اہلِ اللہ کے نزدیک آزمائش محرومی نہیں بلکہ قربِ الٰہی کا پیغام ہوتی ہے: پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری

اولیاء اللہ کی توجہ ظاہری سہولتوں پر نہیں بلکہ باطنی احتساب اور رجوع الی اللہ پر ہوتی ہے: صدر منہاج القرآن

آزمائش کو نعمت میں بدلنے کا راز وہی جانتا ہے جس نے زندگی کو صرف آسائش کا نام نہیں سمجھا بلکہ اُسے قربِ الٰہی کی جستجو قرار دیا ہو۔ اہلِ اللہ کے نزدیک مصیبت محض تکلیف نہیں بلکہ ربّ کی طرف سے آیا ہوا ایک پیغام ہے، جو بندے کو جھنجھوڑ کر اُس کے باطن کو بیدار کرتا ہے۔ وہ آزمائش کو محرومی نہیں سمجھتے بلکہ اُسے اپنے مقام کی بلندی اور تعلقِ الٰہی کی مضبوطی کا ذریعہ جانتے ہیں۔ اسی لیے اُن کی نگاہ ظاہری سہولتوں اور وقتی آرام پر نہیں ٹھہرتی، بلکہ وہ ہر حال میں باطنی احتساب، توبہ، صبر اور رجوع الی اللہ کی طرف متوجہ رہتے ہیں۔ یہی صوفیانہ حکمتِ عملی ہے کہ انسان دکھ کو دروازۂ قُرب بنا لے اور آزمائش کو اپنی روحانی ترقی کا زینہ بنا لے۔

اولیاء اللہ کے ہاں آزمائش کی حکمت:

پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: بزرگانِ دین اور اہلِ اللہ کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ راحت اور آسائش پر سختی اور آزمائش کو ترجیح دیتے ہیں۔ جہاں عام لوگ نرمی، سہولت اور فراخی کو پسند کرتے ہیں، وہاں یہ اہل اللہ دشوار راستہ اختیار کرتے ہیں تاکہ ہر مشقت اُن کے لیے اجر اور قربِ الٰہی کا ذریعہ بن جائے۔ اُن کے نزدیک آزمائش محرومی نہیں بلکہ رب کی خصوصی توجہ کی علامت ہوتی ہے۔ اسی لیے کئی اکابر فرماتے ہیں کہ جو شخص اللہ اور اُس کے رسول ﷺ سے سچی محبت رکھتا ہے، وہ آزمائش کو بھی خوش دلی سے قبول کرتا ہے، کیونکہ حضور نبی اکرم ﷺ کی مبارک زندگی بھی صبر، مشقت اور استقامت سے مزیّن تھی۔

ایک بزرگ کا قول ہے کہ جو شخص آزمائش کو نعمت اور فراخی کو آزمائش نہ سمجھے، وہ دین کی گہری سمجھ نہیں رکھتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی منشاء کو پہچاننے والا جانتا ہے کہ کبھی سختی میں بلندی چُھپی ہوتی ہے اور کبھی فراخی میں غفلت کا اندیشہ۔ اہلِ دل آزمائش کو ترقی کا زینہ سمجھتے ہیں اور ہر حال میں اپنے رب کی رضا کے طالب رہتے ہیں۔

ایک مرتبہ کچھ لوگ حضرت مالک بن دینارؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ وہ ایک تاریک کمرے میں بیٹھے تھے اور اُن کے ہاتھ میں صرف ایک روٹی تھی۔ آنے والوں نے تعجب سے پوچھا: اے امام مالکؒ! کیا آپ کے گھر میں چراغ نہیں کہ روشنی ہو جائے؟ اور کیا روٹی رکھنے کے لیے کوئی برتن یا پلیٹ بھی نہیں؟ حضرت مالک بن دینارؒ نے فرمایا: مجھے اِن باتوں میں نہ الجھاؤ۔ اللہ کی قسم! میں تو اپنے گزشتہ اعمال پر اس قدر نادم ہوں کہ اِن چیزوں کی طرف دھیان دینے کی فرصت ہی نہیں۔ تم مجھ سے چراغ اور پلیٹ کے بارے میں پوچھتے ہو، جبکہ میرا دل اپنی سابقہ لغزشوں کی ندامت میں ڈوبا ہوا ہے۔ مجھے میرے حال پر چھوڑ دو، میرا ذہن تو اپنی اصلاح اور توبہ پر مرکوز ہے۔ یعنی اہلِ دل کی توجہ ظاہری سہولتوں پر نہیں بلکہ باطنی احتساب اور رجوع اِلی اللہ پر ہوتی ہے۔

اہل اللہ کے ہاں فراخی یا آزمائش کی حقیقت:

پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے مزید کہا کہ: حضرت امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جس شخص کو اللہ تعالیٰ دنیا میں فراخی اور آسائش عطا فرمائے اور وہ اُسے محض نعمت سمجھ کر بے فکری سے لطف اندوز ہوتا رہے، اُسے اِس بات کا خوف نہ ہو کہ کہیں یہ اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر اور آزمائش نہ ہو، تو وہ درحقیقت اللہ کے نظام کو سمجھ ہی نہیں پایا۔ مومن کا حال یہ ہونا چاہیے کہ جب اسے کوئی نعمت ملے تو اس کے دل میں شکر کے ساتھ خوف بھی پیدا ہو، کہ کہیں یہ راحت آزمائش کا پیش خیمہ تو نہیں۔

