معراج کی رات آقا ﷺ کا انبیاء کی امامت کروانا آپ کی عظمت کا روشن ثبوت ہے: پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری
بیت المعمور وہ مقام ہے جہاں ہر روز 70 ہزار فرشتے جلوہ گر ہوتے ہیں: صدر منہاج القرآن
معراج النبی ﷺ کا سفر انسانی عقل و فہم سے ماورا اور حقیقتا حیرت انگیز ہے، جو مکہ مکرمہ سے لے کر سدرۃ المنتہیٰ تک جاری رہا۔ اس سفر میں آقا ﷺ نے انبیاء کرام کی امامت فرمائی، جو آپ ﷺ کی بے پناہ عظمت اور مقام قرب الٰہی کا روشن ثبوت ہے۔ ساتویں آسمان پر بیت المعمور کا مقدس منظر اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ وہاں ہر روز 70 ہزار فرشتے جلوہ گر ہوتے ہیں، اور حضور ﷺ کی بارگاہ اقدس میں نصیب و فیض حاصل کرتے ہیں۔ یہ تمام مناظر انسانی روح کو حیرت و توقیر میں مبتلا کر دیتے ہیں اور معراج کی روحانی عظمت کو آشکار کرتے ہیں۔
سفرِ معراج حرمِ کعبہ سے بیت المقدس تک:
پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: 27 رجب المرجب کی رات اچانک چھت کھلی اور سیدنا جبریل امین علیہ السلام دیگر فرشتوں کے ساتھ حضور نبی اکرم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے۔ آپ ﷺ کو لے کر حرمِ کعبہ میں پہنچے، جہاں آپ کے مبارک شکم مبارک کو چاک کیا گیا اور قلبِ اطہر کو آبِ زمزم سے دھویا گیا۔ پھر ایک طشت نور و حکمت کا آپ کے شکم میں انڈیل دیا گیا اور بعد ازاں چاک کو بحال کر دیا گیا۔ اس کے بعد ایک نورانی سواری بُراق آپ ﷺ کے سامنے لائی گئی، جس پر آپ ﷺ بیت المقدس کی طرف روانہ ہوئے۔ بُراق کی رفتار اتنی شاندار تھی کہ جہاں اس کی نگاہ پہنچتی، وہیں اس کا پہلا قدم پڑتا۔ بیت المقدس پہنچ کر بُراق کو اسی مقام پر باندھا گیا جہاں انبیائے کرام علیہم السلام اپنی سواریوں کو باندھتے تھے۔ وہاں آپ ﷺ کے استقبال میں تمام انبیاء کرام کھڑے تھے اور آپ ﷺ نے دو رکعت نفل کی امامت فرمائی۔ معراج کی رات آقا ﷺ کا انبیاء کرام علیہم السلام کی امامت کروانا آپ کی عظمت کا روشن ثبوت ہے۔
معراج کی رات حضور ﷺ کی عظمت کا اجتماع:
معراج کی رات آقا ﷺ کی شان میں ایک عظیم الشان اجتماع منعقد کیا گیا، جہاں آپ ﷺ مہمانِ خصوصی تھے اور تمام انبیاء کرام علیہم السلام نے آپ ﷺ کی عظمت و مقام کی تعریف میں خطاب کیا۔ مختلف انبیاء ایک کے بعد ایک تشریف لاتے اور حضور ﷺ کی شان میں کلماتِ فخر اور تحسین ادا کرتے رہے۔ آخر میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے خطاب فرمایا، اور یقینًا آپ نے اپنے بیٹے کی عظمت پر فخر کرتے ہوئے فرمایا ہوگا کہ یہ میرا پیارا بیٹا ہے، میری دعا کا نتیجہ ہے، جس کی قیادت میں آج تم سب نماز پڑھ رہے ہو۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے بھی فرمایا ہو گا کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے دیدار طلب کیا، تو کلام، تجلّی اور بے ہوشی ملی، لیکن حضور نبی اکرم ﷺ اللہ تعالیٰ کے دیدار کے لیے تشریف لے جا رہے ہیں۔ اس طرح یہ اجتماع حضور ﷺ کی شان اور مقامِ قربِ الٰہی کی روشن نشانی تھا۔
سفرِ معراج: آسمانوں میں انبیاء کرام سے ملاقات:
ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے مزید کہا کہ: اس کے بعد سیدنا جبریل امینؑ آقا علیہ الصلاۃ والسلام کو اپنے ساتھ لے کر آسمانوں کی طرف روانہ ہوئے۔ پہلے آسمان پر پہنچ کر حضور ﷺ کی ملاقات سیدنا آدم علیہ السلام سے ہوئی۔ وہاں سے دوسرے آسمان کی جانب بڑھتے ہوئے آپ ﷺ نے سیدنا یحییٰ اور سیدنا عیسیٰ علیہما السلام سے ملاقات کی اور اُن کے ساتھ کچھ دیر گفتگو فرمائی۔ تیسرے آسمان پر سیدنا یوسف علیہ السلام، چوتھے پر سیدنا ادریس علیہ السلام، پانچویں پر سیدنا ہارون علیہ السلام، اور چھٹے آسمان پر سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی۔ ہر آسمان پر جب حضور ﷺ جلوہ افروز ہوتے، تو انبیاء کرام حضور ﷺ کو سلام عرض کرتے اور فرماتے، سلام ہو آپ پر اے صالح پیغمبر۔ آخر کار ساتویں آسمان پر پہنچ کر حضور ﷺ نے اپنے جدِ امجد، سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات کی، جو بیت المعمور کے ساتھ اپنی کمر ٹیک لگائے آرام فرما رہے تھے۔ بیت المعمور ایک مقدس مقام ہے جہاں ہر روز 70 ہزار فرشتوں کو اجازت ملتی ہے کہ وہ وہاں عبادت کریں۔
بلاگر: ڈاکٹر محمد اِقبال چشتی (ریسرچ اسکالر)


















تبصرہ