شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری دامت برکاتہم العالیہ کا ’’حضور نبی اکرم ﷺ کے اخلاقِ کریمانہ‘‘ کے موضوع پر منعقدہ پانچویں اخلاقی و روحانی تربیتی نشست سے خطاب

لاہور: شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری دامت برکاتہم العالیہ نے منہاج القرآن انٹرنیشنل کے مرکزی سیکرٹریٹ پر ’’حضور نبی اکرم ﷺ کے اخلاقِ کریمانہ‘‘ کے عنوان سے منعقدہ پانجویں اخلاقی و روحانی تربیتی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسان کی باطنی اور روحانی زندگی کی اصل بنیاد رحمت، محبت اور شفقت ہے، اور رسول اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس ان اوصاف کا کامل مظہر ہے۔ آپ ﷺ نے انسانیت کو سکھایا کہ حقیقی کامیابی اس وقت حاصل ہوتی ہے جب انسان اپنی اندرونی دنیا کو رحمت اور محبت کے رشتے سے جوڑ لے۔ لفظ ’’رحم‘‘ اور ’’رحمت‘‘ کا مفہوم صرف ظاہری مہربانی نہیں بلکہ دلوں کو جوڑنے اور انسان کے اندر موجود انتشار کو ختم کرنے کا نام ہے۔ انسان کی باطنی دنیا میں اکثر تضادات اور کشمکش پیدا ہو جاتی ہے۔ خواہشات، جذبات اور مختلف رجحانات آپس میں ٹکرا جاتے ہیں۔ ان تمام متضاد قوتوں کو ایک مرکز پر جمع کرنا اور انہیں محبت و شفقت کے رشتے میں باندھنا دراصل رحمت کا عملی مظہر ہے۔
انہوں نے کہا کہ انسان کے اندر جتنا زیادہ غصہ، سختی اور نفرت ہوگی، اتنا ہی وہ رحمت کے سرچشمے سے دور ہوتا جائے گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے غصے کو ٹھنڈک میں، نفرت کو محبت میں اور سختی کو نرمی میں بدل دے۔ یہ عمل خود بخود پیدا نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے محاسبۂ نفس اور مراقبہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب تک انسان اپنی زبان، لہجے اور طبیعت کو نرم نہیں کرتا، اس وقت تک وہ وحدت اور محبت کے نتائج حاصل نہیں کر سکتا، اگر انسان کی اندرونی قوتیں اپنے اصل مرکز یعنی رحمت سے کٹ جائیں تو معاشرے میں فساد پیدا ہو جاتا ہے۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ معاشرے کے مختلف طبقات—علما، اساتذہ، قائدین اور کارکن اکثر انا اور نفس پرستی کا شکار ہو کر ایک دوسرے سے دور ہو گئے ہیں۔ جب دل رحمت کے مرکز سے کٹ جاتا ہے تو زبان دوسروں کے دل زخمی کرنے لگتی ہے اور انسان مکر و فریب میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
شیخ الاسلام نے اس بات پر زور دیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا تعارف سورۃ الفاتحہ میں ’’الرحمن الرحیم‘‘ کے الفاظ سے کروایا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے وجود میں اللہ کے ساتھ تعلق کی جو صلاحیت رکھی گئی ہے وہ بھی رحمت پر مبنی ہے۔ جب انسان اللہ سے جڑ جاتا ہے تو اس کے اندر وحدت پیدا ہو جاتی ہے اور شرک و انتشار ختم ہو جاتا ہے، انسان کے باطن میں تین بنیادی عناصر ہیں: نفس، قلب اور عقل۔ جب یہ تینوں ایک مضبوط رشتے میں جڑ جائیں تو انسان کی شخصیت مضبوط ہو جاتی ہے اور بیرونی فتنوں کا اثر کم ہو جاتا ہے۔ لیکن جب یہ باطنی رشتہ کمزور ہو جائے تو بیرونی عوامل انسان کو آسانی سے متاثر کر لیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے آج ہماری معاشرتی اور مذہبی زندگی میں اتحاد کی وہ کیفیت نہیں رہی جو ہونی چاہیے۔ دنیا کے موجودہ حالات میں ہر طرف انتشار اور آگ بھڑکی ہوئی ہے۔ بین الاقوامی حالات کو شاید ہم فوری طور پر تبدیل نہ کر سکیں، لیکن کم از کم ہمیں اپنی اندرونی اصلاح ضرور کرنی چاہیے۔ جب انسان کے اندر صلہ رحمی اور خیر پیدا ہو جاتی ہے تو اس کے اثرات پورے معاشرے تک پہنچتے ہیں۔
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری دامت برکاتہم العالیہ کا مزید کہنا تھا کہ ہر انسان کے اندر خیر اور بھلائی کا ایک سرچشمہ ہے۔ دنیاوی خواہشات اور نفسانی تقاضے اس سرچشمے کو خشک کر دیتے ہیں۔ اس لیے انسان کو اپنے باطن کی طرف لوٹنا ہوگا اور اسے دوبارہ زندہ کرنا ہوگا تاکہ خیر اور محبت کی بارش نصیب ہو، جب انسان غفلت کی نیند سے بیدار ہوتا ہے اور اپنے اندر کی حقیقت کو پہچان لیتا ہے تو یہی بیداری اس کے روحانی سفر کی ابتدا بن جاتی ہے۔ صلہ رحمی صرف ایک وقتی عمل نہیں بلکہ ایک مسلسل جدوجہد ہے۔ نفس انسان کو بار بار اپنی طرف کھینچتا ہے، دنیا اپنی طرف بلاتی ہے، مگر سالک کو ہر مرتبہ اپنے قبلہ کی طرف لوٹنا ہوتا ہے۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ جیسے کوئی شخص لاہور سے کراچی سفر کرنا چاہے تو اسے درمیان کے تمام اسٹیشنوں سے گزرنا پڑتا ہے، اسی طرح روحانی سفر بھی مرحلہ وار طے ہوتا ہے۔ جب انسان کے رشتے منقطع ہو جاتے ہیں تو وہ روحانی طور پر مردہ ہو جاتا ہے، اور جب اللہ سے جڑ جاتا ہے تو دوبارہ زندہ ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہماری ترجیحات الٹ گئی ہیں۔ جس چیز کو مقدم ہونا چاہیے تھا اسے مؤخر کر دیا گیا ہے۔ نفس کو نیچے ہونا چاہیے تھا مگر اسے تخت پر بٹھا دیا گیا ہے اور دل کو قید کر دیا گیا ہے۔ اصل ترتیب یہ ہے کہ دل مرکز بنے، عقل اس کی معاون ہو اور نفس تابع ہو۔ جب یہ ترتیب درست ہو جاتی ہے تو انسان کے اندر نرمی، محبت اور ذکرِ الٰہی کی دائمی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔



























تبصرہ