ڈاکٹر حسین محی الدین کی طرف سے بین الاقوامی کانفرنس میں زکوٰۃ کی تقسیم کا نیا ماڈل پیش

مورخہ: 14 مئی 2020ء

زکوٰۃ کی مد میں جمع ہونے والے وسائل روزگار کی فراہمی کیلئے استعمال کیے جائیں: ڈاکٹر حسین محی الدین قادری
عشر زکوۃ ڈیپارٹمنٹ اور سمیڈا باہمی اشتراک سے بیروزگار افراد کو نقد مالی رقم دینے کی بجائے کاروباری اشیاء خرید کر دیں
آن لائن بین الاقوامی کانفرنس میں جسٹس (ر) مفتی تقی عثمانی واسلامک اقتصادی ماہرین کا اظہار خیال

لاہور (14 مئی 2020) منہاج القرآن انٹرنیشنل کے صدر منہاج یونیورسٹی لاہور کے بورڈ آف گورنرز کے ڈپٹی چیئرمین ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے اسلامک فنانس ورچوئل فورم (آئی ایف وی ایف) کے زیراہتمام منعقدہ کورونا وائرس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے معاشی بحران اور اسلامک فنانس کے ذریعے اس کے حل کے موضوع پر منعقدہ آن لائن بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے 22 کروڑ آبادی والے ملک میں 12 کروڑ افراد خط غربت کی لکیر کے نیچے جا سکتے ہیں، زکوٰۃ و عشر ڈیپارٹمنٹ سمیڈا سے مل کر بیروزگار افراد کو کاروباری اشیاء کی شکل میں مالی مدد دے کر موجودہ وسائل کے ذریعے 5 سال میں ڈیڑھ کروڑ افراد کو برسر روزگار لا سکتے ہیں، انہوں نے بتایا گورنمنٹ سیکٹر ہر سال 7 ارب سے زائد زکوٰۃ جمع اور تقسیم کرتا ہے اور ایک ہزار ارب روپے کی زکوۃ نجی سطح پر جمع اور تقسیم ہوتی ہے۔ گورنمنٹ کے اداروں نے زکوٰۃ کے مصارف شادی بیاہ کے اخراجات اور بلائنڈ شہریوں کی مدد کے حوالے سے جو مصارف بیان کررکھے ہیں اول تو اس مد میں یہ رقم استعمال ہوتے ہوئے نظر نہیں آئی اور دوسرا ان غیر سنجیدہ مصارف کی وجہ سے صاحب نصاب حکومتی اداروں کو زکٰوۃ دینا پسند نہیں کرتے کیونکہ زکوٰۃ کی تقسیم کے نظام پر عام آدمی کا اعتماد نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ نجی سطح پر ایک ہزار ارب روپے کی زکوۃ جمع اور تقسیم ہوتی ہے، نجی سطح پر بھی یہی ماڈل اختیار کرنا چاہیے، انہوں نے کہا کہ صاحب حیثیت افراد یاد رکھیں کہ زکوٰۃ کی رقم کے حصے کر کے چار یا پانچ ہزار کسی کو دینے سے کسی کی غربت ختم نہیں ہوتی اس لئے ایک خاندان کے افراد طے کر لیں کہ وہ زکوٰۃ کی مجموعی رقم سے کسی ایک شخص کو پاؤں پر کھڑا کریں گے تاکہ وہ آئندہ سال زکوٰۃ لینے والوں میں سے نہیں دینے والوں میں سے ہو۔ عشر و زکوۃ کی مد میں جمع ہونے والے وسائل غربت و بیروزگاری کے خاتمے کے لئے استعمال کیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ بات بڑی اہم ہے کہ کسی کو نقد رقم نہ دی جائے، اہلیت اور تربیت کے مطابق کاروباری اشیاء خرید کر دی جائیں تاکہ وسائل کا غلط استعمال نہ ہو اور جو شخص کاروبار کرے گا وہ یقینی طور پر آسان اقساط کی صورت میں لیا گیا غیر سودی قرض واپس بھی کر سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ پبلک پرائیویٹ سیکٹر کے ذریعے بھی یہ کامیاب تجربہ کیا جا سکتا ہے اور اس مقصد کیلئے المواخات اسلامک مائیکرو فنانس اور اخوت جیسے اداروں کی مدد حاصل کی جا سکتی ہے، انہوں نے کہا کہ زکوۃ کی تقسیم کے موجودہ نظام کے ذریعے غربت کم ہوئی اور نہ زکوۃ لینے والوں میں کمی آئی اور زکوۃ کی تقسیم کے نظام پر سنجیدہ سوالات بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کا معاشی تصور غربت کے خاتمے پر زور دیتا ہے۔

آن لائن کانفرنس میں جسٹس (ر) مفتی تقی عثمانی، بحرین سے شیخ ابراہیم بن خلیفہ، منہاج یونیورسٹی لاہور سے ڈاکٹر حسین محی الدین قادری، کیمبرج انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک فنانس یوکے سے مسٹر جلیل علوی، ڈاکٹر بیلولال، ڈاکٹر سامی السویلیم، خالد القائد، عمان سے شمزانی حسین، مسٹر مغیث شوکت و دیگر نے حصہ لیا۔ آن لائن کانفرنس میں بینکنگ سیکٹر اوراسلامک مائیکرو فنانس کا تجربہ رکھنے والی نامور شخصیات بھی شریک تھیں۔ کانفرنس کا انعقاد اسلامک فنانس ورچوئل فورم 2020 ء کی طرف سے ہوا۔ اس میں اکاؤنٹنگ اینڈ آڈیٹنگ آرگنائزیشن فار اسلامک فنانشل انسٹیٹیوشنز بحرین، منہاج یونیورسٹی لاہور، اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹیٹیوٹ جدہ، کالج آف بینکنگ اینڈ فنانشل سٹڈیز اومان شریک تھے۔

10.5m jobs may be created in 5 years Through Zakat funds,Dr Hussain Qadri tells intl economic moot on Covid-19 impact and its solutions

تبصرہ

تلاش

ویڈیو

Minhaj TV
Quran Reading Pen
We Want to CHANGE the Worst System of Pakistan
Presentation MQI websites
Advertise Here
Top