکار ہے: صدر منہاج القرآن

سفرِ معراج کی حقیقت یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ کا وہ عظیم مظہر ہے جس میں حضور نبی اکرم ﷺ کو جسم و روح کے ساتھ بیداری کی حالت میں بلایا گیا، نہ کہ محض خواب یا خیال میں۔ یہ سفر زمان و مکان کی قیود سے آزاد اور اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ کے تحت وقوع پذیر ہوا، جس میں مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک اِسراء اور پھر آسمانوں کی وسعتوں میں معراج کا مرحلہ طے پایا۔ اس سفر کا مقصد صرف کرامت دکھانا نہیں تھا بلکہ مقامِ عبدیت کو رفعت عطا کرنا، نماز جیسی عظیم نعمت کا تحفہ دینا اور یہ اعلان کرنا تھا کہ انسان اگر بندگی کے کمال تک پہنچ جائے تو ربّ العالمین خود اُسے اپنے قُرب سے نوازتا ہے۔ قرآن کا لفظ ’’سبحان‘‘ اس حقیقت کی طرف رہنمائی کرتا ہے کہ یہ واقعہ انسانی تدبیر نہیں بلکہ خالصتًا اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ کا ظہور ہے۔ لہٰذا معراجِ مصطفیٰ ﷺ کو جسمانی حقیقت تسلیم کرنا دراصل اللہ تعالیٰ کی قدرتِ مطلقہ، نبوی شانِ عبدیت اور رسالتِ محمدی ﷺ کی عالمگیر عظمت پر ایمان کا تقاضا ہے۔

سفرِ معراج کی حقیقت؟

پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے اپنے عبدِ خاص کو معراج کروائی یعنی اِسراء کے سفر پر لے گئے۔ علماء اور ائمہ لکھتے ہیں کہ جب یہ لفظ ’’عبد‘‘ کہا تو عبد روح اور جسد کا امتزاج ہوتا ہے۔ اگر نورانی یا روحانی سفر ہو تو پھر ’’روح‘‘ کہا جاتا۔ مگر یہاں پر ’’عبد‘‘ کہا گیا ہے تو اِس سے مراد یہ ہے کہ آقا علیہ الصلاة والسلام کا یہ سفر آپ کے جسد مبارک سمیت تھا۔ اِس لیے اللہ تعالیٰ نے ’’عبد‘‘ کہا۔

معراجِ مصطفیٰ ﷺ؛ جسدی سفر اور قدرتِ الٰہی کا ظہور:

پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے مزید کہا کہ: اس گفتگو کا ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ کا براق پر سوار ہونا، پھر آپ ﷺ کی خدمت میں دودھ اور شربت کا پیش کیا جانا، آپ ﷺ کا انبیائے کرام علیہم السلام کی امامت کروانا، اور اسراء و معراج کے سفر کی تمام جزئیات یہ سب اُمور خود اس بات پر واضح گواہی دیتے ہیں کہ یہ سفر محض خواب یا مَنام کے ذریعے نہیں بلکہ حضور ﷺ کے جسدِ مبارک کے ساتھ حقیقتًا طے پایا۔ اگر یہ واقعہ خواب ہوتا تو نہ اس میں وہ امتیاز باقی رہتا اور نہ اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ کا وہ اظہار سامنے آتا جسے قرآنِ مجید نے بیان کیا ہے۔

مزید یہ کہ اگر یہ خواب ہوتا تو ساری اُمتِ محمدیہ کتنے خواب دیکھتی ہے، بزرگانِ دین اولیاء اللہ نے لکھ دیا کہ کئی اولیاء اللہ کو بذریعہ خواب معراج کے سفر کی خیرات نصیب ہوئی ہے۔ تو پھر اُس میں کیا کمال تھا؟ کمال بنتا ہی تب ہے کہ جو شے باقی سب دیکھتے ہوں حضور نبی اکرم ﷺ کو اللہ پاک اُس سے جدا شے عطا فرمائے۔ تو اگر معراجِ مصطفیٰ ﷺ بھی اسی نوعیت کی ہوتی تو اس میں وہ خصوصی شان باقی نہ رہتی جو صرف رسولِ اکرم ﷺ کا امتیاز ہے۔ کمال تو تب ظاہر ہوتا ہے کہ جو چیز دوسروں کو خواب میں نصیب ہو، وہ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب ﷺ کو بیداری کی حالت میں، جسم و روح کے ساتھ عطا فرمائے۔ اسی لیے قرآنِ مجید نے اس واقعے کا آغاز لفظ ’’سبحان‘‘ سے کیا، گویا یہ اعلان ہے کہ یہ رسول ﷺ کا ذاتی کمال نہیں بلکہ اللہ کی قدرتِ مطلقہ کا ظہور ہے۔ پس جو شخص جسدی معراج کا انکار کرتا ہے، وہ دراصل حضور ﷺ کی شان کا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی اس قدرت کا انکار کرتا ہے جو قرآن میں خود بیان فرمائی گئی ہے۔

بلاگر: ڈاکٹر محمد اِقبال چشتی (ریسرچ اسکالر)

تبصرہ

ویڈیو

Ijazat Chains of Authority
Top