اِسی طرح حضرت ربیع بن انسؓ مثال دیتے ہیں کہ مچھر جب تک بھوکا رہتا ہے زندہ رہتا ہے، لیکن جب سیر ہو کر خون پی لیتا ہے تو مر جاتا ہے۔ انسان کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے: جب تک وہ دنیا کی خواہشات سے خالی اور محتاجی کی کیفیت میں رہتا ہے، اس کا دل زندہ رہتا ہے؛ اور جب وہ دنیا سے سیر ہو کر اس میں ڈوب جاتا ہے تو اس کا دل مردہ ہو جاتا ہے۔

حضرت حفص بن حمیدؒ فرماتے ہیں کہ اہلِ علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ آخرت کی کامل نعمتیں اُسی شخص کو نصیب ہوں گی جس کی دنیا کی نعمتوں میں کچھ نہ کچھ کمی رہی ہو۔ گویا دنیا کی محرومی کبھی کبھی آخرت کی دولت کا پیش خیمہ بنتی ہے۔ اس لیے جب اللہ تعالیٰ کسی نعمت میں کمی رکھے تو بندے کو ناراض ہونے کے بجائے راضی رہنا چاہیے، کیونکہ شاید اسی میں اس کی ابدی بھلائی پوشیدہ ہو۔

ہماری حالت یہ ہو گئی ہے کہ اگر کسی کو اولاد نہ ملے تو شکوہ و فریاد شروع ہو جاتی ہے، اور اگر بیٹیاں مل جائیں تو بیٹے کی خواہش میں ناشکری بڑھ جاتی ہے، گویا اللہ تعالیٰ کی عطا میں کوئی کمی رہ گئی ہو۔ حالانکہ اولاد، خواہ بیٹا ہو یا بیٹی، اللہ کی امانت اور نعمت ہے جو انسان کے رشتوں کو مکمل کرتی اور اسے ذمہ داری کا شعور دیتی ہے۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان اپنی اولاد کو حضور نبی اکرم ﷺ کا امتی سمجھ کر اچھی تربیت دے اور پھر اللہ کے دین کی خدمت میں لگ جائے۔ بڑھتی عمر میں محض بیٹے کی خواہش رکھنا، جبکہ پیچھے بیٹیاں موجود ہوں اور حالاتِ زندگی بھی غیر یقینی ہوں، نہ دانشمندی ہے اور نہ ہی شکر گزاری؛ بلکہ اصل سمجھ داری یہی ہے کہ جو عطا ہو اُس پر راضی رہا جائے اور اُسی میں خیر تلاش کی جائے۔

آخر میں ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے مزید کہا کہ: اللہ تعالیٰ جتنی اولاد عطا فرما دے، انسان کو اُس پر دل سے راضی ہو جانا چاہیے اور یہ سمجھنا چاہیے کہ اُس نے مجھے اس نعمت کے لائق سمجھا ہے۔ اصل دعا یہ ہونی چاہیے کہ اے اللہ! مجھے توفیق دے کہ میں اپنی اولاد کی اچھی تربیت کر سکوں، انہیں نیک بنا سکوں اور حضور نبی اکرم ﷺ کی امت کے لیے مفید اضافہ ثابت کر سکوں۔ اگر ایک اولاد ہو یا دو، یا اللہ کی حکمت سے اولاد نہ بھی ہو، تو اس میں قیامت نہیں آ جاتی۔ نہ ہماری کوئی ایسی منفرد نسل ہے کہ ہمارے بغیر دنیا کا نظام رک جائے گا۔ دنیا میں انسانوں کی کمی نہیں؛ اصل کامیابی یہ ہے کہ بندہ اللہ کے فیصلے پر راضی رہے۔

رضا ہی اصل راز ہے۔ جس حال میں بھی اللہ تعالیٰ رکھے، جو کچھ دے، اُس پر شکر اور قناعت اختیار کی جائے۔ جو نعمت مل گئی، اُسی کی بہتر تربیت اور درست استعمال پر توجہ دی جائے۔ جب بندہ اللہ کی عطا پر خوش رہتا ہے تو اللہ بھی اُس سے راضی ہو کر زندگی کے دوسرے پہلوؤں میں بے شمار برکتیں عطا فرما دیتا ہے۔ اہلِ اللہ وہ ہیں جو دنیا کی نعمتوں پر آخرت کی نعمتوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ وہ اگر دنیا میں کسی کمی کا سامنا کریں تو اسے محرومی نہیں سمجھتے بلکہ یہ یقین رکھتے ہیں کہ شاید اللہ تعالیٰ اُن کے لیے آخرت میں کامل نعمتیں محفوظ کر رہا ہے۔ اسی لیے وہ ہر حال میں راضی، مطمئن اور شکر گزار رہتے ہیں۔

بلاگر: ڈاکٹر محمد اِقبال چشتی (ریسرچ اسکالر)

تبصرہ

ویڈیو

Ijazat Chains of Authority
Top