سیدہ خدیجۃ الکبریؓ نے نہ صرف سب سے پہلے ایمان لا کر نبوت کے پیغام کی تصدیق کی، بلکہ اپنی فکری پختگی، روحانی یقین اور بے مثال مالی قربانی کے ذریعے اسلام کو استحکام بخشا: شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری

جب تمام عرب معاشرہ حضور ﷺ کے ساتھ دشمنی پر متحد ہوگیا، اُس وقت سیدہ خدیجۃ الکبریؓ اور حضرت ابو طالبؑ کی حمایت حضور ﷺ کے لیے مضبوط سہارا بن گئ: شیخ الاسلام کا خطاب

محسنۂ اسلام حضرت سیدہ خدیجۃ الکبری رضی اللہ عنہا کی سیرت، تاریخِ نبوت کے ابتدائی دور کا وہ درخشاں باب ہے جس میں ایمان، بصیرت اور ایثار اپنی کامل ترین صورت میں جلوہ گر نظر آتے ہیں۔ جب پورا عرب معاشرہ حضور نبی اکرم ﷺ کی مخالفت پر متحد ہو چکا تھا اور دعوتِ توحید کے خلاف ہر سمت سے مزاحمت اٹھ کھڑی ہوئی تھی، اُس وقت دو شخصیات ظاہری اَسباب کے درجے میں ڈھال بن کر سامنے آئیں: ایک سیدہ خدیجۃ الکبریٰؓ اور دوسرے حضرت ابو طالب علیہ السلام۔ سیدہ خدیجۃ الکبریؓ نے نہ صرف سب سے پہلے ایمان لا کر نبوت کے پیغام کی تصدیق کی، بلکہ اپنی فکری پختگی، روحانی یقین اور بے مثال مالی قربانی کے ذریعے اس مشن کو استحکام بخشا۔ اُن کی ذات اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ دعوتِ رسالت کی ابتدائی کامیابیوں میں جہاں نبوی عزم کار فرما تھا، وہیں ایک باوفا رفیقۂ حیات کی حکمت، وفاداری اور استقامت بھی شامل تھی، جس نے طوفانِ مخالفت میں چراغِ نبوت کو بجھنے نہ دیا۔

آغازِ وحی کے لمحات اور سیدہ خدیجۃ الکبریٰؓ کا یقینِ کامل:

مجدّد المئۃ الحاضرۃ حضور شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیۃنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: جب حضور نبی اکرم ﷺ غارِ حرا سے واپس تشریف لائے تو آپ پر جلالِ وحی کی کیفیت طاری تھی۔ لبِ مبارک پر بے اختیار الفاظ جاری تھے: زَمِّلُوْنِیْ، دَثِّرُوْنِیْ، یعنی مجھے چادر اوڑھا دو، مجھے ڈھانپ دو۔ آپ ﷺ کے جسمِ اطہر پر کپکپی تھی اور دل پر نزولِ وحی کی عظمت کا بوجھ۔ آپ ﷺ گھر میں داخل ہوئے تو سیدہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا نے بے ساختہ محبت اور شفقت کے ساتھ موٹی چادر اوڑھا دی۔ جب آپ ﷺ نے اپنی کیفیات بیان کیں تو اُن کے چہرے پر خوف نہیں، یقین کی روشنی تھی؛ اضطراب نہیں، ایمان کی استقامت تھی۔ وہ تو برسوں سے اُس ساعت کی منتظر تھیں جب نبوت کا آفتاب پوری آب و تاب کے ساتھ طلوع ہوگا۔

روایات بتاتی ہیں کہ انہوں نے تسلّی کے کلمات کہے: آپ ہرگز نہ گھبرائیں، اللہ آپ کو کبھی رسوا نہ کرے گا؛ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، یتیموں کا سہارا بنتے ہیں، بیواؤں کی دستگیری فرماتے ہیں، محتاجوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں اور مظلوموں کے دکھ بانٹتے ہیں۔ جس ہستی کی سیرت سراپا خیر اور کردار سراپا رحمت ہو، اس کے لیے خدا کی طرف سے لطف و کرم کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ یوں آغازِ وحی کے ان لرزہ خیز لمحوں میں ایک عظیم زوجہ نے اپنے ایمان، بصیرت اور یقین کے حصار میں نبوت کے پیغام کو سہارا دیا۔ یہ واقعہ صرف تسلّی کا نہیں، بلکہ ایمان کی اوّلین شہادت اور رفاقتِ رسالت کی عظیم مثال ہے۔

تبلیغِ رسالت اور معاشی ایثار کی روشن مثال:

