اولین رفقاء تحریک کا زندہ ورثہ ہیں، ان کی یہ نسبت سعادت بھی ہے اور ذمہ داری بھی: پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری

صدر منہاج القرآن انٹرنیشنل پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری کا فاؤنڈنگ ممبرز ڈے تقریب سے خصوصی خطاب

Dr Hussain Qadri on Founding Companions Legacy

ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے اپنے نہایت فکرانگیز خطاب میں تحریکِ منہاج القرآن کے ابتدائی رفقاء، بانی کارکنان اور اولین وابستگان کے مقام و مرتبہ کو اجاگر کرتے ہوئے واضح کیا کہ کسی بھی نیک مشن کے آغاز میں شامل ہونا محض ایک تنظیمی وابستگی نہیں بلکہ ایک ایسی سعادت ہے جو انسان کو اُس مشن کی تاریخ کا حصہ بنا دیتی ہے۔ آپ نے اس امر کی طرف توجہ دلائی کہ تحریک کا یہ سفر، جو آج بھی جاری ہے اور ان شاء اللہ طویل عرصے تک جاری رہے گا، اپنے ابتدائی مراحل میں جن نیک و صالح خواتین و حضرات کی شمولیت سے عبارت ہوا، وہ یقیناً اللہ تعالیٰ کی خاص رحمتوں کے مستحق ہیں کیونکہ جو لوگ کسی خیر کے کام کے آغاز میں شریک ہوتے ہیں، وہ دراصل اس کی بنیاد میں شامل ہو جاتے ہیں اور بعد میں اٹھنے والی پوری عمارت اسی بنیاد پر قائم ہوتی ہے۔

آپ نے شرکاء کو اس امر کی طرف متوجہ کیا کہ آج جو آسانیاں، وسعتیں اور ثمرات دکھائی دیتے ہیں، وہ دراصل انہی لوگوں کی قربانیوں کا نتیجہ ہیں جنہوں نے ابتدا میں خاموشی، استقامت اور یقین کے ساتھ اس چراغ کو روشن رکھا۔ اس لیے ان کا مقام صرف ماضی کا عنوان نہیں بلکہ حال کی رہنمائی اور مستقبل کی ذمہ داری ہے۔

اپنے خطاب میں انہوں نے اس حقیقت کو نہایت بلیغ انداز میں واضح کیا کہ اولین افراد کا مقام ہمیشہ منفرد، غیر متبدل اور ناقابلِ تکرار ہوتا ہے۔ بعد میں آنے والے افراد یقیناً بڑی خدمات انجام دیتے ہیں، تحریک کو وسعت دیتے ہیں، ادارے قائم کرتے ہیں، علمی و دعوتی کاموں کو فروغ دیتے ہیں، مگر ’’ابتدا ‘‘ کا شرف صرف انہی لوگوں کے حصے میں آتا ہے جنہوں نے نتائج ظاہر ہونے سے پہلے یقین کیا، وسائل کی فراوانی سے پہلے ساتھ دیا اور ظاہری کامیابیوں کے بغیر اخلاص، اعتماد اور وفاداری کے ساتھ ایک مشن کا ہاتھ تھاما۔ یہی وہ امتیاز ہے جو ابتدا کے مسافروں کو بعد کے قافلوں سے ممتاز کرتا ہے۔

وہ جو چل پڑے پہلے قدم پہ راہِ حق میں بے دھڑک
انہی کے نام سے زندہ ہے کارواں کا ہر رنگ و آہنگ

اسی مفہوم کو قرآنی تناظر میں بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے سورۃ الواقعہ کی یہ آیتِ مبارکہ پیش کیں:

وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ ۝ أُولَٰئِكَ الْمُقَرَّبُونَ ۝ فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِ.

آپ نے واضح کیا کہ قرآن مجید نے سبقت لے جانے والوں کو محض نمایاں افراد نہیں کہا بلکہ’’مقربون‘‘ قرار دیا ہے، یعنی وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے خاص قرب کے مستحق بنتے ہیں۔ اس آیت کی روشنی میں انہوں نے یہ حقیقت اجاگر کی کہ ہر حق پر مبنی دعوت، ہر اصلاحی جدوجہد اور ہر دینی تحریک میں وہی لوگ حقیقی معنی میں ’’السابقون‘‘ ہوتے ہیں جو آغاز کے کٹھن مرحلے میں قدم رکھتے ہیں۔ تب جو لوگ محض ایمان، یقین اور اخلاص کی قوت سے جڑ جاتے ہیں، وہی درحقیقت سبقت لے جانے والے ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے اس موقع پر حضور نبی اکرم ﷺ کے اس عظیم الشان فرمان کی طرف بھی توجہ دلائی کہ جو شخص اسلام میں کسی نیک عمل کا اجراء کرتا ہے، پھر بعد میں لوگ اس پر عمل کریں، تو اس کے لیے ان سب کے برابر اجر لکھا جاتا ہے، بغیر اس کے کہ عمل کرنے والوں کے اجر میں کوئی کمی کی جائے۔ اس حدیثِ مبارکہ کو تحریکِ منہاج القرآن کے تناظر میں بیان کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ وہ تمام افراد جنہوں نے مختلف علاقوں، شہروں اور ممالک میں اس دعوت اور مشن کی بنیاد رکھی، درحقیقت اسی عظیم بشارت کے مصداق ہیں۔ انہوں نے نہ صرف ایک نیک کام کا آغاز کیا بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے خیر، ہدایت، اصلاح اور دینی رجوع کے دروازے کھول دیے۔ یوں آج مختلف خطوں میں جو بھی دینی، تربیتی، اصلاحی اور دعوتی کام ہو رہے ہیں، جو لوگ دین کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں، جو نسلیں راہِ ہدایت اختیار کر رہی ہیں، ان سب کے اعمالِ صالحہ میں اولین محسنین اور بنیاد رکھنے والوں کا حصہ بھی شامل ہوتا ہے۔ یہ ایسا عظیم اجر ہے جس کا تسلسل زندگی تک محدود نہیں رہتا بلکہ وفات کے بعد بھی جاری رہتا ہے اور قیامت تک اس کا اجر ملتا رہے گا۔

