حضور نبی اکرم ﷺ کی نبوت قیامت تک تمام زمانوں، تمام انسانوں اور ہر نسل کے لیے ہے: شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید کے سوا کسی بھی سابقہ آسمانی کتاب کی حفاظت کا وعدہ نہیں فرمایا:شیخ الاسلام کا خطاب

تمام زمانوں میں انسانیت کی ہدایت کا واحد اور کامل سرچشمہ نبوتِ محمدی ﷺ کی آفاقیت ہے، جو کسی خاص قوم، دور یا نسل تک محدود نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ کی نبوت قیامت تک تمام زمانوں، تمام انسانوں اور ہر نسل کو محیط ہے، اور یہی آفاقیت دینِ اسلام کو دائمی اور عالمگیر بناتی ہے۔ اسی حکمت کے تحت اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید کے سوا کسی بھی سابقہ آسمانی کتاب کی حفاظت کا وعدہ نہیں فرمایا، کیونکہ قیامت تک ہدایت، اِنذار اور رہنمائی کا فریضہ اِسی محفوظ قرآن اور نبوتِ محمدی ﷺ کے ذریعے جاری رہنا ہے۔

حضور ﷺ کی نبوت اور اَبدی ہدایت

مجدّد المئۃ الحاضرۃ حضور شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیۃنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: حضور نبی اکرم ﷺ کی نبوت قیامت تک تمام زمانوں، تمام انسانوں اور ہر نسل کے لیے ہے۔ آپ ﷺ پر نازل ہونے والا قرآنِ مجید ہمیشہ زندہ، محفوظ اور رہنمائی کا کامل سرچشمہ ہے۔ جب آقا ﷺ کی نبوت بھی دائمی ہے اور قرآنِ مجید بھی ہر دور کے لیے ہدایتِ کاملہ رکھتا ہے، تو اس کے بعد کسی نئی نبوت، کسی نئی رسالت، یا کسی بھی معنی یا تأویل کے تحت وحی کے اِمکان کا تصور درحقیقت قرآنِ مجید کی قطعیت اور اِکمالِ دین کے انکار کے مترادف ہے۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے:

﴿وَأُوحِيَ إِلَيَّ هَذَا الْقُرْآنُ لِأُنْذِرَكُمْ بِهِ وَمَنْ بَلَغَ﴾

’’اور میری طرف یہ قرآن اس لیے وحی کیا گیا ہے کہ اس کے ذریعے تمہیں اور ہر اس شخص کو جس تک (یہ قرآن) پہنچے‘‘ [الأنعام، 6/19]

یعنی قیامت تک جس جس انسان تک قرآنِ مجید کی تعلیمات پہنچیں گی، اُن سب کے لیے ڈرانے والے (مُنذِر) رسول اللہ ﷺ ہی ہوں گے۔ آپ ﷺ ہی قیامت تک کے تمام لوگوں کے لیے بشارت دینے والے، خبردار کرنے والے اور اللہ تعالیٰ کی طرف بلانے والے رہیں گے۔ لہٰذا جس کے ہاتھ میں بھی قرآن پہنچے گا، اُس کے لیے نذیر بھی رسول اللہ ﷺ ہی ہوں گے۔

شیخ الإسلام نے مزید کہا کہ: جب آقا ﷺ ہر انسان کے لیے قیامت تک زندہ اور قائم نذیر ہیں، تو آپ ﷺ کی موجودگی میں کسی اور شخص کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ساتھ اِنذار کرنے کا دعویٰ کرنا، یعنی خود کو منذر و نذیر بنانا معاذ اللہ، حضور نبی اکرم ﷺ کی نبوت کو منسوخ کرنے کے مترادف ہے اور اس آیتِ قرآنی کی صریح تکذیب ہے۔ قرآن مجید واضح طور پر بتاتا ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ ہی قیامت تک قرآن کے ساتھ منذر ہیں۔ اسی لیے قیامت تک نذیر کا منصب آقا ﷺ ہی کے لیے مخصوص ہے، اور وحی کے ذریعے اِنذار بھی صرف قرآنِ مجید کے ذریعے باقی رہنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سابقہ آسمانی کتابوں کی حفاظت کی ذمہ داری نہیں لی، بلکہ صرف قرآنِ مجید کی حفاظت کا وعدہ فرمایا، کیونکہ قیامت تک حضور ﷺ کا پیغامِ اِنذار اسی قرآن کے ذریعے جاری رہنا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے

﴿إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ﴾

’’بے شک یہ ذکرِ عظیم (قرآن) ہم نے ہی اتارا ہے اور یقینا ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے‘‘ [الحجر : 9]

کیونکہ حضور نبی اکرم ﷺ کا قرآنِ مجید کے ساتھ اِنذار قائم رہے گا اور جاری و ساری رہے گا۔ جیسے حضور نبی اکرم ﷺ کی رحمت رہے گی۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہوتا ہے:

﴿وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ﴾

’’اور (اے رسولِ محتشم!) ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر‘‘[الأنبياء : 107]

بلاگر: ڈاکٹر محمد اقبال چشتی (ریسرچ اسکالر))

تبصرہ

ویڈیو

Ijazat Chains of Authority
Top