منہاج القرآن وہ جماعت ہے جو نیابتِ محمدی میں فریضۂ رسالت کی خدمت انجام دے رہی ہے:شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری

داعی بننا انبیاء علیہم السلام کا طریق اور اللہ کے نزدیک سب سے محبوب عمل ہے: شیخ الاسلام کا خطاب
جب علم کے ساتھ دعوت جڑ جائے تو ہر گھر مرکزِ علم اور ہر فرد داعی بن جاتا ہے: شیخ الاسلام کا خطاب

مصطفوی معاشرے کی تشکیل محض ایک نظری خواب نہیں بلکہ ایک شعوری، منظم اور مسلسل جدوجہد کا نام ہے، جو نیابتِ محمدی کے احساسِ ذمہ داری سے جنم لیتی ہے۔ ایسا معاشرہ اسی وقت وجود میں آتا ہے جب دعوت، علم اور عمل ایک مضبوط ربط میں ڈھل جائیں اور فریضۂ رسالت فرد سے جماعت اور جماعت سے معاشرے تک منتقل ہو۔ منہاج القرآن وہ منظم جماعت ہے جو اسی فکری و عملی اساس پر نیابتِ محمدی میں دین کی خدمت انجام دے رہی ہے، کیونکہ داعی بننا انبیاء علیہم السلام کا طریق اور اللہ کے نزدیک سب سے محبوب عمل ہے۔ جب علم کے نور کے ساتھ دعوت کی حرارت جڑ جاتی ہے تو ہر فرد صرف علم سیکھنے والا نہیں رہتا بلکہ علم کو آگے پہنچانے والا بن جاتا ہے، ہر گھر مرکزِ علم میں بدل جاتا ہے اور یوں مصطفوی معاشرے کی بنیاد فکر کی اصلاح، کردار کی تربیت اور دعوتِ خیر کے مسلسل عمل سے مضبوط ہوتی چلی جاتی ہے۔

مرکزِ علم: تعلیم، تربیت اور دعوت کا جامع نظام:

مجدّد المئۃ الحاضرۃ حضور شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیۃنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: ہنر سکھانا، علم عطا کرنا اور انسانوں کی ہمہ جہت تربیت کرنا یہی وہ عظیم مشن ہے جسے تحریک منہاج القرآن عملی صورت میں آگے بڑھا رہی ہے۔ یہی راستہ حقیقی انقلاب تک لے جاتا ہے۔ جب علم کے ساتھ دعوت دی جاتی ہے، جب ہر فرد متعلّم بن کر سیکھتا اور معلّم بن کر سکھاتا ہے، اور جب اسی علم کی بنیاد پر مراکزِ علم قائم ہوتے ہیں تو گویا ہر گھر مرکزِ دعوت بن جاتا ہے۔ اس عمل میں انسان پہلے سیکھتا ہے، پھر سکھاتا ہے، اور آخرکار داعی بن کر علم و خیر کو آگے پہنچاتا ہے۔ پڑھنا اور پڑھانا علم ہے، متعلّم اور معلّم بننا ہے، اور جو علم آپ تک پہنچا ہے اُسے دوسروں تک منتقل کرنا دعوت ہے، یعنی داعی بن جانا۔ مرکزِ علم ان تمام پہلوؤں کا جامع عنوان ہے جہاں تربیت بھی ہے، تعلیم بھی، اور دعوت بھی؛ یہی تسلسل فرد کو تیار کرتا ہے کہ وہ بَلِّغْ کے تقاضے پر عمل کرتے ہوئے خیر اور ہدایت کا پیغام آگے پہنچائے۔

قرآنِ کریم میں ارشاد ہوتا ہے:

﴿وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ﴾

[المائدة، 5/67]

’’اور اگر آپ نے (ایسا) نہ کیا تو آپ نے اس (ربّ) کا پیغام پہنچایا ہی نہیں‘‘

داعی کے فرائض انجام دینا امت پر عائد عظیم ذمہ داری:

