اہلِ بیت علیہم السلام سے محبت دراصل اللہ اور اس کے رسول سے سچی وابستگی کی علامت ہے: پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری

مورخہ: 06 مارچ 2026ء

محبتِ اہلِ بیت وہ نور ہے جو دل کو ایمان کی حقیقت سے روشن کر دیتا ہے: صدر منہاج القرآن

عبادت کی قبولیت کے لیے محض ظاہری اعمال کافی نہیں ہوتے، بلکہ اس کے پیچھے اخلاصِ نیت اور دل کی پاکیزگی بنیادی شرط ہوتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں محبتِ اہلِ بیت علیہم السلام ایمان کی روح بن کر سامنے آتی ہے، کیونکہ اہلِ بیت سے محبت دراصل اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ سے سچی وابستگی کی علامت ہے۔ جب کسی دل میں اہلِ بیت کی محبت جاگزیں ہو جاتی ہے تو وہ دل ایمان کے نور سے منوّر ہو جاتا ہے اور اسی نور کی روشنی میں انسان کی عبادات اخلاص اور صدق کے ساتھ ادا ہوتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ محبتِ اہلِ بیت وہ نورانی کیفیت ہے جو دل کو ایمان کی حقیقت سے روشن کرتی ہے اور بندے کے اعمال کو محض رسم و رواج سے نکال کر حقیقی بندگی اور قربِ الٰہی کا ذریعہ بنا دیتی ہے۔

محبتِ اہلِ بیت اور ایمان کی تکمیل:

پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کی محبت ایمان کی روح اور اس کی تکمیل کا بنیادی تقاضا ہے، کیونکہ ایمان کا اصل مقام دل ہے اور دل ہی وہ مرکز ہے جہاں سے انسان کی نیت جنم لیتی ہے۔ جب دل محبتِ اہلِ بیت علیہم السلام کی روشنی سے منور ہو تو ایمان کو حقیقی استحکام نصیب ہوتا ہے، اور اسی دل سے اٹھنے والی نیت تمام عبادات کی بنیاد بن جاتی ہے۔ اگر دل پاکیزہ نہ ہو اور اس میں محبتِ اہلِ بیت کی حرارت موجود نہ ہو تو بظاہر کی جانے والی عبادات خواہ وہ نماز، روزہ، حج یا زکوٰۃ ہی کیوں نہ ہوں، اپنی حقیقی روح سے محروم رہتی ہیں۔ اس لیے سمجھنا چاہیے کہ عبادت کی قبولیت کا آغاز نیت کی درستی سے ہوتا ہے، نیت کا سرچشمہ دل ہے، اور دل کی پاکیزگی محبتِ اہلِ بیت علیہم السلام کے نور سے وابستہ ہے۔ جب یہ محبت دل میں راسخ ہو جاتی ہے تو اعمال میں اخلاص پیدا ہوتا ہے اور عبادت بارگاہِ الٰہی میں قبولیت کا درجہ حاصل کر لیتی ہے۔

اہلِ بیتِ اطہارؑ کے ساتھ محبت کا اَجر:

ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے کہا کہ: ایک مسلمان کی زندگی میں محبتِ اہلِ بیت اطہار علیہم السلام کا مقام نہایت بلند اور بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ سیدنا علی بن حسین علیہما السلام، جو امام زین العابدینؓ کے نام سے معروف ہیں، اپنے والدِ گرامی امام حسینؓ کے واسطے سے اپنے دادا حضرت علی شیرِ خدا رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کرتے ہیں، اور پھر حضرت علیؓ اسے تاجدارِ کائنات حضور نبی اکرم ﷺ سے نقل کرتے ہیں۔ یہ سند کا تسلسل نہایت خوبصورت اور بابرکت ہے کہ امام زین العابدینؓ سے امام حسینؓ، امام حسینؓ سے حضرت علیؓ اور حضرت علیؓ سے حضور نبی اکرم ﷺ تک نورانی نسبت قائم ہو جاتی ہے۔ اسی وجہ سے بہت سے فقہاء اور بزرگانِ دین فرمایا کرتے تھے کہ جن احادیث کی سند میں اہلِ بیتِ اطہار کے یہ مقدس نام آ جائیں، ان کی برکت اتنی عظیم ہوتی ہے کہ اگر صرف اس سند کو پڑھ کر کسی مریض پر دم کیا جائے تو اللہ تعالیٰ اس کے وسیلے سے شفا عطا فرما دیتا ہے۔ یہ اہلِ بیتِ اطہار کے مقدس اسماء کی برکت ہے۔

