جب تک بندے کا دل دنیا کی خواہشات سے خالی نہ ہو، اس میں اللہ تعالیٰ کی محبت کا نور پوری طرح ظاہر نہیں ہوتا: شیخ حماد مصطفی المدنی القادری

مورخہ: 26 مارچ 2026ء

اللہ تعالیٰ پہلے اپنے بندے سے محبت کرتا ہے، پھر اسی محبت کو بندے کے دل میں پیدا کر دیتا ہے: خطاب

انسان کی زندگی کا سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اُسے کیسے معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ اُس سے راضی ہے۔ اولیائے کرام فرماتے ہیں کہ جب بندہ اپنے دل کو دنیا کی بے جا خواہشات سے خالی کر لیتا ہے اور اپنے باطن کو پاکیزہ بنا لیتا ہے تو اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت کا نور ظاہر ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ دراصل حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے پہلے محبت فرماتا ہے اور پھر اسی محبت کو بندے کے دل میں پیدا کر دیتا ہے۔ جب بندے کے دل میں اللہ تعالیٰ کی طلب، اس کی یاد اور اس کی محبت غالب ہو جائے اور دنیا کی رغبتیں ماند پڑ جائیں تو یہ اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے راضی ہے اور اسے اپنی محبت کے راستے پر گامزن کر رہا ہے۔

اولیاء اللہ کی عبادت اور خلوت کا راز:

شیخ حماد مصطفی المدنی القادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: امام سری سقطیؒ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی خدمت کے لیے ایک باندی خریدی۔ وہ فرماتے ہیں کہ اس خاتون کے لیے عبادت کی ایک خاص جگہ مقرر تھی جہاں وہ زیادہ تر وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول رہتی تھی۔ اس کی کوئی اور مصروفیت نہ تھی اور نہ ہی اسے دنیا کی کسی اور چیز میں دلچسپی تھی۔ وہ تنہائی کے گوشے میں بیٹھ کر اپنے رب کو یاد کرتی، اس کا ذکر کرتی اور اسی کی عبادت میں مصروف رہتی تھی۔

امام سری سقطیؒ فرماتے ہیں کہ ایک دن میرے دل میں خیال آیا کہ ذرا قریب جا کر سنوں کہ وہ اپنے رب سے کیا باتیں کرتی ہے اور کس انداز میں مناجات کرتی ہے۔ جب میں قریب ہوا تو میں نے اسے اپنے رب سے یہ کہتے ہوئے سنا: اے میرے رب:

بحُبِّکَ لي إلا فعلتَ کذا وکذا

’’تجھے اُس محبت کا واسطہ جو تجھے مجھ سے ہے، میرا فلاں کام کر دو۔‘‘ (ابن الملقن، حدائق الأولیاء، ج1، ص 211-212)

حضرت سری سقطی فرماتے ہیں کہ میں آگے بڑھا اور میں نے کہا؛ اے خاتون! کیا یہ کہنا مناسب نہیں ہے کہ: بِحُبّي إیَّاكَ؛ کہ جو محبت مجھے تجھ سے ہے اُس کا واسطہ میرا فلاں کام کر دو۔ تو اُس باندی نے بہت عجیب جواب دیا اور وہ کہتی ہے:

يا سَيِّدِيْ، لَولَا حُبُّهُ إِيَّايَ مَا أَقْعَدَكَ وأَقَامَنِيْ

’’اے میرے آقا، اگر اُس کی محبت نہ ہوتی تو مجھے اپنی عبادت کے لیے رات بھر کھڑا نہ کرتا‘‘(ابن الملقن، حدائق الأولیاء، ج1، ص 211-212)

شیخ حماد مصطفی المدنی القادری نے مزید توضیح کرتے ہوئے کہا کہ: حضور سیدی شیخ الاسلام فرماتے ہیں کہ: اللہ رب العزت کی اپنے بندوں سے محبت، اس کا عشق، اس کی طلب اور اس کی چاہت بندوں کی محبت سے پہلے ہوتی ہے۔ یعنی سب سے پہلے اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے محبت کرتا ہے اور پھر بندے کے دل میں اپنی محبت پیدا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے دل کو دیکھتا ہے کہ آیا اس کے اندر دل کی صفائی، پاکیزگی اور اخلاص موجود ہے یا نہیں۔

جب تک انسان اپنے دل کو ہر طرح کی نفسانی خواہشات اور دنیاوی رغبتوں سے پاک نہیں کرتا، اس وقت تک اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت اور جلوہ پیدا نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ دیکھتا ہے کہ کہیں میرے بندے کے دل میں میرے سوا کوئی اور خواہش، تمنا یا جستجو تو نہیں۔ اگر دل میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور چیز کی طلب باقی ہو تو پھر اس دل میں اللہ تعالیٰ کا نور پوری طرح ظاہر نہیں ہوتا۔ لیکن جو دل اپنے آپ کو دنیا کی خواہشات سے خالی کر لیتے ہیں، اپنے آپ کو پاک اور صاف کر لیتے ہیں، ایسے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کا نور جلوہ گر ہو جاتا ہے۔

بلاگر: ڈاکٹر محمد اِقبال چشتی (سینئر ریسرچ اسکالر)

تبصرہ

ویڈیو

Ijazat Chains of Authority
Top