اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے محبوب عمل وہ ہے جس پر پابندی کے ساتھ ہمیشہ قائم رہا جائے، خواہ وہ مقدار میں تھوڑا ہی ہو: پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری

مورخہ: 05 مئی 2026ء

استقامت اہلِ ایمان کا وہ جوہر ہے کہ آزمائشوں کی شدّت بھی انہیں راہِ حق سے ہٹا نہیں سکتی:صدر منہاج القرآن

استقامت اور ثابت قدمی محض وقتی جوش کا نام نہیں بلکہ یہ دل کی وہ کیفیت ہے جو بندۂ مومن کو ہر حال میں راہِ حق پر قائم رکھتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں محبوب ترین عمل وہ ہے جس پر پابندی اور دوام کے ساتھ قائم رہا جائے، خواہ وہ مقدار میں تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔ یہی تسلسل انسان کے باطن میں پختگی پیدا کرتا اور اسے آزمائشوں کے طوفان میں بھی متزلزل نہیں ہونے دیتا۔ اہلِ ایمان کی اصل شان یہی ہے کہ حالات کی سختی، مشکلات کی شدت اور آزمائشوں کی تلخی بھی انہیں حق کے راستے سے نہیں ہٹا سکتی۔ درحقیقت استقامت وہ روشن جوہر ہے جو عمل کو قبولیت، کردار کو وقار اور زندگی کو قربِ الٰہی سے ہم کنار کر دیتا ہے۔

صبر و ثابت قدمی: کامیابی کےلیے نبوی پیغام:

پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

أَحَبُّ الأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَلَّ.

’’اللہ تعالیٰ کے ہاں محبوب ترین کام وہ ہے جس پر ہمیشہ عمل کیا جائے اگرچہ وہ قلیل ہو‘‘ (مسلم، الصحيح، جلد1، ص 541، رقم: 783)

یعنی اللہ ربّ العزت کو وہی عمل محبوب ہے جو تسلسل اور پابندی کے ساتھ کیا جائے۔ بزرگانِ دین اپنے اوقاتِ کار کو چار حصوں میں تقسیم کیا کرتے تھے۔ استقامت کا باب بھی بڑا عظیم ہے۔ پچھلی امتوں میں اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام علیہم السلام کو سخت آزمائشوں سے گزارا۔ روایات میں آتا ہے کہ وہ بارگاہِ الٰہی میں عرض کرتے: مولا! تیری مدد کب آئے گی؟ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی استقامت کو کس قدر آزمایا گیا۔ حضرت خباب بن اَرت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:

شَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ بُرْدَةً لَهُ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ قُلْنَا لَهُ أَلَا تَسْتَنْصِرُ لَنَا أَلَا تَدْعُو اللَّهَ لَنَا؟ قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ فِيمَنْ قَبْلَكُمْ يُحْفَرُ لَهُ فِي الْأَرْضِ فَيُجْعَلُ فِيهِ فَيُجَاءُ بِالْمِنْشَارِ فَيُوضَعُ عَلَى رَأْسِهِ فَيُشَقُّ بِاثْنَتَيْنِ وَمَا يَصُدُّهُ ذَلِكَ عَنْ دِينِهِ وَيُمْشَطُ بِأَمْشَاطِ الْحَدِيدِ مَا دُونَ لَحْمِهِ مِنْ عَظْمٍ أَوْ عَصَبٍ وَمَا يَصُدُّهُ ذَلِكَ عَنْ دِينِهِ وَاللَّهِ لَيُتِمَّنَّ هَذَا الْأَمْرَ حَتَّى يَسِيرَ الرَّاكِبُ مِنْ صَنْعَاءَ إِلَى حَضْرَمَوْتَ لَا يَخَافُ إِلَّا اللَّهَ أَوْ الذِّئْبَ عَلَى غَنَمِهِ وَلَكِنَّكُمْ تَسْتَعْجِلُونَ