شیخ الاسلام نے کہا کہ: اس آیت کی روشنی میں اَب جائزہ لیں کہ اس عظیم عمل میں ہم کون ہوتے ہیں کہ کوتاہی کے مرتکب ہوں؟ ہماری کیا مجال کہ ہم غفلت اختیار کریں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ سے ارشاد فرمایا کہ اگر آپ نے وہ دعوت نہ پہنچائی جو آپ کی طرف نازل کی گئی، اور اس پیغام کو آگے منتقل نہ کیا، تو گویا آپ ﷺ نے رسالت کا فریضہ ادا ہی نہیں کیا۔ یہ خطاب اگرچہ رسولِ اکرم ﷺ سے ہے، مگر اس کے تقاضے امت کے لیے بھی ذمہ داری کا پیغام ہیں۔ ہم چونکہ آقا علیہ السلام کے امتی ہیں، اس لیے فریضۂ رسالت کے تسلسل میں ہمیں نیابتِ رسول کا شرف عطا کیا گیا ہے۔ اب اگر ہم اس امانت کو ترک کریں گے، تو اللہ کی بارگاہ میں جواب دہ ٹھہریں گے۔ یہی شعورِ ذمہ داری ہے جو امت کو دعوت، تبلیغ اور خیر کے پیغام کی مسلسل جدوجہد پر قائم رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

﴿وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾

[آل عمران، 3/104]

’’اور تم میں سے ایسے لوگوں کی ایک جماعت ضرور ہونی چاہئے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائیں اور بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں، اور وہی لوگ بامراد ہیں‘‘

منہاج القرآن: نیابتِ محمدی کی عملی صورت:

شیخ الاسلام نے مزید کہا کہ: تم میں ہمیشہ ایک ایسا طبقہ، ایک امت، ایک منظم جماعت قائم رہنی چاہیے جو مسلسل خیر کی طرف دعوت دیتی رہے۔ جو لوگ رسولِ اکرم ﷺ کی نیابت میں رہتے ہوئے فریضۂ رسالت کی ادائیگی میں شریک ہونا چاہتے ہیں، جو سنتِ مصطفی ﷺ کے عملی نفاذ اور اس عظیم خدمت میں شامل رہنے کے خواہاں ہیں، اُن کے لیے قرآن کا واضح حکم ہے: وَلۡتَکُنۡ: یعنی تم پر لازم ہے کہ تم میں ایک جماعت موجود ہو۔ یہ کوئی اختیاری عمل نہیں بلکہ ایک دائمی ذمہ داری ہے۔ اللہ کا شکر ادا کرو کہ اس نے تمہیں تحریکِ منہاج القرآن انٹرنیشنل کی صورت میں وہ منظم جماعت عطا فرمائی، جو نیابتِ محمدی میں فریضۂ رسالت کی اس مقدس خدمت کو مسلسل انجام دے رہی ہے اور خیر، ہدایت اور اصلاح کا پیغام امت تک پہنچا رہی ہے۔

پھر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: یَدۡعُوۡنَ اِلَی الۡخَیۡرِ: یعنی وہ لوگوں کو خیر کی طرف دعوت دیں، وَیَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ؛ نیکی کا حکم دیتے ہیں، اور وَیَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ: برائی سے روکتے ہیں۔ یہی وہ جامع عمل ہے جسے داعی بننا کہا جاتا ہے، اور یہ عمل اللہ تعالیٰ کو اس قدر محبوب ہے کہ اس سے بلند کوئی مرتبہ ہی نہیں۔ وجہ یہ ہے کہ ہر پیغمبر داعی تھا؛ اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء اور رسلِ عظام کو جو عظیم رتبہ اور فضیلت عطا فرمائی، اس سے بلند مقام کا تصور ممکن نہیں۔ اور جو ہستی تمام پیغمبروں کی امام ہے اور سیدُ المرسلین اور امامُ الانبیاء ﷺ ہے اُن کی شانِ دعوت قرآنِ مجید میں نمایاں طور پر بیان ہوئی ہے۔ وہ ہستی جو علم کے نور کو خود اختیار کرتی ہے، اسی علم کو آگے پہنچانے میں مشغول رہتی ہے، کیونکہ علم ہی ہر فضیلت کی بنیاد اور ہر خیر کا سرچشمہ ہے، مگر اس علم کا اصل کمال دعوت اور عمل کے ذریعے ظاہر ہوتا ہے۔ اللہ رب العزت نے فرمایا:

﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا﴾

[الأحزاب،33/45]

