تحریک منہاج القرآن کے 40 ویں یوم تاسیس کے موقع پر اینکرپرسن مبشر لقمان کا مبارکبادی پیغام

میرے لیے بڑی خوشی کا دن ہے کہ میں تحریک منہاج القرآن کے 40ویں یوم تاسیس کے موقع پر اپنا پیغام ریکارڈ کروا رہا ہوں۔ میرے علم کے مطابق دنیا کے سو (100) سے زائد ممالک میں تحریک منہاج القرآن کے 40ویں یومِ تاسیس کی تقریبات ہو رہی ہیں۔ تحریک منہاج القرآن سے میری وابستگی کئی سال پر محیط ہے۔ میری اصل وابستگی تو پاکستان عوامی تحریک سے ہے اور اسی کی وجہ سے ادارہ منہاج القرآن سے بھی ہے۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری ایک سحر انگیز شخصیت کے مالک ہیں، خدا تعالیٰ نے انہیں علم و دانش سے بےانتہا نوازا ہے۔ جب وہ بات کرتے ہیں تو دل کرتا ہے وہ بولتے رہیں اور انسان انہیں سنتا رہے۔ مجھ سمیت بہت سے لوگ ان سے سیکھتے ہیں۔ تحریک منہاج القرآن کی انفرادیت ان کی تربیت کی خاصیت ہے۔ تعلیم کا لازمی جزو تربیت ہے۔ بالعموم ہمارے ہاں تعلیم پر تو بہت زور دیا جاتا ہے لیکن تربیت کا پہلو ادھورا چھوڑ دیا جاتا ہے، مگر ادارہ منہاج القرآن اپنے طلبہ و طالبات، کارکنان اور وابستگان کی جس طرح تربیت کرتا ہے دنیا میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ میں منہاج القرآن کے جتنے وابستگان دیکھے ہیں وہ سب ایماندار، وفادار، بےغرض اور قربانی دینے والے لوگ ہیں۔ انہیں اپنے ایمان، علم اور رسول اللہ ﷺ سے حبی تعلق پر فخر اور اعتماد ہے۔ اور میں نے یہ خصوصیت منہاج القرآن سے وابسطہ بچوں تک میں دیکھی ہے۔ میں خاص طور پر اس حوالے سے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی مثال دینا چاہوں گا۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں فرعونیت بپا کی گئی، بچوں اور خواتین کو مارا گیا، دن دیہاڑے بےدردی سے لوگوں کو قتل کیا گیا۔ میں متاثرہ خاندانوں سے ملا ہوں، ان پر حکومت اور پولیس کی طرف سے پریشر رہا، وہ متوسط گھرانوں کے لوگ تھے انہیں مقدموں سے دستبردار ہونے کے لیے مالی پیشکشیں ہوئیں مگر وہ ڈٹے رہے۔ اس جذبے کے پیچھے بہت مضبوط کردار اور اعلیٰ تربیت کی کارفرما ہوسکتی ہے۔ میں نے اپنی زندگی میں ایسا جذبہ کہیں اور نہیں دیکھا۔

میں نے ڈاکٹر طاہرالقادری صاحب کی ایک اور خوبی دیکھی ہے کہ انہیں اپنے کارکنوں کے نام، ان کے بچوں تک کے نام یاد ہوتے ہیں خواہ کتنے ہی عرصے بعد اپنے کارکنان سے مل رہے ہوں، اور ان کے لیے دعاگو رہتے ہیں۔ یہ معمولی بات نہیں ہے۔ میں ڈاکٹر طاہرالقادری صاحب کے ساتھ کئی سفر کیے ہیں، میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ وہ کسی ہوٹل میں ٹھہرے ہوں، بلکہ اپنے کسی کارکن کے گھر میں ٹھہرتے ہیں۔ وہیں کارکنان کے ساتھ ملاقاتیں ہوتی ہیں اور لوگ ان سے مستفید ہوتے ہیں۔

میں آج ان لوگوں سے درخواست کروں گا جو تحریک منہاج القرآن کی خدمات سے واقف نہیں ہیں کہ آپ اس ادارے کی افادیت کو سمجھیں اور اس سے ہر طرح معاونت کریں۔ میں اس ادارے کے ایسے وابستہ خاندان بھی دیکھے ہیں جن کی تین تین نسلیں اس ادارے کے ساتھ منسلک ہیں، اوران سب کی سوچ اور فکر کی سطح وہ یکساں ہوتی ہے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری خوش قمست ہیں کہ ان کے صاحبزادگان بھی بڑے مدبر سکالرز ہیں، یہ ان کی تربیت کا ہی نتیجہ ہے۔ تحریک منہاج القرآن میں میری خوشگوار یادیں اور بڑی امیدیں وابستہ ہیں۔ میں تحریک منہاج القرآن کے کارکنان کے سامنے اعادہ کرنا چاہتا ہوں کہ سب بھول سکتے ہیں مگر میں سانحہ ماڈل ٹاؤن نہیں بھول سکتا، مجھے جہاں بھی موقع ملتا ہے میں اس سانحے کے متاثرین کے لیے آواز اٹھاتا ہوں۔ میں اور میرے ساتھ اور رفقاء اس سانحہ پر تب تک خاموش نہیں ہوں گے جب تک متاثرین کو انصاف نہیں مل جاتا، میرا ایمان ہے کہ ان کو ضرور انصاف ملے گا۔ میرا یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ تحریک منہاج القرآن کو مزید ترقی اور بلندیاں عطاء کرے گا۔ آمین

تبصرہ

تلاش

ویڈیو

We Want to CHANGE the Worst System of Pakistan
Presentation MQI websites
Advertise Here
Top