اللہ والوں کا تذکرہ بھی نیکی وخیر کی دعوت ہے: پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری

فرید ملت ڈاکٹر فرید الدین قادری ؒکے 53ویں سالانہ عرس کی تقریب سے خطاب
صاحبزادہ تسلیم صابری، شہزاد برادران،،ظہیر بلالی نے شان مصطفی ؐ میں گلہائے عقیدت پیش کیے

Dr Hussain Qadri Addresses 53rd Urs of Farid e Millat

لاہور (6 اپریل 2026) تحریک منہاج القرآن کے بانی و سرپرست اعلیٰ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے والد گرامی فرید ملت حضرت ڈاکٹر فرید الدین قادری ؒکے 53ویں سالانہ عرس کی تقریب اُن کے آبائی ضلع جھنگ میں ہوئی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر منہاج القرآن انٹرنیشنل پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے کہا کہ عرس ایک ایسی علمی و روحانی تقریب ہوتی ہے جس میں اہل حق و اہل علم ہستیوں کی دین اور انسانیت کیلئے انجام دی جانے والی بے لوث خدمت کا تذکرہ حصول برکت و راہنمائی کیلئے نمایاں کیا جاتا ہے تاکہ دیے سے دیا اور چراغ سے چراغ روشن ہوتے رہیں اور معاشروں میں نیکی اور بھلائی کا پیغام عام ہوتا رہے۔ اللہ والوں کا تذکرہ بھی نیکی و خیر کی دعوت ہے۔

نقابت کے فرائض معروف اینکر پرسن صفدر علی محسن نے انجام دئیے۔ تلاوت قرآن مجید کی سعادت عالمی شہرت یافتہ قاری نور احمد چشتی نے حاصل کی۔ عرس کی تقریب میں صاحبزادہ تسلیم احمد صابری، شہزاد برادران، ظہیر بلالی نے شان مصطفیؐ میں گلہائے عقیدت پیش کیے۔ پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے کہا کہ حضرت فرید ملت ؒ اپنے وقت کے بلند پایہ عالم دین، ادیب، شاعر و مصنف اور بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے معتمدین میں سے تھے، تحریک پاکستان کے لیے بے لوث خدمت انجام دینے کے اعتراف میں آپؒ کو 23 مارچ 1940 کو منٹو پارک لاہور میں منعقد ہونے والے تاریخی جلسہ میں سٹیج پر بٹھایا گیا اور نظریہ تحریک پاکستان ٹرسٹ کی طرف سے آپ کو گولڈ میڈل سے نوازا گیا۔ حضرت فرید ملت ؒ کا شمار اردو، عربی اور فارسی زبان کے ماہرین میں ہوتا تھا، اللہ نے آپ کو علم الحدیث اور علوم القرآن اور طبی علم میں خاص ملکہ عطا کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آپ کی تعلیم کا سلسلہ برصغیر پاک و ہند سے شروع ہو کر عالم عرب تک پھیلا ہوا تھا، آپ نے شرق و غرب کے نامور اہل علم حضرات اور اساتذہ سے کسب علم و فیض کیا اور پھر اس علمی فیض کو خاص و عام میں عام کیا، انہوں نے کہا کہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی تعلیم و تربیت حضرت فرید ملتؒ نے خود فرمائی، آپ نے پنجاب یونیورسٹی میں نبض کے موضوع پر مقالہ لکھا طب کے پروفیسرز حیران تھے کہ یہ ایک طالب علم کی تحریر ہے یا اس فن کے امام کا شاہکار، اس مقالہ پر آپ کو گولڈن میڈل سے نوازا گیا، اللہ نے آپ کو کمال حافظہ سے نوازا دیوان کے دیوان آپ کے حافظہ کی تختی پر نقش تھے، آپ سحر بیان مقرر بھی تھے، دور دور سے لوگ آپ کو سماعت کرنے آتے اور علم و حکمت کے موتیوں سے جھولیاں بھر کر لے جاتے، صوفی شخصیت واصف علی واصفؒ نے ایک بار شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری سے ملاقات کرکے بتایا کہ میں آپ کے والد گرامی کے شاگردوں میں سے ہوں اور میں نے ان کی صحبت سے بہت کچھ سیکھا، انہوں نے کہا کہ حضرت فرید ملتؒ کی طبعیت میں سادگی اور درویشی تھی اور ان کی زندگی کا ہر لمحہ تحصیل علم اور ترسیل علم میں بسر ہوا، آپ نے انڈیا، عرب ممالک، ترکی، ایران اور شام کے علمی سفر کیے، آپ ایک جہاندیدہ، بلند پایہ علمی و روحانی شخصیت تھے۔

عرس کی تقریب میں ایڈمنسٹریٹر دربارِ فرید الحاج صبغت اللہ قادری، بریگیڈیئر(ر) عمر حیات، جی ایم ملک، رانا محمد ادریس قادری، نوراللہ صدیقی، جواد حامد، صاحبزادہ محمد طاہر قادری، حافظ عبدالقدیر قادری، شہزاد رسول قادری، علامہ صابر کمال وٹو، حافظ عابد بشیر، رانا جمیل، حاجی محمد الیاس قادری، عطاء المصطفیٰ طاہر، حافظ محمد شکیل، سعید اختر، عارف چوہدری، علامہ منہاج الدین قادری، غلام فرید عاجز اور حاجی غلام فرید سمیت تحریک منہاج القرآن کے جملہ فورمز کے قائدین و کارکنانِ اور ملک بھر سے تشریف لائے علماء و مشائخ اور عقیدت مندوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

تبصرہ

ویڈیو

Ijazat Chains of Authority
Top