’’اے نبیِ (مکرّم!) بے شک ہم نے آپ کو (حق اور خَلق کا) مشاہدہ کرنے والا اور (حُسنِ آخرت کی) خوشخبری دینے والا اور (عذابِ آخرت کا) ڈر سنانے والا بنا کر بھیجا ہے‘‘

یعنی: ہم نے آپ کو شاھد بنایا، مبشر بنایا، نذیر بنایا اور پھر فرمایا: داعی بنایا یعنی اللہ کی طرف دعوت دینے والا، اللہ کے اذن سے سراجًا منیرًا اور چمکا دینے والا دنیا کو روشن کر دینے والا سورج بنایا، چونکہ داعی ہر پیغمبر کا منصب ہے اور آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام کا منصب ہے اس لیے جو اس منصب کو جاری رکھتا ہے اور اس ذمہ داری کو نبھاتا ہے وہ آقا علیہ السلام کی نیابت میں ہے اور یہ فریضہ اللہ پاک کو سب سے زیادہ محبوب ہے۔ اس لیے ارشاد فرمایا:

﴿وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِمَّنْ دَعَا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ﴾

[فصلت،41/33]

’’اور اس شخص سے زیادہ خوش گفتار کون ہو سکتا ہے جو اللہ کی طرف بلائے اور نیک عمل کرے اور کہے: بے شک میں (اللہ عزّ و جل اور رسول ﷺ کے) فرمانبرداروں میں سے ہوں‘‘

اللہ ربّ العزّت فرماتا ہے: اس شخص سے بہتر کس کی بات ہو سکتی ہے، کس کا قول، کس کی تقریر اور کس کا خطاب اس سے بڑھ کر ہو سکتا ہے جو اللہ کی طرف دعوت دے، جو لوگوں کو اپنے رب کی طرف بلائے؟ اللہ تعالیٰ واضح طور پر اعلان فرما دیتا ہے کہ جو میری طرف دعوت دیتا ہے، اس کی بات سے بڑھ کر کسی کی بات ہی نہیں۔ اسی لیے بار بار حکم دیا گیا: اُدْعُ إِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ: اپنے رب کی راہ کی طرف بلاؤ۔ یہ مسلسل الٰہی دعوت اس بات کی گواہی ہے کہ اللہ کو داعی کا کردار کتنا محبوب ہے۔

اب سوال یہ ہے: کیا آپ ربِ کریم کی راہ کی طرف بلانے والے نہیں بننا چاہتے؟ یقینًا ہر صاحبِ ایمان کا دل یہی گواہی دے گا کہ وہ بننا چاہتا ہے۔ تو پھر جواب یہی ہے کہ داعی بنو۔ آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس عظیم لقب دَاعِیًا اِلَی اللّٰہِ بِاِذْنِہٖ کی غلامی اختیار کرو، نیابتِ مصطفی ﷺ میں داخل ہو جاؤ اور دعوتِ الٰہی کے اس فریضے کو اپنا لو۔ اللہ نے خود فرما دیا کہ داعی سے بہتر بات کسی کی نہیں۔ یہی تمام انبیائے کرام علیہم السلام کا مشترک فریضہ رہا ہے۔

لیکن داعی بننا ایک منظم اور بامقصد عمل کا تقاضا کرتا ہے۔ پہلے انسان متعلّم بنتا ہے، علم حاصل کرتا ہے؛ پھر وہ معلّم بنتا ہے، دوسروں کو سکھاتا ہے؛ اور پھر داعی بن کر اس علم اور خیر کو آگے پہنچاتا ہے۔ یہی مرکزِ علم کا تصور ہے: متعلّم بننا، معلّم تیار کرنا، اور دعوت کو عام کرنا۔ جب یہ چاروں عناصر یکجا ہو جائیں تو مشن اپنی منزل تک پہنچتا ہے۔ اللہ ربّ العزّت آقا علیہ السلام کے صدقے اور اپنی رحمت سے ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم مراکزِ علم قائم کریں، ہم میں سے ہر فرد داعی بنے، اور اللہ، اس کے رسول ﷺ اور اس کے دین کی دعوت گھر گھر بلکہ پوری انسانیت تک پہنچائے اور یہی تحریکِ منہاج القرآن کا اصل مشن ہے۔

بلاگر: ڈاکٹر محمد اقبال چشتی (ریسرچ اسکالر)

تبصرہ

ویڈیو

Ijazat Chains of Authority
Top