اعتکاف کے 10 دن درحقیقت دنیا سے منقطع ہو کر اللہ تعالیٰ سے جڑنے اور اپنے اعمال کی اصلاح کا بے مثال موقع ہوتے ہیں: پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری
صوفیاء کرام دنیاوی معاملات سے منقطع ہو کر اپنے دل و فکر کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف مرکوز کرتے تاکہ خود آگہی اور روحانی بیداری حاصل ہو سکے: صدر منہاج القرآن
مراقبہ اور خلوت انسان کو اپنے خیالات و وساوس کا محاسبہ کرنے اور نفس کی اصلاح کی طرف متوجہ کرنے کا مؤثر ذریعہ ہیں: صدر منہاج القرآن
اعتکاف کے 10 اَیّام محض عبادت کے مخصوص لمحات نہیں بلکہ انسان کی فکری، اَخلاقی اور روحانی تشکیلِ نو کا ایک جامع نظام ہیں۔ جب بندہ دنیا کے ہنگاموں سے کٹ کر اللہ تعالیٰ کے ساتھ سے جڑنے کے لیے خلوت اختیار کرتا ہے تو اس کی فکر میں خود آگہی کی نئی صبح طلوع ہوتی ہے اور اس کے دل میں روحانی بیداری کی شمع روشن ہو جاتی ہے۔ شیخ الاسلام پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے سنگ اعتکاف کے دس ایام سفرِ تزکیہ نفس کو علمی و تربیتی سمت عطا کرتے ہیں جہاں مراقبہ، خلوت اور محاسبۂ نفس کے ذریعے انسان اپنے خیالات و وساوس کی اصلاح کرتا ہے اور اپنے اعمال و افکار کو شریعت و طریقت کے نور سے منوّر کرتا ہے۔ یہ اعتکاف دراصل انسان کو باطن کی دنیا میں جھانکنے، نفس کی تطہیر کرنے اور اللہ و رسول ﷺ کی محبت کو مرکزِ فکر و عمل بنانے کا ایک بے مثال تربیتی تجربہ فراہم کرتا ہے، جو زندگی کی سمت کو یکسر بدل دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
صوفیاء کا طریقِ تزکیۂ نفس اور فکر کی تطہیر:
پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: صوفیاء کرام اپنی زندگیوں میں مراقبے اور خلوت کو اختیار کرتے تھے تاکہ وہ وقتی طور پر دنیا کے شور و ہنگامے سے کٹ کر اپنے باطن کی طرف متوجہ ہو سکیں۔ وہ زمانے کے تفکرات، خیالات اور مصروفیات سے ذہن کو آزاد کر کے اپنی توجہ مکمل طور پر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف مرکوز کرتے تھے۔ دنیاوی الجھنوں سے ذہن کو خالی کر کے اپنے دل و فکر کو ربّ کریم کی طرف متوجہ کرتے، پھر اپنے خیالات اور وساوس کا محاسبہ کرتے اور اُن کی اصلاح کے لیے وقت صَرف کرتے تھے۔ درحقیقت مراقبہ اور خلوت انسان کو خود آگہی اور روحانی بیداری کی راہ دکھاتے ہیں اور اسے اپنے نفس کی اصلاح کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔
فکری اصلاح کے دس قیمتی دن:
پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے مزید کہا کہ: درحقیقت یہی عمل خلوت، مراقبہ اور اعتکاف میں انجام دیا جاتا ہے، جہاں انسان دنیا کے شور و غوغا سے کٹ کر اپنے ربّ کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔ رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں ہر سال شیخ الاسلام پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری ہزاروں افراد کے ساتھ اس دس روزہ خلوت میں شرکت کرتے ہیں، جہاں لوگوں کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ دنیا سے بے نیاز ہو کر اپنے مولا کے ہو جائیں اور خیال آگہی حاصل کریں۔ یہ وہ مبارک ایام ہیں جن میں انسان اپنے اعمال کا محاسبہ کرتا ہے، بُرے خیالات اور وساوس پر غور کرتا ہے اور پھر اپنی اصلاح کی طرف سنجیدگی سے متوجہ ہو جاتا ہے۔ رمضان المبارک قریب ہے اور آخری دس دن کی یہ عظیم فرصت دوبارہ آنے والی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ جو ابھی تک اس خلوت کے لیے رجسٹر نہیں ہوا، وہ فورًا اس قیمتی موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے اپنا نام درج کروائے، تاکہ یہ روحانی فرصت ضائع نہ ہو اور انسان اپنی اصلاح کے ان بابرکت ایام کو پوری توجہ اور یکسوئی سے گزار سکے۔


















تبصرہ