تحریک منہاج القرآن کی کامیابی کسی ایک شعبے تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک ہمہ جہت تحریک ہے: پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری کا اپنے اعزاز میں منعقدہ تقریبِ تحسین سے خصوصی خطاب

لاہور: پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے یونیسکو کی جانب سے چیئر برائے تعلیم، امن اور بین الثقافتی مکالمہ تفویض کئے جانے پر اپنے اعزاز میں منہاجینز فورم کے زیراہتمام مرکزی سیکرٹریٹ ماڈل ٹاؤن لاہور پر منعقدہ تقریبِ تحسین سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کی تقریب محض ایک رسمی اجتماع نہیں بلکہ ایک طویل فکری، علمی اور تحریکی سفر کی یادگار روداد ہے، جس کے پیچھے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری دامت برکاتہم العالیہ کی گزشتہ چار دہائیوں پر محیط جدوجہد، بصیرت اور انقلابی سوچ کارفرما ہے، جب دنیا میں بین المسالک اور بین المذاہب ہم آہنگی کا تصور بھی مشکل تھا، اس وقت شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیہ نے اتحادِ امت، رواداری اور مکالمے کی بنیاد رکھ دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ 1980 کی دہائی میں جب فرقہ واریت اپنے عروج پر تھی، اس وقت مختلف مکاتبِ فکر کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا ایک خواب محسوس ہوتا تھا مگر تحریک منہاج القرآن نے اسے عملی شکل دی۔ بعد ازاں 1990 کی دہائی میں بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لئے جو اقدامات کئے گئے، آج وہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ ماڈل ہیں۔
انہوں نے خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ منہاج القرآن کی جدوجہد محض نظریاتی نہیں بلکہ عملی اور ادارہ جاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ اس فکر کو آگے بڑھانے کے لیے مختلف ادارے قائم کئے گئے، جن میں منہاج ایجوکیشن سوسائٹی، نظام المدارس پاکستان اور بالخصوص منہاج یونیورسٹی لاہور شامل ہیں، منہاج یونیورسٹی لاہور کو “بین الاقوامی چہرہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ ایک فکری، تحقیقی اور عالمی سطح پر اثرانداز ہونے والا مرکز ہے، یونیورسٹی میں قائم کئے گئے ریسرچ سینٹرز، جدید علوم، بین المذاہب مکالمہ، انسدادِ انتہا پسندی، مائیگریشن اسٹڈیز اور اسلامی بینکاری جیسے شعبہ جات اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ ادارہ وقت کے تقاضوں کے مطابق رہنمائی فراہم کر رہا ہے، خاص طور پر “School of Religion & Philosophy” کے قیام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں پہلی مرتبہ غیر مسلم طلبہ کو اپنے مذاہب کی تعلیم حاصل کرنے کا باقاعدہ موقع فراہم کیا گیا، جو کہ ایک تاریخی اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ قدم اور مسلّمہ حقیقت ہے۔
انہوں نے اختتام پر اس حقیقت کو بھی اجاگر کیا کہ منہاج القرآن انٹرنیشنل کی کامیابی کسی ایک شعبے تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک ہمہ جہت تحریک ہے، جو علم، تحقیق، امن، رواداری اور انسانیت کی خدمت کے ہر میدان میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے، حالیہ عالمی اعزاز، یعنی یونیسکو چیئر کے قیام کو ایک غیر معمولی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ محض ایک اعزاز نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے۔ یہ چیئر تحقیق، پالیسی سازی، بین الاقوامی مکالمہ اور امن کے فروغ کے لئے ایک فعال پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گی، جس کے ذریعے عالمی سطح پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے، اس چیئر کے تحت نہ صرف علمی و تحقیقی کام ہوگا بلکہ کمیونٹی انگیجمنٹ کے ذریعے معاشرتی سطح پر بھی تبدیلی لانے کی کوشش کی جائے گی اور یہ سب کچھ منہاج القرآن کی فکر کے تحت انجام پائے گا۔
تقریب میں خرم نواز گنڈاپور، حاجی عبدالغفور، حاجی محمد امین القادری، وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ساجد محمود شہزاد، رجسٹرار پروفیسر ڈاکٹر خرم شہزاد، مفتی عبدالقیوم خان ہزاروی، ڈاکٹر محمد رفیق نجم، علامہ رانا محمد ادریس قادری، کرنل ر خالد جاوید، شیخ فرحان عزیز، ونگ کمانڈر عبدالغفار، پروفیسر ڈاکٹر محمد ممتاز الحسن باروی، ڈاکٹر رانا تنویر حسین، محمد جواد حامد، علامہ میر آصف اکبر قادری، عبد الرحمن ملک، عین الحق بغدادی، محمد عون، میاں کاشف، بابر چودھری، راجہ زاہد محمود، محمد منیر، محمد باسل منیر، حنظلہ قادری، ڈاکٹر حسن فاروق مشوانی، ڈاکٹر یاسر خان، ڈاکٹر نعیم انور نعمانی، ڈاکٹر سجاد العزیز قادری، صوفی مقصود، رانا شکیل، ثاقب بھٹی، آصف سلہریا ایڈووکیٹ، سید امجد علی شاہ، اسامہ مشتاق، احسن چشتی، محمد نعیم یٰسین، عمر دراز قادری، محترمہ فضہ حسین قادری، ڈاکٹر ساجدہ بیگم، ڈاکٹر سائرہ بی بی، ڈاکٹر عمارہ مقصود، عائشہ شبیر، انیلہ الیاس، اُم حبیبہ اسمٰعیل، رابعہ شفق، منہاجینز فورم، منہاج القرآن ویمن لیگ کی مرکزی ذمہ داران اور مرکزی اسٹاف سمیت کثیر تعداد میں شرکت کی۔












































تبصرہ