شیخ الاسلام نے کہا کہ: اعلانِ نبوت کے بعد حضور نبی اکرم ﷺ کی زندگی کا ایک نیا باب شروع ہو گیا۔ اب ہر سمت سے مخالفتوں کے طوفان اٹھنے لگے۔ قریش کی مزاحمت بڑھتی گئی اور سماجی و معاشی دباؤ شدت اختیار کر گیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو تبلیغِ رسالت کا فریضہ سونپا تو اب تجارت اور ذاتی کاروبار کے لیے وقت نکالنا ممکن نہ رہا۔ پہلے آپ ﷺ سامانِ تجارت لے کر منڈیوں میں جایا کرتے تھے، مگر اب صبح و شام کا ہر لمحہ توحید اور رسالت کے پیغام کی اشاعت کے لیے وقف ہو چکا تھا۔ زندگی کا ایک ایک سانس محبوبِ حقیقی کے دین کو زمین کے گوشے گوشے تک پہنچانے کے لیے صرف ہونے لگا۔ نہ اپنے کاروبار کے لیے مہلت رہی اور نہ ہی ام المؤمنین خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا کے تجارتی معاملات کو بڑھانے کا وقت باقی رہا۔

اسی دوران ایک اور اہم پہلو بھی سامنے آتا ہے۔ حضور ﷺ اگرچہ اپنے چچا کے گھر سے علیحدہ رہنے لگے تھے۔ آپ ﷺ نے اپنے چچا ابو طالب کی خدمت میں عرض کیا کہ میں آپ کے بوجھ کو ہلکا کرنا چاہتا ہوں، اس لیے آپ کے ایک بیٹے کو اپنی کفالت میں لے لیتا ہوں۔ چنانچہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو اپنے گھر لے آئے، تاکہ ان کی پرورش اپنی نگرانی میں کریں۔ حضرت علیؓ وہ خوش نصیب شخصیت ہیں جن کی پرورش ابتدا ہی سے آغوشِ مصطفیٰ ﷺ میں ہوئی۔ اسی طرح ان کے دوسرے بھائی حضرت طالب کی کفالت کا انتظام آپ ﷺ نے اپنے چچا حضرت عباس بن عبد المطلبؓ کے سپرد کر دیا۔ یوں خاندان کے معاشی بوجھ کو باہمی تعاون سے تقسیم کر دیا گیا، تاکہ ابو طالب پر ذمہ داریوں کا بوجھ کم ہو جائے۔ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حضور ﷺ نے نبوت کے عظیم مشن کے ساتھ ساتھ خاندانی ذمہ داریوں کو بھی نہایت حکمت اور شفقت کے ساتھ ادا فرمایا۔

شیخ الاسلام نے مزید کہا کہ: اعلانِ نبوت کے بعد حالات یکسر بدل گئے۔ پورا معاشرہ مخالفت پر آمادہ تھا، ماحول دشمنی سے لبریز تھا، اور عالمِ کفر و شرک حضور نبی اکرم ﷺ کے خلاف گویا ایک چٹان کی طرح متحد ہو چکا تھا۔ ظاہری اسباب کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے سوا دنیا میں صرف دو ہستیاں تھیں جو کُھلے طور پر آپ ﷺ کی پشت پناہی کر رہی تھیں: ایک آپ ﷺ کی وفادار زوجہ سیدہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا، اور دوسرے آپ کے مشفق چچا حضرت ابو طالب علیہ السلام۔

حضرت خدیجہؓ وہ عظیم خاتون ہیں جنہیں تاریخِ اسلام میں سب سے پہلے کلمۂ حق قبول کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ غارِ حرا میں جب پہلی وحی نازل ہوئی تو حضور ﷺ نے سب سے پہلے یہی خبر انہیں سنائی۔ اس وقت تک اعلانِ نبوت عام نہ ہوا تھا اور نہ ہی کسی اور نے یہ واقعہ سنا تھا۔ مگر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا پندرہ برس سے حضور ﷺ کی سیرتِ طیبہ کا مشاہدہ کر رہی تھیں۔ وہ جانتی تھیں کہ اگر نبوت کا تاج کسی سر پر سج سکتا ہے تو وہ اسی پاکیزہ کردار کے مالک کا ہے۔ چنانچہ خبر سنتے ہی وہ بلا تردد ایمان لے آئیں اور یوں ایمان کی پہلی شمع روشن ہو گئی۔

اس کے بعد انہوں نے محض الفاظ سے نہیں بلکہ عمل سے وفاداری کا ثبوت دیا۔ اپنا مال، اپنی تجارت اور اپنی ساری جمع پونجی حضور ﷺ کے مشن پر نچھاور کر دی۔ اسلام کی ابتدائی دعوت کے مشکل ترین دنوں میں جب مخالفتیں بڑھتی گئیں، جب حضور ﷺ کے مقدس خون کے پیاسے لوگ ہر سو حملوں کی تدبیریں کر رہے تھے، جب معاشرتی مقاطعہ اور اقتصادی پابندیاں عائد کی جا رہی تھیں، اس وقت بھی سیدہ خدیجہؓ ثابت قدمی سے آپ ﷺ کے ساتھ کھڑی رہیں۔

