صحبت کی تاثیر ایسی حقیقت ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں: پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری

مورخہ: 01 مئی 2026ء

ایمان کی حقیقی تجدید الفاظ سے نہیں، بلکہ اہلُ اللہ کی صحبت سے ہوتی ہے: صدر منہاج القرآن

قرآنِ مجید نے نیک لوگوں کی سنگت کو اس لیے لازم قرار دیا کہ انسانی دل محض الفاظ اور معلومات سے نہیں، بلکہ اثر پذیر صحبت سے زندہ اور بیدار ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ صحبت کی تاثیر ایک ایسی اٹل سچائی ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں؛ یہی وہ ذریعہ ہے جو دلوں میں ایمان کی حرارت کو برقرار رکھتا اور اسے زنگ آلود ہونے سے بچاتا ہے۔ اگرچہ علم، خطابات اور تحریریں اپنی جگہ اہم ہیں، مگر ایمان کی حقیقی تجدید ان ذرائع سے نہیں بلکہ اہلُ اللہ کی پاکیزہ صحبت سے ہوتی ہے، جہاں کردار کی روشنی، ذکر کی تاثیر اور اخلاص کی خوشبو انسان کے باطن کو بدل دیتی ہے اور اسے رب کی قربت کے راستے پر گامزن کر دیتی ہے۔

دلوں کی اِصلاح کے لیے صحبتِ صالحین کا کردار:

پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ:

﴿وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ وَلَا تَعْدُ عَيْنَاكَ عَنْهُمْ تُرِيدُ زِينَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَلَا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَنْ ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَوَاهُ وَكَانَ أَمْرُهُ فُرُطًا﴾

’’(اے میرے بندے!) تو اپنے آپ کو ان لوگوں کی سنگت میں جمائے رکھا کر جو صبح و شام اپنے رب کو یاد کرتے ہیں اس کی رضا کے طلب گار رہتے ہیں (اس کی دید کے متمنی اور اس کا مکھڑا تکنے کے آرزو مند ہیں) تیری (محبت اور توجہ کی) نگاہیں ان سے نہ ہٹیں، کیا تو (ان فقیروں سے دھیان ہٹا کر) دنیوی زندگی کی آرائش چاہتا ہے، اور تو اس شخص کی اطاعت (بھی) نہ کر جس کے دل کو ہم نے اپنے ذکر سے غافل کردیا ہے اور وہ اپنی ہوائے نفس کی پیروی کرتا ہے اور اس کا حال حد سے گزر گیا ہے‘‘ [الكهف، 18/28]

اللہ تعالیٰ نے اس آیتِ مبارکہ میں خاص طور پر اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ انسان اپنے آپ کو اُن لوگوں کی صحبت میں مضبوطی سے قائم رکھے جو صبح و شام اپنے رب کو یاد کرتے ہیں اور صرف اسی کی رضا کے طالب ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ یہ بھی فرما سکتا تھا کہ فلاں کتاب پڑھو یا فلاں عمل اختیار کرو، کیونکہ دین میں دیگر اعمالِ صالحہ کی اہمیت بھی اپنی جگہ مسلَّم ہے، لیکن یہاں بالخصوص صحبتِ صالحین پر زور دیا گیا۔

یہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ صحبت کی تاثیر بے مثال ہے، اس کا کوئی متبادل نہیں۔ اگر صرف درس و تدریس، کتابوں اور خطابات کے ذریعے ایمان کی حفاظت ممکن ہوتی، تو آج کے دور میں، جہاں مساجد زیادہ ہیں، مدارس کی تعداد زیادہ ہے، دینی لٹریچر عام ہے اور سوشل میڈیا کے ذریعے علم تک رسائی بے حد آسان ہو چکی ہے، ایمان کی حالت پہلے سے بہتر ہونی چاہیے تھی۔ مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ آج دین سے دوری، گناہوں کی رغبت، اور خصوصًا نوجوانوں میں لادینیت کے رجحانات پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ محض معلومات اور ذرائع ابلاغ ایمان کی حفاظت کے لیے کافی نہیں۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے تربیت کے ایک نہایت اہم جز کو نظر انداز کر دیا ہے، اور وہ ہے بزرگانِ دین اور اہلُ اللہ کی صحبت۔ یہی وہ عنصر تھا جس نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگیاں بدل دیں۔ اگر صرف قرآنِ مجید نازل ہو جاتا اور صحابہ کرام کو حضور نبی اکرم ﷺ کی صحبت نصیب نہ ہوتی، تو کیا وہ وہی عظیم ہستیاں بن سکتے تھے جنہیں تاریخ نے سنہری حروف میں یاد رکھا؟ ہرگز نہیں۔ قرآن نے اپنی تاثیر اُس وقت دکھائی جب وہ صحبتِ مصطفیٰ ﷺ میں ڈھلا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ایمان کی تازگی اور دلوں کی اصلاح کے لیے اہلُ اللہ کی صحبت ناگزیر ہے، کیونکہ صحبت وہ چراغ ہے جو دلوں میں نورِ ایمان کو زندہ رکھتی ہے۔

