اِرادی صحبت سے انسان کسی صالح شخصیت کی قربت اختیار کر کے اپنی روح اور اخلاق کو سنوارتا ہے: شیخ حماد مصطفی المدنی القادری

غیر ارادی صحبت انسان کے اخلاق، فکر اور کردار کو خاموشی سے بدل دیتی ہے: خطاب

سوشل میڈیا کی دنیا نے انسان کی صحبت کے مفہوم کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ جہاں کبھی انسان شعوری طور پر کسی صالح اور باکمال شخصیت کی قربت اختیار کر کے اپنی روح اور اخلاق کو سنوارتا تھا، وہاں آج ایک ایسی غیر مرئی اور غیر ارادی صحبت وجود میں آ چکی ہے جو انسان کی فکر، کردار اور مزاج کو خاموشی سے بدل دیتی ہے۔ ارادی صحبت انسان کو نورِ ہدایت کی طرف لے جاتی ہے، مگر غیر ارادی صحبت اکثر اُسے بے خبری میں فکری انتشار، اخلاقی زوال اور روحانی کمزوری کی طرف دھکیل دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عصرِ حاضر میں صحبت کے شعور کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے، کیونکہ اب انسان کی صحبت صرف انسانوں سے نہیں بلکہ اسکرینوں اور ڈیجیٹل دنیا سے بھی ہو رہی ہے۔

انسانی شخصیت کی تعمیر و تشکیل میں صحبت کا کردار نہایت بنیادی اور فیصلہ کن ہوتا ہے، کیونکہ انسان شعوری یا لاشعوری طور پر اپنے ماحول سے اثر قبول کرتا ہے۔ نیک و بُری صحبت محض وقتی تعلق نہیں بلکہ فکر، کردار اور طرزِ عمل کو سمت دینے والی قوت ہے؛ نیک صحبت انسان کو اخلاقی بلندی، فکری پختگی اور عملی ترقی کی طرف لے جاتی ہے، جبکہ بُری صحبت آہستہ آہستہ اس کے وقار، اقدار اور مقصدِ حیات کو کمزور کر کے تنزلی کی راہوں پر ڈال دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شخصیت سازی کے عمل میں نیک و بَد صحبت کے اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ انسان کی اصل پہچان اُس کی صحبت سے ظاہر ہوتی ہے جو اس کے مزاج، سوچ اور کردار کو تشکیل دیتی ہے۔

صحبت کی اَقسام اور تربیتِ شخصیت:

شیخ حماد مصطفی المدنی القادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: نوجوانوں کے لیے بطورِ خاص یہ اہم نصیحت ہے کہ صحبت دو قسم کی ہوتی ہے: ایک ارادی صحبت اور دوسری غیر ارادی صحبت۔ قدیم زمانوں میں لوگ ائمہ، صوفیاء اور مشائخ کی صحبت حاصل کرنے کے لیے سیکڑوں میل کا سفر کرتے تھے، مختلف قصبوں اور شہروں کا رخ کرتے، صحراؤں، وادیوں اور جنگلوں کی خاک چھانتے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے کسی برگزیدہ بندے کو پا لیتے۔ پھر وہ اُن کی صحبت میں کچھ وقت گزارتے، اُن کی خدمت میں رہتے اور اُن کے فیض سے اپنی زندگی سنوارتے۔ یہی ارادی صحبت ہے، یعنی انسان شعوری طور پر کسی نیک اور کامل انسان کی قربت اختیار کرنے کا قصد کرتا ہے تاکہ اس کی زندگی میں روحانی اور اخلاقی تبدیلی پیدا ہو۔

اسی طرح ہمارے دور میں ہم حضور سیدی شیخ الاسلام کی صحبت اختیار کرتے ہیں، تحریک منہاج القرآن سے وابستہ ہوتے ہیں، ان کے خطابات سنتے ہیں، ان کی کتب کا مطالعہ کرتے ہیں، اور تحریک کے مختلف اداروں اور مراکز میں حاضر ہو کر اجتماعات میں شریک ہوتے ہیں۔ ہم یہ سب کچھ شعوری طور پر اور ارادے کے ساتھ کرتے ہیں، اس لیے یہ بھی صحبتِ ارادی ہی کی ایک صورت ہے، جس کے ذریعے انسان اپنی فکر، کردار اور روحانی تربیت کو سنوارتا ہے۔

