جو ذات وقت کی خالق ہو، اُسے وقت کے پیمانے سے ناپنا سب سے بڑا فکری مغالطہ ہے:پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری

جو شخص اُس الوہی ذات کو اپنا خالق مانتا ہے، اُس کی زندگی کے رجحانات روحانیت کی طرف مائل رہتے ہیں: صدر منہاج القرآن
وقت کے اندر رہ کر وقت سے ماوراء ذات کو جانچنا علم نہیں، جہالت ہے: صدر منہاج القرآن

ملحدین کا بنیادی اعتراض کہ ’’خدا کب سے ہے اور اُسے کس نے بنایا‘‘ دراصل ایک فکری مغالطے پر قائم ہے، کیونکہ یہ سوال اُس ذات کے بارے میں کیا جا رہا ہے جو خود وقت کی خالق ہے، نہ کہ وقت کی پابند۔ جس ہستی نے لمحہ، ساعت اور زمانے کو پیدا کیا ہو، اُسے انہی پیمانوں میں ناپنے کی کوشش کرنا عقل کی حد سے تجاوز ہے، دلیل کی قوت نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وقت کے اندر رہ کر وقت سے ماوراء ذات کو پرکھنا علم نہیں بلکہ جہالت کی علامت بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص اس الوہی ذات کو اپنا خالقِ حقیقی مان لیتا ہے، اس کی فکر، اس کے رجحانات اور اس کی زندگی کی سمت خود بخود روحانیت کی طرف مائل ہو جاتی ہے، کیونکہ خالق کی پہچان نہ صرف کائنات کے فہم کو درست کرتی ہے بلکہ انسان کے وجود، مقصد اور رویّوں کو بھی معنویت عطا کرتی ہے۔

خدا کب سے ہے اور اس کا بنانے والا کون ہے؟

پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: کچھ لوگ خدا کے وجود کا انکار کرتے ہیں اور یہ مانتے ہیں کہ کائنات خود بخود وجود میں آ گئی، کسی نے اسے پیدا نہیں کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی ہستی خود سے وجود میں نہیں آ سکتی تو خدا کا تصور کیسے مانا جائے؟ لیکن یہی لوگ جب کائنات کے بارے میں بات کرتے ہیں تو بگ بینگ کے نظریے کے تحت یہ دعویٰ کر دیتے ہیں کہ پوری کائنات خود سے وجود میں آ گئی۔ اس طرح وہ اپنے ہی اعتراض کی نفی کر دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ خدا کا انکار نہیں کرتے بلکہ خالقِ کائنات کا انکار کر کے خود کائنات کو خدا بنا لیتے ہیں۔

اصل فرق دراصل اُن کی سوچ کی سمت کا ہے۔ جو شخص اس روحانی اور الوہی ذات کو اپنا خالق مانتا ہے، اس کی زندگی کے رجحانات روحانیت کی طرف مائل رہتے ہیں، اور جو شخص مادی کائنات کو ہی سب کچھ سمجھ لیتا ہے، وہ اُسی دنیا کو اپنا معبود بنا لیتا ہے اور ساری زندگی اُسی کی عبادت میں گزار دیتا ہے۔ پھر اس کی رغبت مال، شہرت، دولت، خواہشات اور نفسانی لذتوں تک محدود ہو جاتی ہے۔ چونکہ کائنات خود فانی ہے، اس لیے اُسے خدا ماننے والے بھی فنا کے راستے پر چل پڑتے ہیں۔ اس کے برعکس جو شخص کائنات کے خالق، مالکِ حقیقی کو خدا مانتا ہے، وہ بقاء سے جُڑ جاتا ہے۔ اس کے رجحانات بھی باقی رہتے ہیں اور اس کی زندگی کا مقصد بھی باقی رہتا ہے۔ اسی لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ انسان اپنی اصل کو پہچانے، روحانی بنے اور اللہ کا بندہ رہے، نہ کہ کائنات کا بندہ بن کر رہ جائے۔

وقت کے خالق کو وقت میں قید کرنے کا فکری مغالطہ:

ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے مزید کہا کہ: اکثر لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ اگر اللہ ربّ العزت موجود ہے تو وہ کب سے ہے؟ حالانکہ ’’کب‘‘ کا سوال خود وقت کے ساتھ جڑا ہوا ہے، اور وقت کوئی اَزلی حقیقت نہیں بلکہ خالقِ کائنات کی پیدا کردہ ایک شے ہے۔ جب اللہ تعالیٰ خود وقت کا خالق ہے تو اُسے وقت کے پیمانے سے ناپنے کی کوشش ہی ایک فکری مغالطہ ہے۔ جس ذات نے ساعت، لمحہ اور گھڑی کو پیدا کیا ہو، اُسے اُنہی پیمانوں میں قید کرنا عقل کے خلاف ہے۔

اس کی مثال یوں سمجھ لیجیے جیسے کسی نے ایک کمپیوٹر بنایا ہو اور وہ شخص خود کہیں باہر بیٹھا ہو۔ اگر وہ کمپیوٹر سے پوچھے کہ مجھے بتاؤ میں کون ہوں، تو کمپیوٹر اس کا درست اندازہ نہیں لگا سکتا، کیونکہ وہ خود ایک پروڈکٹ ہے اور اپنے خالق کو پہچاننے کے لیے خالق کی طرف سے دی گئی معلومات کا محتاج ہے۔ بالکل اِسی طرح یہ کائنات بھی اللہ کی بنائی ہوئی ہے، اور ہم خود اُس کی مخلوق ہیں۔ مخلوق اپنی محدود عقل سے خالق کا مکمل اِحاطہ نہیں کر سکتی، جب تک خالق خود اپنی پہچان کا کوئی پہلو ظاہر نہ کرے۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل و شعور عطا کیا، مگر ہر حقیقت کو ناپنے کے لیے نہیں، بلکہ اپنی بندگی اور پہچان کے لیے۔ اس لیے یہ کہنا کہ ’’خدا کب سے ہے‘‘ دراصل عقل کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے، نہ کہ خدا کے وجود پر کوئی دلیل فراہم کرتا ہے۔ وقت میں قید ہو کر وقت سے ماوراء ذات کو پرکھنے کی کوشش، علم نہیں بلکہ جہالت کی علامت ہے۔

بلاگر: ڈاکٹر محمد اِقبال چشتی (ریسرچ اسکالر)

تبصرہ

ویڈیو

Ijazat Chains of Authority
Top