نیک لوگوں کی رفاقت دل کو زندگی اور روح کو قربِ الہی عطا کرتی ہے: شیخ حماد مصطفی المدنی القادری

اہلِ صدق وہ لوگ ہیں جو راتوں کو عبادت اور دن کو مخلوقِ خدا کی خدمت کے ذریعے قربِ الہی حاصل کرتے ہیں: خطاب

انسانی شخصیت کی تعمیر و تشکیل میں صحبت کا کردار نہایت بنیادی اور فیصلہ کن ہوتا ہے، کیونکہ انسان شعوری یا لاشعوری طور پر اپنے ماحول سے اثر قبول کرتا ہے۔ نیک و بُری صحبت محض وقتی تعلق نہیں بلکہ فکر، کردار اور طرزِ عمل کو سمت دینے والی قوت ہے؛ نیک صحبت انسان کو اخلاقی بلندی، فکری پختگی اور عملی ترقی کی طرف لے جاتی ہے، جبکہ بُری صحبت آہستہ آہستہ اس کے وقار، اقدار اور مقصدِ حیات کو کمزور کر کے تنزلی کی راہوں پر ڈال دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شخصیت سازی کے عمل میں نیک و بَد صحبت کے اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ انسان کی اصل پہچان اُس کی صحبت سے ظاہر ہوتی ہے جو اس کے مزاج، سوچ اور کردار کو تشکیل دیتی ہے۔

نیک مجلس تقویٰ اور روحانی بالیدگی کا ذریعہ:

شیخ حماد مصطفی المدنی القادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ﴾

(التوبہ، 9/119)

’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو اور اہلِ صدق (کی معیّت) میں شامل رہو‘‘

یعنی سچے اور نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرو اور اُن کے ساتھ رہو۔ اہلِ صدق وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنی طبیعت، اپنی شخصیت اور اپنے روحانی مقام میں عین الیقین اور حق الیقین کے درجے پر فائز ہوتے ہیں۔ وہ صبح و شام اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رہتے ہیں، راتوں کو جاگ کر اپنے رب کو یاد کرتے ہیں اور دن کے وقت انسانیت اور دین کی خدمت کے ذریعے اللہ کی رضا حاصل کرتے ہیں۔ ایسے لوگ ہر لمحہ اپنے رب کے حُسن و جمال کے جلووں کو محسوس کرتے اور اس کی قربت سے فیض یاب ہوتے ہیں۔ اِسی لیے اللہ تعالیٰ ہمیں حکم دیتا ہے کہ تقویٰ اختیار کرو، برے لوگوں کی صحبت سے بچو، اپنے دل و دماغ کو پاک رکھو اور نیک لوگوں کی مجلس اختیار کرو، تاکہ جو نور اور روشنی اللہ انہیں اپنے ذکر سے عطا کرتا ہے، وہی نور اُن کی صحبت کے ذریعے ہمیں بھی نصیب ہو جائے۔

یوں اللہ ربّ العزت ہمیں حکم دیتا ہے کہ ہم اپنے آپ کو اُن لوگوں کے ساتھ وابستہ کر لیں جو اللہ تعالیٰ کے ذکر میں رنگے ہوئے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ اپنی یاد کا رنگ اُنہیں عطا کرتا ہے تو اُن کی صحبت اختیار کرنے والوں کو بھی وہی نور، وہی کیفیت اور وہی روحانی اثر نصیب ہو جاتا ہے۔ اس طرح نیک لوگوں کی رفاقت انسان کے دل کو زندہ کر دیتی ہے اور اسے اللہ کی قربت کی راہ پر گامزن کر دیتی ہے۔

صحبت کے اَثرات:

حضور نبی اکرم ﷺ نے اچھی اور بُری صحبت کے مابین فرق سمجھایا اور آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ وَالسَّوْءِ كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَنَافِخِ الْكِيرِ فَحَامِلُ الْمِسْكِ إِمَّا أَنْ يُحْذِيَكَ وَإِمَّا أَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيحًا طَيِّبَةً وَنَافِخُ الْكِيرِ إِمَّا أَنْ يُحْرِقَ ثِيَابَكَ وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ رِيحًا خَبِيثَةً

