علم کی عظمت اُس کی پیچیدگی میں نہیں، بلکہ اُس کی سادگی اور اِفادیت میں ہے: پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری
علم کا مقصد اپنی بلندی دکھانا نہیں بلکہ علم کا مقصد لوگوں کو سمجھانا ہے: صدر منہاج القرآن
حقیقی علم وہی ہے جو دلوں تک پہنچے، ذہنوں کو روشن کرے اور لوگوں کی رہنمائی کرے: صدر منہاج القرآن
آپ کا علم اُسی وقت مفید اور مؤثر بنتا ہے جب وہ دلوں تک رسائی حاصل کرے اور ذہنوں میں روشنی پیدا کرے۔ علم کی عظمت اُس کی پیچیدگی، ثقیل اصطلاحات یا مشکل تراکیب کے انداز میں نہیں، بلکہ اُس کی سادگی، وضاحت اور اِفادیت میں پوشیدہ ہے۔ اگر علم سننے والے کے لیے قابلِ فہم نہ ہو تو وہ محض الفاظ کا انبار رہ جاتا ہے، لیکن جب وہ آسان اور حکیمانہ اسلوب میں پیش کیا جائے تو وہ فکر کو جِلا بخشتا اور عمل کو سمت عطا کرتا ہے۔ علم کا مقصد اپنی قابلیت کا اظہار کرنا نہیں بلکہ دوسروں کو سمجھانا، رہنمائی کرنا اور اُن کی فکری سطح کو بلند کرنا ہے۔ جو علم انسانوں کو قریب لائے، اُن کے شبہات دور کرے اور انہیں شعوری پختگی عطا کرے، وہی علم حقیقت میں زندہ، بامقصد اور با اَثر کہلاتا ہے۔
علم کی اَصل غرض و غایت:
پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: جب سے انسان اِس دنیا میں آیا اور اللہ تعالیٰ نے اُسے پیدا فرمایا، اس نے آنکھ کھولتے ہی اپنے اردگرد کی کائنات کو دیکھا۔ کہیں سرسبز باغات، کہیں دن کی روشنی، کہیں رات کی تاریکی؛ کبھی آسمان پر چمکتے ستارے، کبھی چاند کا نکلنا اور سورج کا غروب ہونا۔ اس نے لوگوں کے حالات دیکھے، زمانے کے بدلتے ہوئے رنگ دیکھے۔ انہی مشاہدات کے ساتھ اس کے ذہن میں سوال پیدا ہوتے گئے، اور یہی سوال اس کے علمی سفر کی ابتداء بنے۔ جس کے دل میں سوال نے جنم لیا، وہ علم کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔
یوں علم کی تاریخ انسان کے ساتھ ساتھ چلتی رہی۔ وقت گزرنے کے ساتھ انسان اور انسانیت ترقی کرتے گئے تو سوال بھی زیادہ پیچیدہ ہوتے گئے، اور ان کے جوابات حاصل کرنا بھی مشکل تر ہوتا چلا گیا۔ لیکن ہر دور میں وہی شخصیت، وہی کتاب اور وہی ادارہ سب سے زیادہ معتبر اور بلند مقام پر فائز ہوا جس نے مشکل مسائل کو آسان انداز میں سمجھایا اور لوگوں کے لیے علم کو قابلِ فہم بنا دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ علم کا مقصد اپنی قابلیت دکھانا نہیں، بلکہ دوسروں کو سمجھانا ہے۔ اگر کوئی شخص مشکل الفاظ اور پیچیدہ اصطلاحات استعمال کرے، بات کو خوبصورت انداز میں بیان تو کرے مگر سامع کی سمجھ میں کچھ نہ آئے، تو ایسا علم اپنی اصل منزل تک نہیں پہنچ پاتا۔ حقیقی علم وہی ہے جو دلوں تک پہنچے، ذہنوں کو روشن کرے اور لوگوں کی رہنمائی کرے۔
علم کی عظمت سادگی اور ابلاغ میں:
پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے مزید کہا کہ: علم کی پیچیدہ اور سوالات سے بھری دنیا میں حقیقی عظمت اُسی کو حاصل ہوتی ہے جو مشکل سے مشکل بات کو آسان بنا کر لوگوں کے ذہن و دل میں اُتار دے۔ بڑا عالم وہ نہیں جو صرف دقیق اصطلاحات اور مشکل عبارات استعمال کرے، بلکہ وہ ہے جو کسی بھی گُتھی کو سلجھا کر عام انسان کی سمجھ تک پہنچا دے۔ اسی طرح کتابوں میں بھی وہی کتاب عظیم شمار ہوتی ہے جس کی بات ہر طبقے کا انسان سمجھ سکے۔
