اللہ تعالیٰ نے بیداری میں اپنے حبیب ﷺ کو معراج کا معجزہ عطا فرمایا: شیخ حماد مصطفی المدنی القادری

اگر معراج خواب میں ہوتی تو امتیازی معجزہ نہ رہتا، کیونکہ روحانی مشاہدات خواب میں اولیاء کو بھی حاصل ہوتے ہیں: خطاب
اللہ تعالیٰ نے لفظِ ’’سبحان‘‘ کے ساتھ واضح کر دیا کہ معراجِ مصطفیٰ ﷺ عالَمِ بیداری میں پیش آنے والا قدرتِ الٰہی کا بے مثال معجزہ ہے:خطاب

واقعۂ معراج کے بارے میں سب سے بنیادی اور اہم سوال یہ ہے کہ آیا یہ سفر جسمانی تھا یا محض روحانی؟ قرآنِ مجید، احادیثِ صحیحہ اور جمہور اہلِ علم کی تصریحات اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیبِ مکرم ﷺ کو معراج کا یہ عظیم معجزہ عالَمِ بیداری میں عطا فرمایا۔ اگر یہ واقعہ محض خواب کی کیفیت میں پیش آتا تو یہ اپنی امتیازی شان نہ رکھتا، کیونکہ خواب میں روحانی مشاہدات اور قربِ الٰہی تو اولیاء و صالحین کو بھی حاصل ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے اللہ ربّ العزت نے اِسراء کے بیان کا آغاز ہی لفظِ ’’سبحان‘‘ سے فرمایا، تاکہ واضح ہو جائے کہ معراجِ مصطفیٰ ﷺ کوئی خواب یا تصور نہیں بلکہ قدرتِ الٰہی کا وہ بے مثال معجزہ ہے جو جسم و روح کے ساتھ، بیداری کی حالت میں، عقلِ انسانی سے ماورا شان کے ساتھ وقوع پذیر ہوا۔

معراجِ مصطفیٰ ﷺ خواب نہیں، بیداری کا عظیم معجزہ ہے:

شیخ حماد مصطفی المدنی القادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: اللہ ربّ العزت نے ’’سبحان‘‘ کا لفظ بول کر اسراء و معراج سے متعلق ہر قسم کے شک، شبہ اور انکار کی خود تردید فرما دی ہے۔ وہ اپنی شانِ سبحانیت اور عظمتِ کاملہ کو اس لیے بیان فرماتا ہے تاکہ اُن لوگوں کی سوچ کا ردّ ہو جائے جو یہ گمان کرتے ہیں یا دعویٰ کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ کا سفرِ اسراء و معراج بیداری کی حالت میں نہیں بلکہ خواب کی کیفیت میں ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ اپنی بے پایاں قدرت اور ہر عیب و نقص سے پاک ذات کا اظہار فرما کر واضح کرتا ہے کہ یہ واقعہ محض ایک خواب نہیں بلکہ اس کی شان کے مطابق ایک عظیم معجزہ ہے۔

اللہ ربّ العزت گویا منکرین کو متوجہ کر رہا ہے کہ وہ اپنے خاص اور مقرّب بندوں کو عالَمِ رؤیا میں بھی روحانی سیر و سفر عطا فرما دیتا ہے، اولیاء اور صالحین کو بھی اس طرح کے روحانی مشاہدات نصیب ہوتے ہیں۔ اگر معراج صرف خواب کی صورت میں واقع ہوئی ہوتی تو پھر یہ کوئی امتیازی معجزہ نہ رہتا، کیونکہ خواب میں روحانی مشاہدات تو دیگر نیک بندوں کو بھی حاصل ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا اِسراء و معراج کا حقیقی اعجاز اسی میں ہے کہ یہ حضور نبی اکرم ﷺ کو بیداری کی حالت میں، جسم و روح کے ساتھ عطا کی گئی۔

لفظِ ’’سبحان‘‘ اور منکرینِ معراج کا قطعی ردّ:

شیخ حماد مصطفی المدنی نے مزید کہا کہ: اللہ ربّ العزت اُن لوگوں کے شبہات کی صراحت کے ساتھ تردید فرما رہا ہے جو یہ گمان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ، پھر ساتوں آسمانوں، سدرۃ المنتہیٰ، عرشِ الٰہی اور بارگاہِ خداوندی تک عالَمِ رؤیا میں تشریف لے گئے۔ اللہ تعالیٰ واضح فرما رہا ہے کہ وہ اپنے اولیاء اور صالحین کو خواب کی حالت میں بھی روحانی مشاہدات اور قربِ خاص عطا فرما دیتا ہے، لہٰذا اگر معراج محض خواب کی صورت میں واقع ہوتی تو یہ کوئی امتیازی معجزہ نہ رہتا۔

حقیقی معجزہ تو وہ ہوتا ہے جو انسانی عقل کی سمجھ میں نہ آ سکے۔ اسی لیے اللہ ربّ العزت نے اعلان فرمایا کہ معراجِ مصطفیٰ ﷺ خواب میں نہیں بلکہ عالَمِ بیداری میں ہوئی؛ مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک بھی بیداری میں، اور وہاں سے سدرۃ المنتہیٰ، پھر عالَمِ لامکاں تک بھی بیداری میں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں حضور نبی اکرم ﷺ نے اپنے ربّ کا دیدار کیا، انوار و تجلیات کا مشاہدہ فرمایا، بے حجاب و بے نقاب جمالِ الٰہی سے مشرّف ہوئے، اور اپنے ربِ کریم سے براہِ راست کلام کیا۔

یہی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے عالَمِ بیداری ہی میں اپنے حبیب ﷺ کو ایک عظیم تحفہ بھی عطا فرمایا۔ اسی حقیقت کو واضح کرنے کے لیے قرآن نے آغاز ہی میں لفظ ’’سبحان‘‘ ارشاد فرما کر یہ اعلان کر دیا کہ یہ واقعہ محض انسانی تصور یا خواب نہیں بلکہ قدرتِ الٰہی کا بے مثال معجزہ ہے، جس کے سامنے ہر شک اور ہر انکار خود بخود باطل ہو جاتا ہے۔

بلاگر: ڈاکٹر محمد اِقبال چشتی (ریسرچ اسکالر)

تبصرہ

ویڈیو

Ijazat Chains of Authority
Top