اپنے خطاب میں آپ نے یہ نکتہ بھی نہایت وضاحت سے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ جب کسی شخص یا جماعت کو اپنے دین کی خدمت، اپنے پیغام کے فروغ اور اپنی رحمت کے ابلاغ کے لیے منتخب فرما لیتا ہے تو یہ اس کے لیے محض ایک وقتی اعزاز نہیں رہتا بلکہ دائمی سعادت بن جاتا ہے۔ ایسے لوگوں کے نام تاریخ میں محفوظ رہتے ہیں، ان کی خدمات آنے والی نسلوں کے لیے روشنی کا مینار بنتی ہیں اور ان کی نسبت ہمیشہ خیر اور برکت کے ساتھ یاد کی جاتی ہے۔ اس تناظر میں آپ نے اس حقیقت کی طرف متوجہ کیا کہ ہزاروں لوگ ایک ہی پیغام سنتے ہیں، مگر چند ہی دل ایسے ہوتے ہیں جو اسے قبول کرتے ہیں۔ یہ فرق محض ذہنی یا سماجی نہیں بلکہ توفیقِ الٰہی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بعض دلوں کو چن لیتا ہے، بعض نفوس کو خدمت کے لیے منتخب فرما لیتا ہے اور یہی انتخاب کسی شخص کی اصل سعادت ہوتا ہے۔

ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے مزید فرمایا کہ یہ اصول صرف دینی روایت تک محدود نہیں بلکہ تاریخِ انسانی میں بھی نمایاں طور پر دکھائی دیتا ہے۔ دنیا کی مختلف تحریکوں اور اقوام کی جدوجہد میں ابتدائی افراد کو ہمیشہ ایک منفرد مقام دیا گیا ہے۔ چاہے جنوبی افریقہ کی آزادی کی جدوجہد ہو یا برصغیر کی تحریکِ پاکستان، ہر جگہ ابتدا میں ساتھ دینے والوں کو بنیادی حیثیت حاصل رہی ہے کیونکہ وہی لوگ کسی مقصد کے پہلے گواہ، پہلے علمبردار اور پہلے قربانی دینے والے ہوتے ہیں۔ بعد میں کامیابیاں بہت سے افراد کو ساتھ لے آتی ہیں، مگر ابتدا میں شامل ہونا ایک الگ ظرف، الگ یقین اور الگ بصیرت چاہتا ہے۔

اسی حقیقت کو اسلامی تاریخ کی روشنی میں بیان کرتے ہوئے آپ نے اولین اہلِ ایمان کی مثالیں سامنے رکھیں اور بتایا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت بلال رضی اللہ عنہ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ، حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ اور انصارِ مدینہ جیسی عظیم ہستیاں اسی ’’سبقت‘‘ کی روشن علامت ہیں۔ یہ وہ نفوس تھے جنہوں نے دین کو اس وقت قبول کیا جب دنیاوی اعتبار سے نہ کوئی غلبہ سامنے تھا، نہ اقتدار، نہ اجتماعی قوت اور نہ کوئی مادی منفعت۔ انہوں نے حق کو محض اس لیے اختیار کیا کہ وہ حق تھا اور پھر اپنی جان، مال، وقت، راحت اور پوری زندگی اسی کے لیے وقف کر دی۔ اس لیے اسلامی تاریخ میں ان کا مقام محض خدمات کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لیے بھی بلند ہے کہ انہوں نے آغاز کے دشوار ترین مرحلے میں وفاداری نبھائی۔

اسی تسلسل میں ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے قرآن مجید میں انبیاء کرام علیہم السلام کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ دعوت کے ابتدائی مراحل میں ہمیشہ افراد کم ہوتے ہیں، مگر یہی کم تعداد بعد میں عظیم تاریخ رقم کرتی ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعوت کے آغاز میں بھی ساتھ دینے والے بہت محدود تھے، مگر جب حق واضح ہوا تو بعد میں ایمان لانے والے بھی اسی قافلے کا حصہ بنے۔ اس سے یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ کسی مشن کے پہلے ساتھی محض عددی اعتبار سے اہم نہیں ہوتے بلکہ وہ اس کے شعوری، روحانی اور عملی ستون ہوتے ہیں۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مدد کے لیے پکارا تو جن مخلص نفوس نے فوراً لبیک کہا، وہی درحقیقت اس جدوجہد کے پہلے حقیقی مددگار قرار پائے۔