صحبت کا اَثر اور انسانی شخصیت کی تشکیل:

شیخ حماد مصطفی المدنی نے مزید کہا کہ: ہمارے اس دور کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ ہمارے اندر ایک ایسی صحبت رائج ہو چکی ہے جسے ہم غیر ارادی صحبت کہتے ہیں۔ غیر ارادی صحبت یہ ہے کہ انسان روزمرہ کی زندگی میں مختلف مجالس اور محفلوں میں بیٹھتا ہے، لوگوں کے ساتھ وقت گزارتا ہے، مگر یہ شعور نہیں رکھتا کہ وہ کن لوگوں کی صحبت میں بیٹھا ہے اور کس قسم کی گفتگو سن رہا ہے۔ ہم اکثر نجی نشستوں اور عام محفلوں میں یہ نہیں دیکھتے کہ گفتگو کا مقصد کیا ہے، اس میں سچائی ہے یا جھوٹ، اصلاح ہے یا بدگوئی، خیر ہے یا شر۔ نتیجتًا جب انسان کذب و فریب، غیبت، چغلی اور منفی سوچ رکھنے والوں کی صحبت میں بیٹھتا ہے تو آہستہ آہستہ اُن ہی کی فکری اور اخلاقی رنگت اس پر بھی چڑھ جاتی ہے۔ یوں انسان غیر محسوس طور پر منفی مزاج، ناامیدی اور اخلاقی پستی کا شکار ہو جاتا ہے، کیونکہ صحبت کا اثر لازمًا انسان کے دل و دماغ اور کردار پر منتقل ہوتا ہے۔

شیخ حماد مصطفٰی نے کہا کہ: نوجوانوں کے لیے میں خاص طور پر یہ مثال دینا چاہتا ہوں کہ آج کے دور میں غیر ارادی صحبت کی سب سے بڑی صورت اسمارٹ فون اور سوشل میڈیا ہے۔ سوشل میڈیا ایک ایسا طاقتور ذریعہ ہے جس سے ہم بے شمار فائدے بھی اٹھا سکتے ہیں، مگر اس کے نقصانات بھی کم نہیں۔ جب ہم کسی کو جان بوجھ کر فالو کرتے ہیں، لائیک کرتے ہیں یا سبسکرائب کرتے ہیں، تو یہ ارادی صحبت ہوتی ہے، کیونکہ ہم شعوری طور پر اُن لوگوں کی باتیں سن رہے ہوتے ہیں اور اُن کے مواد سے اثر قبول کر رہے ہوتے ہیں۔ مگر گزشتہ چند برسوں میں سوشل میڈیا میں ایسی تبدیلی آ گئی ہے کہ اب غیر ارادی صحبت سے بچنا مشکل ہو گیا ہے۔ اب ہماری فیڈز اور سرچنگ نتائج میں ایسی چیزیں، ایسے افراد اور ایسا مواد سامنے آ جاتا ہے جسے ہم چاہے بغیر دیکھ اور سُن لیتے ہیں۔ انسان صرف سکرول کر رہا ہوتا ہے، مگر طرح طرح کی ویڈیوز اور گفتگو اس کے سامنے آ جاتی ہیں، اور یوں وہ نادانستہ طور پر اُن کی صحبت اختیار کر لیتا ہے۔ اس غیر ارادی صحبت کا اثر انسان کی طبیعت، اخلاق اور روحانیت پر پڑتا ہے اور آہستہ آہستہ اس کی فکر اور کردار کو نقصان پہنچاتا ہے۔

بلاگر: ڈاکٹر محمد اِقبال چشتی (ریسرچ اسکالر)

تبصرہ

ویڈیو

Ijazat Chains of Authority
Top