دوسری طرف حضرت ابو طالبؑ اپنی سماجی حیثیت، اثر و رسوخ اور قبائلی طاقت کے ذریعے گھر سے باہر حضور ﷺ کا دفاع کرتے رہے۔ یوں ایک طرف سیدہ خدیجہؓ کی مالی قربانی تھی اور دوسری طرف حضرت ابو طالبؑ کی سیاسی و قبائلی پشت پناہی۔

جب قریش کے سرداروں نے فیصلہ کیا کہ اگر محمد ﷺ توحید اور رسالت کی تبلیغ سے باز نہ آئے تو بنو ہاشم کا مکمل سماجی و معاشی بائیکاٹ کر دیا جائے، تب بھی یہ دونوں عظیم شخصیات استقامت کے ساتھ حضور ﷺ کے شانہ بشانہ رہیں۔

استقامتِ رسالت اور عامُ الحُزن کا کربناک باب:

شیخ الاسلام پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے مزید کہا کہ: جب مخالفتوں کا طوفان شدت اختیار کر گیا تو حضرت ابو طالبؑ نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے عرض کیا: اے میرے پیارے بھتیجے! میں تنہا شخص ہوں اور میرے کندھوں پر بوجھ بڑھتا جا رہا ہے، کیا یہ ممکن ہے کہ اس مخالفت کی شدت کچھ کم کر دی جائے؟ حضور نبی اکرم ﷺ نے عزم و یقین سے فرمایا: چچا جان! اگر مشرق سے مغرب تک ساری دنیا بھی میری مخالفت پر اُتر آئے اور کوئی ایک شخص بھی میری دعوت کا حامی نہ رہے، تب بھی محمد ﷺ توحید کا پیغام انسانیت تک پہنچانے سے باز نہیں آئے گا۔

یہ سن کر حضرت ابو طالبؑ نے کہا: اگر آپ کا عزم اتنا مضبوط ہے تو ربِّ کعبہ کی قسم! آپ اپنا کام جاری رکھیے، میرا آخری خون کا قطرہ بھی آپ کی حفاظت کے لیے حاضر ہے۔ پھر انہوں نے اہلِ عرب کو مخاطب کر کے اعلان کیا: تم جو چاہو کر لو، محمد ﷺ نہ اپنے مشن سے پیچھے ہٹ سکتے ہیں اور نہ میں ان کا ساتھ چھوڑ سکتا ہوں۔

مخالفت یہاں تک بڑھی کہ بنو ہاشم کا سماجی و معاشی مقاطعہ کر دیا گیا اور حضور ﷺ، آپ کی زوجہ محترمہ سیدہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا، حضرت ابو طالب اور خاندانِ بنی ہاشم کو تین سال کے لیے شعبِ ابی طالب کی گھاٹی میں محصور کر دیا گیا۔ یہ تین سال نہایت کٹھن اور آزمائش سے بھرپور تھے۔ فاقوں، تنگ دستی اور مسلسل دباؤ نے سب کو متاثر کیا، خصوصًا حضرت خدیجہؓ جو عمر کے آخری حصے میں تھیں۔ بڑھاپے اور مسلسل مشقت نے ان کی صحت کو کمزور کر دیا۔ جب حضور ﷺ کی عمر مبارک تقریباً 47 برس تھی تو یہ محاصرہ شروع ہوا اور پچاس برس کی عمر میں اس آزمائش سے رہائی ملی۔ مگر یہ راحت زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ اسی سال پہلے حضرت خدیجہؓ کا وصال ہوا اور کچھ ہی عرصہ بعد حضرت ابو طالبؑ بھی اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔

یہ دونوں عظیم شخصیات ابتدا ہی سے حضور نبی اکرم ﷺ کی ڈھال اور سہارا تھیں۔ ان کی جدائی نے آپ ﷺ کے قلبِ مبارک کو گہرے رنج میں مبتلا کر دیا۔ اسی لیے اس سال کو آپ ﷺ نے ’’عامُ الحُزن‘‘ یعنی غم کا سال قرار دیا۔ حضرت خدیجۃ الکبریؓ کا وصال تقریباً 65 برس کی عمر میں 11 رمضان المبارک، دسویں سالِ نبوت میں ہوا۔ یوں ایمان، وفا اور قربانی کا ایک درخشاں باب تاریخِ اسلام میں ہمیشہ کے لیے ثبت ہو گیا۔

بلاگر: ڈاکٹر محمد اقبال چشتی (ریسرچ اسکالر)

تبصرہ

ویڈیو

Ijazat Chains of Authority
Top