جیسے قرآن مجید جیسا کوئی کلام نہیں ویسے ہی سیرت و اخلاقِ محمدی ﷺ جیسی کوئی سیرت نہیں: شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری دامت برکاتہم العالیہ کا ’حضور نبی اکرم ﷺ کے اخلاقِ کریمانہ‘ کے موضوع پر اخلاقی و روحانی تربیتی نشست سے خطاب

رمضان المبارک کی 21ویں شب شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری دامت برکاتہم العالیہ نے “حضور نبی اکرم ﷺ کے اخلاقِ کریمانہ” کے موضوع پر منہاج القرآن انٹرنیشنل کے سیکرٹریٹ ماڈل ٹاؤن لاہور پر منعقدہ اخلاقی و تربیتی مجلس سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ انسانیت کے لیے سب سے بڑا عملی معجزہ ہے اور آپ ﷺ کی زندگی کا ہر پہلو انسان کو اعلیٰ اخلاق، کردار اور خدمتِ خلق کا درس دیتا ہے، امّ المؤمنین حضرت سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالی عنہا کے تاریخی بیان کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں کہا کہ یہ سیرتِ نبوی ﷺ کے بارے میں تاریخِ انسانیت کی اوّلین معتبر شہادت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ محض تسلی کے الفاظ نہیں تھے بلکہ حضور نبی اکرم ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کے طویل مشاہدے پر مبنی ایک جامع گواہی تھی، سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے حضور ﷺ کی کامیابی کا یقین سات اخلاقی اوصاف کی بنیاد پر ظاہر کیا، جن میں صلہ رحمی، سچائی، کمزوروں کی مدد، محتاجوں کی کفالت، مہمان نوازی اور حق کے راستے میں مصیبت زدہ لوگوں کی مدد شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان دراصل سیرتِ محمدی ﷺ کا پہلا جامع تعارف ہے اور اگر سیرتِ طیبہ کو ایک کتاب سمجھا جائے تو یہ بیان اس کتاب کی “سورۂ فاتحہ” کی حیثیت رکھتا ہے، جس طرح قرآن مجید کی ابتداء سورۃ الفاتحہ سے ہوتی ہے اسی طرح سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے سات جملے سیرتِ نبوی ﷺ کے بنیادی اخلاقی اصولوں کو واضح کرتے ہیں۔ ان کے مطابق سورۂ فاتحہ انسان کو انا پرستی سے نکال کر بندگی، عاجزی اور اجتماعیت کا درس دیتی ہے جبکہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بیان کردہ اوصاف بھی ایسے ہیں جن کا تعلق دوسروں کی خدمت اور بھلائی سے ہے نہ کہ ذاتی مفاد سے۔
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری دامت برکاتہم العالیہ نے کہا کہ حضور نبی اکرم ﷺ کی سیرت بذاتِ خود ایک عظیم معجزہ ہے۔ جس طرح قرآن مجید کے بارے میں چیلنج دیا گیا کہ اس جیسی ایک سورت پیش کر کے دکھائی جائے، اسی طرح حضور ﷺ کی چالیس سالہ سیرت اہلِ مکہ کے سامنے بطور دلیل پیش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ چودہ سو سے زائد برس گزرنے کے باوجود نہ قرآن کی مثل کوئی کلام پیش کیا جا سکا اور نہ ہی سیرتِ محمدی ﷺ جیسا کردار دنیا میں سامنے آ سکا، اللہ تعالیٰ نے اعلانِ نبوت سے پہلے چالیس برس تک حضور ﷺ کی سیرت کو بطور دلیل دنیا کے سامنے پیش کیا تاکہ جب دعوتِ توحید دی جائے تو لوگ اس کے پیچھے موجود کردار کی سچائی کو دیکھ سکیں۔ ان کے مطابق دعوت کی اصل قوت الفاظ نہیں بلکہ کردار کی سچائی ہوتی ہے۔
انہوں نے داعیانِ دین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آج کا المیہ یہ ہے کہ ہم دین کی دعوت تو دیتے ہیں مگر اپنے کردار اور اخلاق سے اس کی عملی دلیل پیش نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ قرآن نے دعوت کا اصول واضح کیا ہے کہ لوگوں کو حکمت اور بہترین انداز میں اللہ کی راہ کی طرف بلایا جائے، اگر داعی کے لہجے میں نفرت، سختی اور بدتہذیبی ہو تو ایسی دعوت لوگوں کے دلوں میں اثر پیدا نہیں کرتی۔ انہوں نے کہا کہ حضور نبی اکرم ﷺ کی دعوت رحمت، محبت اور اعلیٰ اخلاق پر مبنی تھی، اسی لیے وہ دلوں کو فتح کرتی تھی۔
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری دامت برکاتہم العالیہ نے کہا کہ قرآن مجید اور سیرتِ نبوی ﷺ دونوں اللہ تعالیٰ کی طرف سے محفوظ معجزات ہیں۔ قرآن الفاظ کی صورت میں محفوظ ہے جبکہ سیرتِ مصطفی ﷺ عملی زندگی کی صورت میں انسانیت کی رہنمائی کرتی ہے اور قیامت تک ہدایت کا کامل سرچشمہ رہے گی۔
روحانی و تربیتی اجتماع کی پہلی نشست میں چیئرمین سپریم کونسل منہاج القرآن انٹرنیشنل پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری، صدر منہاج القرآن انٹرنیشنل پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری، خرم نواز گنڈاپور ناظم اعلی منہاج القرآن انٹرنیشنل، سی ای او ڈسکور پاکستان ڈاکٹر قیصر رفیق، ڈائریکٹر دارالاخلاص ڈاکٹر شہزاد مجددی، رہنما تحریک بیدارئِ اُمّت علامہ ملک شفقت عباس، صدر منہاج القرآن ویمن لیگ ڈاکٹر غزالہ قادری، محترمہ فضہ حسین قادری سمیت نائب ناظمین اعلیٰ، مرکزی سربراہان شعبہ جات و فورمز، علماء و مشائخ اور عامۃ الناس خواتین و حضرات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔



































تبصرہ