تاریخ میں بے شمار بڑے شعراء اور فارسی دان گزرے ہیں۔ اُن میں شیخ سعدی بھی ہیں اور حافظ شیرازی بھی۔ دونوں اپنے مقام کے اعتبار سے بلند پایہ ہیں، لیکن عام فہم اندازِ بیان نے شیخ سعدی کو عوام و خواص دونوں میں زیادہ مقبول بنا دیا۔ حافظ شیرازی کے کلام میں معرفت کی گہرائی ضرور ہے، مگر اسے سمجھنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ اس کے برعکس مولانا جلال الدین رومی نے حکایتوں اور مثالوں کے ذریعے بلند ترین روحانی حقائق کو اس انداز میں بیان کیا کہ ان کی تصنیف مثنوی معنوی صدیوں بعد بھی زندہ اور زبان زدِ عام ہے۔ خطباء اس کے حوالے دیتے ہیں، اہلِ علم اس سے استدلال کرتے ہیں، اور اس کی حکایات پر بے شمار کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔
اسی طرح شیخ سعدی کی ’’گلستان‘‘ نے اخلاقی اور فکری تصورات کو ایسی سادگی سے پیش کیا کہ وہ ہر دور میں مقبول و معروف رہی۔ اگر یہی مضامین مشکل اور پیچیدہ انداز میں بیان کیے جاتے تو شاید وہ عام لوگوں کی دسترس سے باہر ہو جاتے۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بات خواہ کتنی ہی اعلیٰ کیوں نہ ہو، اگر وہ دل و دماغ تک منتقل نہ ہو سکے تو کتابوں میں بند رہ جاتی ہے اور معاشرے کو فائدہ نہیں پہنچا پاتی۔ اسی لیے کامل علم وہ ہے جو ذہن سے نکل کر دلوں تک پہنچے۔ اللہ تعالیٰ نے انبیاء علیہم السلام کو صرف علم اور کتابیں ہی عطا نہیں فرمائیں بلکہ ابلاغ کی غیر معمولی صلاحیت بھی دی، تاکہ وہ وحی کے پیغام کو عام فہم انداز میں انسانیت تک پہنچا سکیں۔ یہی ابلاغ کی قوت دراصل علم کی تکمیل ہے۔
آخر میں ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے کہا کہ: علم کی مثال بھی کچھ ایسی ہی ہے کہ اگر اس کی تپش سورج کی تمازت کی طرح تیز اور جھلسا دینے والی ہو جائے تو وہ فائدہ پہنچانے کے بجائے سننے والے کو بے زار کر دیتی ہے۔ ایسی صورت میں علم روشنی دینے کے بجائے آنکھوں کو چندھیا دیتا ہے، اور بات دل و دماغ میں اُترنے کے بجائے بوجھ بن جاتی ہے۔ لیکن اگر یہی علم اندھیرے میں جلتے ہوئے چراغ کی مانند ہو تو وہ آہستہ آہستہ روشنی پھیلاتا ہے، دلوں کو منوّر کرتا ہے اور ذہنوں کو آمادہ کرتا ہے۔ سچا اور مثبت علم وہ ہے جو تدریج کے ساتھ انسان کی صلاحیتوں کو نکھارتا ہے، اُس کی فکری تربیت کرتا ہے، شخصیت کو سنوارتا ہے اور شعور کو بنیادوں سے اٹھا کر بتدریج بلندیوں کی طرف لے جاتا ہے۔ ایسا علم نہ صرف موضوعات کو واضح کرتا ہے بلکہ قاری کی فکری استعداد بھی بڑھاتا ہے۔ وہ ذہن پر بوجھ نہیں بنتا بلکہ اُسے وسعت عطا کرتا ہے۔
اس لیے علم محض کسی بلند چوٹی کا نام نہیں کہ جس کی بلندی کو ناپ کر فخر کیا جائے، بلکہ علم اُن ہموار اور محفوظ راستوں کا نام ہے جو انسان کو بغیر ٹھوکر کھائے انہی بلند چوٹیوں تک پہنچا دیں۔ جب کوئی عالم مشکل بات کو آسان بنا کر پیش کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس نے منزل کو پست کر دیا ہے؛ منزل اپنی جگہ بلند رہتی ہے، مگر اس کی مہارت یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے سامع یا قاری کو بتدریج، سہولت اور حکمت کے ساتھ اس بلندی تک پہنچا دے اور راستے ہی میں اس کی استعداد کو بھی پروان چڑھاتا چلا جائے۔ یہی علم کی اصل خوبصورتی اور حقیقی کمال ہے۔
بلاگر: ڈاکٹر محمد اِقبال چشتی (ریسرچ اسکالر)


















تبصرہ