قرآنِ حکیم ایسا سمندرِ علم ہے جس سے ہر دور کے اہلِ دانش اپنی علمی وسعت کے مطابق موتی چنتے رہتے ہیں: پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری

مورخہ: 10 مارچ 2026ء

جتنا انسان کا تعلق قرآنِ مجید سے گہرا ہوتا جاتا ہے، اتنے ہی زیادہ علم و حکمت کے خزانے اس پر منکشف ہوتے چلے جاتے ہیں: صدر منہاج القرآن

قرآنِ مجید وہ الٰہی کتاب ہے جو علم و معرفت کے لامحدود خزانوں سے معمور ہے اور حقیقت یہ ہے کہ یہ عظیم کتاب اپنے اسرار و حقائق ہر دل پر یکساں طور پر نہیں کھولتی، بلکہ اُن خوش نصیب دلوں پر اپنے علم کے دروازے وا کرتی ہے جو اخلاص، طلبِ صادق اور تدبر کے ساتھ اس سے وابستہ ہو جاتے ہیں۔ قرآنِ حکیم درحقیقت ایسا بحرِ بیکراں ہے جس سے ہر دور کے اہلِ علم و دانش اپنی علمی وسعت اور روحانی استعداد کے مطابق موتی چنتے رہتے ہیں۔ جو شخص قرآن کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط کر لیتا ہے، اللہ تعالیٰ اُس کے لیے علم و ہدایت کے دروازے کھول دیتا ہے اور اُسے قرآن، حدیث اور علمِ دین تینوں کی برکتوں سے مالا مال کر دیتا ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ قرآنِ مجید تمام علوم و معارف کا اصل سرچشمہ ہے، جہاں سے فکر، ہدایت اور دانائی کی روشن نہریں ہر زمانے کے انسان کو سیراب کرتی رہتی ہیں۔

قرآنِ مجید: تمام علوم و معارف کا سرچشمہ ہے:

پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: جس شخص کا ارادہ علم حاصل کرنے کا ہو، اُسے چاہیے کہ وہ قرآنِ مجید کے ساتھ اپنا مضبوط تعلق قائم کرے اور اس کی تلاوت و تدبر کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لے، کیونکہ قرآنِ حکیم میں اگلوں اور پچھلوں کی خبریں اور بے شمار علوم پوشیدہ ہیں۔ امام بیہقیؒ کی روایت کے مطابق حضرت امام حسنؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجموعی طور پر 104 آسمانی کتابیں نازل فرمائیں۔ ان تمام کتابوں کے علوم کو چار بڑی کتابوں میں جمع کر دیا گیا: تورات، زبور، انجیل اور قرآن۔ پھر ان تینوں کتابوں کا جامع اور کامل علم اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں رکھ دیا، یوں قرآن تمام آسمانی تعلیمات کا خلاصہ بن گیا۔

حضرت امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ امت کے ائمہ اور علماء جو بھی علمی گفتگو اور اجتہاد کرتے ہیں، اس کی بنیاد دراصل حدیثِ نبوی ﷺ ہوتی ہے، اور حدیث کی اصل بنیاد قرآنِ مجید ہے۔ یعنی جو شخص قرآن کے ساتھ اپنا ایمان اور تعلق مضبوط کر لیتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے قرآن، حدیث اور علمِ دین تینوں کی برکتیں عطا فرما دیتا ہے۔ امام شافعیؒ ہی بیان کرتے ہیں کہ رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: میں صرف اسی چیز کو حلال قرار دیتا ہوں جسے اللہ تعالیٰ نے حلال کیا ہے اور اسی چیز کو حرام قرار دیتا ہوں جسے اللہ نے حرام کیا ہے، اور یہ سب قرآن میں بیان کر دیا گیا ہے۔

اسی طرح حضرت سعید بن جبیرؓ فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ کی کوئی ایسی حدیث معلوم نہیں جس کا اصل مفہوم قرآن میں موجود نہ ہو۔ یعنی قرآنِ مجید میں انسانی زندگی سے متعلق ہر اصول اور ہر بنیادی رہنمائی موجود ہے، خواہ وہ گزشتہ اقوام کی خبریں ہوں، موجودہ حالات ہوں یا آئندہ کے ہونے والے واقعات۔ صحابۂ کرامؓ کا یقین تھا کہ انسان کی زندگی کے اصول، معاشرتی معاملات اور زمانے کے اتار چڑھاؤ سب قرآنِ مجید میں بیان کر دیے گئے ہیں۔ البتہ یہ بات ہر شخص کی علمی بصیرت پر منحصر ہے کہ وہ قرآن سے کتنا علم اور رہنمائی حاصل کر سکتا ہے۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ کسی نے سوال کیا کہ کیا حضور نبی اکرم ﷺ کے 63 سال کی عمر میں وصال کی خبر بھی قرآن میں موجود تھی؟ تو ایک صحابیؓ نے جواب دیا کہ جی ہاں، سورۃ المنافقون جو قرآن کی 63ویں سورت ہے، اس میں اس حقیقت کی طرف لطیف اشارہ موجود ہے۔ اس طرح اہلِ علم کے نزدیک قرآنِ مجید نہ صرف ہدایت کا سرچشمہ ہے بلکہ علوم و معارف کا ایسا سمندر ہے جس سے ہر دور کے اہلِ دانش اپنی استعداد کے مطابق موتی چنتے رہتے ہیں۔

ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے کہا کہ: اس طرح صحابہ کرامؓ بیان کیا کرتے تھے کہ اگر ہماری اونٹ کی نکیل بھی کھو جائے تو وہ بھی ہم قرآن سے ڈھونڈا کرتے ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ:

لو ضاع لي عقال بعير لوجدته في كتاب الله

’’اگر میرے اونٹ کی مہار گم ہو جائے تو میں اُسے بھی قرآنِ مجید سے تلاش کر لوں گا‘‘ (سیوطی، الاتقان فی علوم القرآن، جلد4، ص 332)

قرآن سے تعلق اور علم کے دروازے:

ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے مزید کہا کہ: صحابۂ کرامؓ جب قرآنِ مجید کے بارے میں گفتگو کرتے تھے تو وہ محض مبالغہ یا محاورے کے طور پر بات نہیں کرتے تھے، بلکہ ان کا یقین تھا کہ قرآنِ کریم ایک ایسا سرچشمۂ علم ہے جس سے ہر شخص اپنی استعداد اور اپنے تعلق کے مطابق فیض حاصل کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن سے انسان کو اتنا ہی علم اور بصیرت ملتی ہے جتنا اس کا اس کتابِ الٰہی کے ساتھ تعلق مضبوط ہوتا ہے۔

کسی کو قرآن میں گزشتہ امتوں کی خبریں نظر آتی ہیں، کسی کو اس میں فقہی مسائل اور دینی احکام کی رہنمائی ملتی ہے، اور جب کوئی عالمِ دین اس کا مطالعہ کرتا ہے تو اسے شریعت کے قوانین اور اصول سمجھ میں آتے ہیں۔ اسی طرح جب کوئی عارف یا صاحبِ دل قرآن کے قریب ہوتا ہے تو قرآن کی آیات کے انوار اس کے دل پر خاص پیغامات اور معارف اِلقاء کرتے ہیں۔ ان کے دلوں پر ایسے اسرار اور حکمتیں منکشف ہوتی ہیں کہ بہت سے عُقدے کُھل جاتے ہیں۔ کسی کے نزدیک قرآن صرف احکام و مسائل کی کتاب ہے، کسی کے لیے یہ صرف گزشتہ قوموں کے واقعات کا بیان ہے، مگر جو شخص جتنا زیادہ قرآن کے قریب ہوتا جاتا ہے، اس کے لیے قرآن کی ہدایت کے دروازے بھی اتنے ہی زیادہ کھلتے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ قرآن انسان کو اس کی زندگی کے روزمرہ کے معاملات میں بھی رہنمائی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہمارا اپنا تعلق قرآنِ مجید کے ساتھ کتنا مضبوط ہے۔ اہلِ علم نے قرآن کے علوم کے بارے میں مختلف انداز سے اظہار کیا ہے۔ بعض علماء نے لکھا کہ قرآن میں چار سو علوم موجود ہیں، جبکہ اگر کسی کو زیادہ معرفت نصیب ہو تو وہ اس سے بھی زیادہ علوم کا ذکر کرتا ہے۔ چنانچہ بعض اہلِ علم نے یہ بھی کہا کہ قرآنِ مجید میں سات ہزار علوم پائے جاتے ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ قرآنِ حکیم علم و معرفت کا ایسا بحرِ بیکراں ہے جس کی گہرائی کو ہر شخص اپنی علمی وسعت کے مطابق سمجھتا ہے۔

کبھی کبھی تاریخ کے کسی دور میں ایسی مجدد اور صاحبِ علم شخصیات پیدا ہوتی ہیں جن کا قرآنِ مجید کے ساتھ غیر معمولی اور گہرا تعلق قائم ہو جاتا ہے۔ جب کسی شخصیت کا رشتہ قرآن کے ساتھ اس درجہ مضبوط ہو جائے تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے قرآن کے بے شمار علوم اور معارف کو امت کے سامنے آشکار کر دیتا ہے۔ اسی کی ایک نمایاں مثال شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری مد ظلہ العالی ہیں، جنہوں نے اپنے گہرے قرآنی فہم اور تدبر کے ذریعے قرآنی انسائیکلوپیڈیا کی صورت میں تقریبًا پچیس ہزار موضوعات اور علوم کو مرتب کر کے معاشرے کے سامنے پیش کیا۔ درحقیقت یہ سب اس بات پر منحصر ہے کہ کسی انسان کا قرآنِ مجید کے ساتھ تعلق اور وابستگی کتنی مضبوط ہے؛ جتنا رشتہ گہرا ہوگا اتنے ہی زیادہ علوم اور حقائق قرآن کے خزانوں سے ظاہر ہوتے جائیں گے۔

بلاگر: ڈاکٹر محمد اِقبال چشتی (ریسرچ اسکالر)

تبصرہ

ویڈیو

Ijazat Chains of Authority
Top