’’ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شکایت کی۔ آپ اس وقت اپنی ایک چادر پر ٹیک دیئے کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ ہمارے لیے مدد کیوں نہیں طلب فرماتے۔ ہمارے لیے اللہ سے دعا کیوں نہیں مانگتے (ہم کافروں کی ایذا دہی سے تنگ آ چکے ہیں)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”(ایمان لانے کی سزا میں) تم سے پہلی امتوں کے لوگوں کے لیے گڑھا کھودا جاتا اور انہیں اس میں ڈال دیا جاتا۔ پھر ان کے سر پر آرا رکھ کر ان کے دو ٹکڑے کر دیئے جاتے پھر بھی وہ اپنے دین سے نہ پھرتے۔ لوہے کے کنگھے ان کے گوشت میں دھنسا کر ان کی ہڈیوں اور پٹھوں پر پھیرے جاتے پھر بھی وہ اپنا ایمان نہ چھوڑتے۔ اللہ کی قسم یہ امر (اسلام) بھی کمال کو پہنچے گا اور ایک زمانہ آئے گا کہ ایک سوار مقام صنعاء سے حضر موت تک سفر کرے گا (لیکن راستوں کے پرامن ہونے کی وجہ سے اسے اللہ کے سوا اور کسی کا ڈر نہیں ہو گا۔ یا صرف بھیڑئیے کا خوف ہو گا کہ کہیں اس کی بکریوں کو نہ کھا جائے لیکن تم لوگ جلدی کرتے ہو۔‘‘ (بخاری، الصحیح، جلد 3، ص 1322، رقم: 3416)

یعنی آقا ﷺ پیغام یہ عطا فرما رہے ہیں کہ استقامت اختیار کرو اور صاحبِ استقامت بن جاؤ۔

دوامِ عمل: قربِ الٰہی کا راستہ:

ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے مزید کہا کہ: سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

سَدِّدُوا وَقَارِبُوا وَاعْلَمُوا أَنْ لَنْ يُدْخِلَ أَحَدَكُمْ عَمَلُهُ الْجَنَّةَ وَأَنَّ أَحَبَّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَلَّ۔

’’صحیح عمل کرو، (اعلیٰ ترین معیار کے) قریب تر رہو (یعنی میانہ روی اختیار کرو) اور جان لو کہ تم میں سے کسی کا عمل اُس کا جنت میں نہیں لے جائے گا، اور بے شک اللہ تعالیٰ کے ہاں محبوب ترین کام وہ ہے جس پر ہمیشہ عمل کیا جائے اگرچہ وہ قلیل ہو‘‘ (بخاری، الصحیح، جلد5، ص 2373، رقم: 6099)

یعنی اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب وہ عمل ہے جو تسلسل، پابندی اور مواظبت کے ساتھ انجام دیا جائے۔ یہی اس حدیث کا مرکزی پیغام ہے کہ استقامت ہی عمل کی اصل روح ہے۔ بسا اوقات انسان یہ سمجھتا ہے کہ اس نے اپنی زندگی کے چند سال دین کی خدمت میں گزار دیے، اس لیے اس کا حق ادا ہوگیا؛ حالانکہ صرف چند برس خدمت کر لینا استقامت نہیں کہلاتا۔ اگر کسی نے زندگی کے ایک حصے میں نیکی کی اور پھر اسے چھوڑ دیا تو یقینًا اُسے اس مدت کا اجر ملے گا، لیکن باقی زندگی کہاں صرف ہوئی، اس کا حساب بھی ہوگا۔ پانچ، سات یا دس سال کی خدمت پوری عمر کی ضمانت نہیں بن سکتی۔ اسی لیے حضور نبی اکرم ﷺ نے واضح فرمایا کہ اللہ ربّ العزت کے ہاں وہی عمل محبوب اور موجبِ قُرب ہے جو دمِ آخر تک مسلسل جاری رہے۔

بلاگر: ڈاکٹر محمد اِقبال چشتی (ریسرچ اسکالر)

تبصرہ

ویڈیو

Ijazat Chains of Authority
Top