اسی طرح کسی بھی تحریک کے آغاز میں شامل ہونا سب سے مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ اس وقت سامنے کامیابیوں کی روشن مثالیں نہیں ہوتیں، نتائج واضح نہیں ہوتے، وسائل محدود ہوتے ہیں، اور بعض اوقات ماحول بھی ناموافق ہوتا ہے۔ ایسے میں جو لوگ محض ایمان اور اعتماد کے ساتھ قدم بڑھاتے ہیں، وہی دراصل حقیقی سبقت لے جانے والے ہوتے ہیں۔

اپنے خطاب میں آپ نے یہ بھی واضح کیا کہ دینی، اصلاحی اور صوفیانہ تحریکوں کی تاریخ بھی اسی اصول کی شاہد ہے۔ بغداد کی علمی سرزمین ہو، برصغیر کی اصلاحی تحریکیں ہوں یا روحانی سلاسل کی تاریخ، ہر جگہ وہی لوگ اصل بنیاد قرار پاتے ہیں جو ابتدا میں اخلاص، اطاعت اور بے نفسی کے ساتھ جڑتے ہیں۔ اس راستے میں اصل کمال ظاہری حیثیت، سماجی مقام یا وقتی شہرت میں نہیں بلکہ اس عاجزانہ وابستگی میں ہوتا ہے جس کے ذریعے ایک فرد اپنے آپ کو کسی بڑے مقصد کے لیے وقف کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر عظیم تحریک کی روح اس کے اولین وابستگان کے اخلاص سے تشکیل پاتی ہے۔

ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے یہ بھی فرمایا کہ ہر اعزاز اپنے ساتھ ایک عظیم ذمہ داری بھی لاتا ہے۔ اگر ابتدائی رفاقت ایک شرف ہے تو اس شرف کے کچھ تقاضے بھی ہیں کہ اسے محض فخر کی علامت نہ بنایا جائے بلکہ ایک امانت سمجھا جائے۔ انہوں نے بزرگ رفقاء اور اولین وابستگان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ سب اس مشن کا زندہ ورثہ ہیں۔ آپ کی زندگیوں کے بہترین لمحات، آپ کی توانائیاں، آپ کی قربانیاں، آپ کی جدوجہد، آپ کے مشاہدات اور آپ کی یادیں اس سفر کا وہ سرمایہ ہیں جو صرف تحریروں اور دستاویزات میں محفوظ رہنے کے لیے نہیں ہے۔ نئی نسل کو اس ورثے سے جوڑنا، ان قربانیوں کی روح سے آشنا کرنا اور اس نسبت کی حرارت کو آئندہ نسلوں تک منتقل کرنا وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔

آپ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ورثہ اگر آگے منتقل نہ ہو تو اپنی حقیقی معنویت کھو دیتا ہے۔ اس لیے اس تحریک کے ساتھ اپنے تعلق کو محض ماضی کی یادگار نہ بنایا جائے بلکہ اسے حال کی ذمہ داری اور مستقبل کی امانت کے طور پر زندہ رکھا جائے۔ بزرگ رفقاء کی صحبت، ان کے تجربات، ان کی دعائیں، ان کی یادداشتیں اور ان کا عملی مشاہدہ نئی نسل کے لیے ایک زندہ درس گاہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ جو کچھ انہوں نے اپنے زمانے میں دیکھا، جس خلوص کے ساتھ اس مشن کی بنیادوں کو مضبوط کیا اور جن حالات میں وفا کا پرچم اٹھائے رکھا، وہ سب آنے والے افراد کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ اس لیے نئی نسل کو ان سے جوڑنا دراصل تحریک کے فکری اور روحانی تسلسل کو محفوظ کرنا ہے۔

ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے اس جامع پیغام کے ساتھ اپنی گفتگو سمیٹی کہ اس عظیم مشن کے ساتھ تعلق کو ہمیشہ زندہ رکھا جائے، اس کی خدمت کو جاری رکھا جائے، اس نسبت کی حفاظت کی جائے اور اس امانت کو اگلی نسلوں تک منتقل کیا جائے، تاکہ یہ قافلہ اخلاص، وفا، خدمت اور برکت کے ساتھ آگے بڑھتا رہے۔

Dr Hussain Qadri on Founding Companions Legacy

Dr Hussain Qadri on Founding Companions Legacy

Dr Hussain Qadri on Founding Companions Legacy

Dr Hussain Qadri on Founding Companions Legacy

Dr Hussain Qadri on Founding Companions Legacy

Dr Hussain Qadri on Founding Companions Legacy

تبصرہ

ویڈیو

Ijazat Chains of Authority
Top