سیدنا امام زین العابدینؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک روز رسول اللہ ﷺ نے امام حسنؓ اور امام حسینؓ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: جس شخص نے مجھ سے محبت کی، ان دونوں سے محبت کی اور ان کے والد اور والدہ سے محبت کی، وہ قیامت کے دن میرے ساتھ میرے درجے میں ہوگا۔ اسی طرح حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں ایک درخت ہوں، سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا اس درخت کے پھل کی ابتدائی شکل ہیں، حضرت علیؓ اس کے پھول کو منتقل کرنے والے ہیں، سیدنا حسن و حسینؓ اس درخت کا پھل ہیں، اور اہلِ بیت سے محبت کرنے والے اس درخت کے پتے ہیں، اور یہ سب کے سب جنت میں ہوں گے۔ یہ احادیث اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ محبتِ اہلِ بیت دراصل محبتِ رسول ﷺ کا تسلسل ہے اور یہی محبت انسان کو قیامت کے دن قُربِ مصطفی ﷺ کی سعادت عطا کرے گی۔

محبتِ اہلِ بیت: ایمان کی شرط اور سنتِ مصطفی ﷺ کا تقاضا:

پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے مزید کہا کہ: اس کے برعکس کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنے دلوں میں اہلِ بیتِ اطہار کے لیے پوشیدہ بغض رکھتے ہیں۔ جب اہلِ بیت کا ذکر ہوتا ہے تو ان کے دلوں میں خوشی اور سرور کی کیفیت پیدا نہیں ہوتی، بلکہ ان کے چہروں پر فرحت کے آثار بھی نمایاں نہیں ہوتے۔ اہلِ بیت کی محبت کی بات ہو تو ان کا دل کِھلتا نہیں اور ان پر کوئی روحانی کیفیت طاری نہیں ہوتی۔ ایسے لوگوں کے بارے میں حضور نبی اکرم ﷺ کے ارشادات ہی کافی ہیں۔ حضرت عباس بن عبدالمطلبؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک روز میں نے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! قریش کے بعض لوگ جب آپس میں ملتے ہیں تو نہایت مسکراتے اور خوشگوار انداز میں ملتے ہیں، مگر جب ہم سے ملتے ہیں تو اُن کے چہرے بدل جاتے ہیں اور وہ ایسے اجنبی انداز سے پیش آتے ہیں گویا اُن کے دلوں میں کوئی ناگواری موجود ہو۔ حضرت عباسؓ فرماتے ہیں کہ یہ بات سن کر حضور نبی اکرم ﷺ کے چہرۂ مبارک پر جلال کے آثار نمایاں ہوئے اور آپ ﷺ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، کسی شخص کے دل میں اس وقت تک ایمان داخل نہیں ہو سکتا جب تک وہ اللہ اور اس کے رسول کی خاطر تم اہلِ بیت سے محبت نہ کرے۔

اسی طرح حضرت زید بن ارقمؓ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے حضرت علیؓ، سیدہ فاطمہؓ، امام حسنؓ اور امام حسینؓ کو جمع کر کے فرمایا: جس سے تم جنگ کرو گے میں بھی اس کے ساتھ حالتِ جنگ میں ہوں، اور جس سے تم صلح کرو گے میں بھی اس کے ساتھ صلح کرنے والا ہوں۔

اسی مضمون کو مزید واضح کرتے ہوئے سیدہ عائشہ صدیقہؓ روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: چھ لوگوں پر میں لعنت کرتا ہوں، اللہ بھی ان پر لعنت فرماتا ہے اور تمام گزشتہ انبیاء بھی ان پر لعنت کرتے ہیں۔ پھر آپ ﷺ نے ان لوگوں کی نشان دہی فرمائی: ایک وہ جو کتابِ اللہ میں اپنی مرضی سے تحریف و تاویل کرے، دوسرا وہ جو اللہ کی تقدیر کا انکار کرے، تیسرا وہ جو ظلم و جبر کے ذریعے اقتدار قائم کرے اور اس کے ذریعے ناحق لوگوں کو عزت دے اور حق داروں کو محروم کرے، چوتھا وہ جو اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال قرار دے، پانچواں وہ جو اہلِ بیتِ رسول ﷺ کی حرمت کو پامال کرے، اور چھٹا وہ جو میری سنت کو ترک کرنے والا ہو۔ یہ ارشادات اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ اہلِ بیتِ اطہار کی محبت دراصل ایمان کی علامت اور رسولِ اکرم ﷺ کی تعلیمات کا بنیادی تقاضا ہے۔

بلاگر: ڈاکٹر محمد اِقبال چشتی (ریسرچ اسکالر)

تبصرہ

ویڈیو

Ijazat Chains of Authority
Top