ایمان کی تجدید کے لیے صحبتِ صالحین کی اہمیت:

پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے مزید کہا کہ: تاجدارِ کائنات ﷺ کے وصالِ مبارک کے بعد نبوت کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکا ہے، اب نہ کوئی نبی آئے گا اور نہ کوئی رسول۔ یہ دروازہ اللہ تعالیٰ نے بند فرما دیا ہے، لیکن رشد و ہدایت، ایمان کے تحفظ اور اس کی سلامتی کا نظام اب بھی جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گا۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص سے حدیث مروی ہے کہ آقا ﷺ نے فرمایا:

إِنَّ الْإِيمَانَ لَيَخْلَقُ فِي جَوْفِ أَحَدِكُمْ كَمَا يَخْلَقُ الثَّوْبُ الْخَلِقُ، فَاسْأَلُوا اللَّهَ أَنْ يُجَدِّدَ الْإِيمَانَ فِي قُلُوبِكُمْ.

’’بے شک ایمان تم میں سے کسی کے دل میں اسی طرح پرانا اور بوسیدہ ہو جاتا ہے جیسے کپڑا پرانا ہو کر گھِس جاتا ہے، لہٰذا اللہ سے دعا کرو کہ وہ تمہارے دلوں میں ایمان کو تازہ فرما دے۔‘‘ (حاکم، المستدرک، جلد1، ص 45، رقم: 5)

پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے مذکورہ بالا حدیث کی توضیح کرتے ہوئے کہا کہ ایمان کی یہ تجدید محض الفاظ یا معلومات سے نہیں ہوتی، بلکہ یہ خاص صحبتوں کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ ایسی صحبتیں جو قرآنِ مجید کی تعلیمات کے عین مطابق ہوں اور جن میں اللہ والوں کی رہنمائی شامل ہو۔ سادہ لفظوں میں یوں سمجھ لیجیے کہ وہ ماحول جہاں قرآن کی صحیح فہم، سنتِ مصطفی ﷺ کی روشنی، اور کسی کامل راہنما کی صحبت میسر ہو، وہی انسان کے ایمان میں نئی روح پھونک دیتا ہے۔ یہ تینوں عناصر جب یکجا ہوتے ہیں تو دلوں میں ایک ایسی تاثیر پیدا ہوتی ہے جو ایمان کو نہ صرف زندہ رکھتی ہے بلکہ اسے مضبوط اور تازہ بھی کرتی ہے۔

یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہیے کہ یہ تاثیر کسی ایک جگہ یا ایک جماعت تک محدود نہیں۔ گزشتہ چودہ سو سال میں اللہ تعالیٰ نے اس امت میں بے شمار اہلُ اللہ پیدا فرمائے، جنہوں نے اپنی صحبت، اپنے کردار اور اپنے فیض کے ذریعے لوگوں کے ایمان کو سنبھالا۔ جو لوگ ان سے وابستہ ہوئے، انہوں نے نہ صرف ایمان کی حفاظت پائی بلکہ قرآن و حدیث کی صحیح تعلیم، درست عقیدہ اور عملی تقویٰ بھی حاصل کیا۔ یہی وہ روحانی سلسلہ ہے جو قیامت تک جاری رہے گا، اور یہی وہ ذریعہ ہے جس کے ذریعے دلوں کو زندگی اور ایمان کو تازگی نصیب ہوتی ہے۔

بلاگر: ڈاکٹر محمد اقبال چشتی (سینئر ریسرچ اسکالر)

تبصرہ

ویڈیو

Ijazat Chains of Authority
Top