(بخاری، الصحیح، جلد5، ص 2104، رقم: 5214)

’’نیک ہم نشیں اور بُرے ہم نشیں کی مثال عطار اور لوہار کی مانند ہے، مُشک بردار یا تم کو ہدیے میں مشک دے دے گا یا تم اس سے خرید لو گے، ورنہ کم از کم تمہیں اس سے اچھی خوشبو آئے گی اور بھٹی دھونکنے والا یا تو (چنگاریوں سے) تمہارے کپڑے جلائے گا یا تمہیں (اس سے) بدبُو آئے گی۔‘‘

صحبت کے مراتب اور روحانی اثرات:

شیخ حماد مصطفیٰ نے مزید کہا کہ: جب صحبت کی بات آتی ہے تو اس کے تین درجے ہیں۔ اگر انسان نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرے تو سب سے پہلا درجہ یہ ہے کہ وہ اچھے لوگوں کے ساتھ بیٹھے، اور اعلیٰ ترین درجہ یہ ہے کہ اللہ کے برگزیدہ لوگوں یعنی مردِ حق کی صحبت حاصل کرے۔ مردِ حق کی نگاہ اگر آپ پر پڑ جائے تو یہ آپ کی زندگی بدل دیتی ہے، بالکل اسی طرح جیسے عطار اپنی تحفہ شدہ خوشبو عطا کرتا ہے۔ اگرچہ کچھ نہ ملے، تب بھی اچھے لوگوں کی صحبت میں بیٹھنے سے انسان کچھ نہ کچھ ضرور سیکھ لیتا ہے، جیسے صلاۃ و صوم میں پابندی یا روحانی فیض حاصل کرنا۔ اور اگر کچھ نہ بھی حاصل ہو، تو صرف ان کی صحبت میں بیٹھنے سے عشقِ مصطفی ﷺ اور ادبِ مصطفی ﷺ کی خوشبو ہی انسان کو مہک دیتی ہے۔

اسی طرح بُری صحبت انسان کو فوری طور پر محسوس نہیں ہوتی، لیکن کچھ وقت کے بعد یہ زندگی پر اثر ڈالتی ہے۔ آہستہ آہستہ ہمارے اخلاق، طریقۂ کار، طرزِ زندگی، بات چیت کا انداز اور رہن سہن بدل جاتا ہے، اور جب نقصان یا مشکل کا سامنا ہوتا ہے تو ہمیں حقیقت کا احساس ہوتا ہے۔

حاصلِ کلام:

انسان کی زندگی میں صحبت کا کردار نہایت اہم اور فیصلہ کن ہے، کیونکہ ہمارے اعمال، افکار اور مزاج بڑی حد تک اس ماحول اور لوگوں سے متاثر ہوتے ہیں جن کے ساتھ ہم وقت گزارتے ہیں۔ نیک لوگوں کی رفاقت دل و دماغ کو روشنی اور روح کو اللہ کی قربت سے منور کرتی ہے، اُن کی صحبت انسان کو اخلاقی بلندی، روحانی فیض اور عملی اصلاح عطا کرتی ہے۔ جبکہ بُری صحبت آہستہ آہستہ کردار، عادات اور طرزِ زندگی کو بدل دیتی ہے، اور نقصان یا مشکلات کے وقت اس کا اثر واضح ہوتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ ہمیں تقویٰ اختیار کرنے اور اہلِ صدق کی سنگت اختیار کرنے کی نصیحت فرماتا ہے، تاکہ اُن کے ذکر و عبادت سے حاصل ہونے والا نور ہمارے دل و دماغ تک منتقل ہو اور ہم اپنی زندگی کو ہدایت و اصلاح کی راہ پر گامزن دیکھ سکیں۔

بلاگر: ڈاکٹر محمد اِقبال چشتی (ریسرچ اسکالر)

تبصرہ

ویڈیو

Ijazat Chains of Authority
Top