تاجدارِ کائنات ﷺ اپنی حیاتِ ظاہری میں ’’حق الیقین‘‘ کے درجے پر فائز ہو ئے: پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری
جب قرآن و حدیث کا علم دل میں اِس طرح اُتر جائے کہ شک کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے، تو یہی علمُ الیقین کی اصل پہچان ہے: صدر منہاج القرآن
واقعۂ معراج النبی ﷺ محض ایک آسمانی سفر نہیں بلکہ یقین کے اُن بلند ترین مدارج کا مظہر ہے جہاں انسانیت کی رہنمائی اپنے نقطۂ کمال کو پہنچتی ہے۔ یہ وہ مبارک لمحہ ہے جس میں تاجدارِ کائنات ﷺ کو حیاتِ ظاہری ہی میں ’’حقُّ الیقین‘‘ کی وہ نعمت عطا ہوئی جو تاریخِ انسانی میں کسی اور کو نصیب نہ ہو سکی۔ معراج نے یہ حقیقت آشکار کر دی کہ حضور نبی اکرم ﷺ کا یقین محض علم یا مشاہدہ تک محدود نہیں بلکہ وہ حقیقتِ مطلقہ کا ایسا ذاتی اور وجدانی ادراک تھا جس میں کسی شک، وہم یا احتمال کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
علمُ الیقین سے عینُ الیقین تک روحانی ارتقاء:
پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: انسان جب زندگی کے سفر میں آگے بڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ایمان کو یقین کی مختلف کیفیات عطا فرماتا ہے۔ سفر کے ابتدائی مرحلے میں انسان تذبذب کا شکار ہوتا ہے، اس کے علم میں پختگی، یقین اور اعتماد نہیں ہوتا۔ وہ بات سنتا ہے، جانتا ہے، مگر دل میں شک اور احتمال باقی رہتا ہے کہ شاید اطلاع درست نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اس مرحلے پر علم یقین کی قوت سے محروم ہوتا ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں، اولیائے کرام اور بزرگانِ دین کو ’’علمُ الیقین‘‘ کے درجے پر فائز فرماتا ہے۔ اس مقام پر جو علم وہ حاصل کرتے ہیں، اس میں یقین کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ قرآنِ مجید پڑھیں یا حدیثِ رسول ﷺ سنیں، ان کے دلوں پر ایسا اثر ہوتا ہے گویا وہ حقیقت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں، حالانکہ وہ ابھی مشاہدہ نہیں بلکہ علم ہی ہوتا ہے، مگر دل میں کسی قسم کا شک باقی نہیں رہتا۔ اگر حضور نبی اکرم ﷺ کا فرمان سننے کے بعد بھی دل میں اگر مگر باقی رہے تو یہ ایمان کی کمزوری کی علامت ہے، بلکہ اس سے ایمان کی اصل بنیاد ہی متزلزل ہو جاتی ہے۔
پھر جیسے جیسے ایمان ترقی کرتا ہے، اللہ تعالیٰ علم کو مزید یقین کی کیفیت عطا فرماتا ہے۔ بعض بندوں کو آگے چل کر مکاشفہ اور مشاہدہ نصیب ہوتا ہے، تو وہی علم ’’عینُ الیقین‘‘ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ جو بات پہلے صرف سُنی اور جانی تھی، اب وہ آنکھوں سے دیکھی جاتی ہے۔ یوں علم، مشاہدہ بن جاتا ہے اور یقین کا درجہ مزید بلند ہو جاتا ہے۔
یقین کے درجات: علم، مشاہدہ اور تجربہ:
ڈاکٹر حسین محی الدین نے مزید کہا کہ: اللہ کے بندے جتنا بھی سفر طے کر لیں اور ولایت کے جتنے بلند مرتبوں پر ہی کیوں نہ فائز ہو جائیں، وہ اس دنیا میں رہتے ہوئے ان کی حقیقت کا ادراک ’’عین الیقین‘‘ سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔ اللہ کے بندے بھلے مقام غوثیّت کے بلند مرتبوں پر فائز ہی کیوں نہ ہو جائیں، علمیت کے بلند مرتبوں پر فائز ہی کیوں نہ ہو جائیں، اُن پر علم لدنی اور معارف کی جتنی بارش ہی کیوں نہ ہو جائے، اُن کا ’’علم الیقین‘‘ ترقی کر کے ’’عین الیقین‘‘ میں تبدیل ہو جاتا ہے، حق الیقین میں تبدیل نہیں ہوتا۔
حقُّ الیقین اس درجۂ یقین کو کہتے ہیں جہاں علم اور مشاہدہ دونوں سے آگے بڑھ کر حقیقت انسان کے اپنے وجود پر طاری ہو جاتی ہے۔ یعنی پہلے کسی شے کا علم حاصل ہو، دل اسے درست مان لے تو وہ علمُ الیقین ہے۔ پھر اسی حقیقت کو آنکھوں سے وقوع پذیر ہوتے دیکھ لیا جائے تو وہ عینُ الیقین بن جاتا ہے۔ مگر جب وہی حقیقت انسان خود بھگت لے، اسے اپنی ذات پر آزما لے اور اس کا تجربہ کر لے تو وہ ’’حقُّ الیقین‘‘ کہلاتا ہے۔
مثال کے طور پر قرآنِ مجید میں جنت کا ذکر آتا ہے: جنت کی نہریں، پھل، درخت، سبزہ اور حسن و جمال یہ سب پڑھنا اور ان پر کامل یقین رکھنا علمُ الیقین ہے۔ کسی اللہ والے کو خواب یا کشف میں جنت کے مناظر دکھا دیے جائیں، یا جاگتی آنکھوں سے اس کے کچھ جلوے نظر آ جائیں، تو یہ ’’عینُ الیقین‘‘ ہے، کیونکہ اس نے اس حقیقت کا مشاہدہ کر لیا۔ مگر جب تک انسان دنیا میں ہے، وہ جنت کو عملاً بھگت نہیں سکتا۔ جنت کا حقیقی تجربہ موت کے بعد ہی ممکن ہے، اور وہی مرحلہ ’’حقُّ الیقین‘‘ کہلاتا ہے۔
اسی طرح دوزخ کے معاملات ہیں۔ ہم دوزخ کے بارے میں سنتے اور پڑھتے ہیں تو یہ علم ہے، کسی کو خواب یا کشف میں دوزخ کا منظر دکھا دیا جائے تو یہ ’’عینُ الیقین‘‘ ہے، مگر اس کے باوجود دل میں ایک اضطراب باقی رہتا ہے کہ اصل حقیقت شاید اس سے بھی بڑھ کر ہو۔ دنیا کی زندگی میں انسان زیادہ سے زیادہ عینُ الیقین تک پہنچ سکتا ہے، مگر حقُّ الیقین کا دروازہ آخرت میں جا کر ہی کھلتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امتِ محمدیہ ﷺ میں کوئی بھی روحانی بلندی اختیار کر لے، دنیا میں عینُ الیقین سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔
اب آئیے آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اس حدیثِ مبارکہ کی طرف، جسے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں۔ وہ بیان فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے صحابۂ کرام کو صومِ وصال، یعنی لگاتار روزہ رکھنے سے منع فرمایا۔ صحابۂ کرام نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! آپ خود بھی تو وصال کے روزے رکھتے ہیں۔ اس پر حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں تمہاری مثل نہیں ہوں، اس لیے میری مشابہت اختیار کرنے کی کوشش نہ کرو، میں تمہاری طرح نہیں ہوں۔ پھر فرمایا: مجھے میرا رب کھلاتا اور پلاتا ہے۔ اس ارشاد کے ذریعے حضور نبی اکرم ﷺ نے اپنی اُس باطنی اور ربّانی کیفیت کو واضح فرما دیا جو عام انسانوں کی دسترس سے باہر ہے۔
اب اسی حقیقت کو واقعۂ معراج کی روشنی میں سمجھا جا سکتا ہے۔ پوری کائنات اپنے کمال کے بلند ترین درجے تک پہنچ کر بھی ’’عینُ الیقین‘‘ سے آگے نہیں بڑھ سکی، مگر معراج کا عظیم واقعہ اس لیے پیش آیا کہ اللہ ربّ العزت تاریخِ انسانیت میں پہلی مرتبہ تاجدارِ کائنات ﷺ کو حالتِ حیاتِ ظاہری میں ’’حقُّ الیقین‘‘ کے مرتبے پر فائز فرمانا چاہتا تھا۔ دیگر تمام مخلوق کسی نہ کسی درجے پر ٹھہر گئی: کوئی علمُ الیقین تک پہنچی، کوئی عینُ الیقین تک، مگر حضور نبی اکرم ﷺ وہ واحد ہستی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے دنیا ہی میں حقُّ الیقین کی کامل نعمت عطا فرما دی۔ یہی معراج کی اصل حقیقت اور شانِ مصطفیٰ ﷺ کا وہ منفرد مقام ہے جو تمام کائنات سے ممتاز ہے۔
بلاگر: ڈاکٹر محمد اِقبال چشتی (ریسرچ اسکالر)


















تبصرہ