اولاد کا والدین کے لیے بخشش کی دعا کرنا اُن کو جنت میں اَعلی درجات عطا کرتا ہے: شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری

والدین کو یاد کر کے اُن کے لیے دعا کرنا ایسا عمل ہے جو انسان کو زندگی بھر جاری رکھنا چاہیے: شیخ الاسلام کا خطاب
جنت میں والدین کے درجات کا بلند ہونا، اولاد کی دعاؤں اور استغفار کا ثمر ہوتا ہے: شیخ الاسلام کا خطاب

مرحوم والدین کی روح کو سکون پہنچانے کا سب سے مؤثر، پاکیزہ اور دائمی ذریعہ اولاد کی دعا اور استغفار ہے، جو نہ صرف دنیا میں قلبی تسلّی کا سبب بنتا ہے بلکہ آخرت میں والدین کے درجات کی بلندی کا وسیلہ بھی بنتا ہے۔ اسلام نے اولاد کے رشتے کو محض نسبی تعلق نہیں بلکہ ایک روحانی ذمہ داری قرار دیا ہے، جس کا اثر موت کے بعد بھی باقی رہتا ہے۔ والدین کو یاد کر کے اُن کے لیے بخشش مانگنا اِس بات کا اعلان ہے کہ محبت، احسان اور وفاداری وقت اور حیات کی قید سے آزاد ہیں۔ یہی وہ دعا ہے جو قبر کی تنہائی میں نور بن کر اُترتی ہے اور جنت میں درجات کی بلندی کا سبب بنتی ہے، کیونکہ والدین کے اعمال رُک جانے کے بعد بھی اولاد کی نیک دعائیں اُن کے نامۂ اعمال کو زندہ رکھتی ہیں۔

مرحوم والدین کی روح کو سکون پہنچانے کا طریقہ

مجدّد المئۃ الحاضرۃ حضور شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیۃنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: اولاد کو چاہیے کہ ساری زندگی اپنے والدین کے لیے دعائیں کرے اور کہے:

﴿وَقُلْ رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا﴾

’’اور (اللہ کے حضور) عرض کرتے رہو: اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے (رحمت و شفقت سے) پالا تھا‘‘ [الإسراء : 24]


یعنی انسان کو ہر حال میں یہ دعا کرتے رہنا چاہیے: اے اللہ! میرے والدین پر رحم فرما، چاہے وہ زندہ ہوں یا وفات پا چکے ہوں، دونوں صورتوں میں اُن پر ویسی ہی رحمت نازل فرما جیسی انہوں نے میرے بچپن میں مجھ پر کی۔ انہوں نے شفقت اور محبت کے ساتھ مجھے پالا، میری پرورش کی، بڑا کیا اور جوانی تک پہنچایا۔ قرآن میں رَبَّيَانِي صَغِيرًا کہہ کر انسان کو اس کے بچپن کی یاد دہانی کرائی گئی ہے، تاکہ وہ اپنی یادداشت کے دریچوں کو کھولے اور سوچے کہ ماں باپ نے اس کے لیے کتنی قربانیاں دیں۔ جب انسان اُن کی بے لوث محبت، تربیت اور کفالت کو یاد کرتا ہے تو دل خود بخود دعا کی طرف مائل ہو جاتا ہے کہ اے اللہ! تو بھی اُن پر ایسی ہی کامل رحمت فرما۔ یہی دعا اور یہی احساس انسان کے ساتھ ساری زندگی قائم رہنا چاہیے۔

اولاد کا والدین کے لیے دعا کرنا درجات کی بلندی ہے

شیخ الاسلام نے مزید کہا کہ: اگر اولاد اپنے والدین کے لیے دعا کرتی رہے تو اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ والدین کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد بھی اُن کے نامۂ اعمال میں نیکی کا اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ ممکن ہے اُن کے اعمال میں کچھ کمی رہ گئی ہو، مگر نیک اولاد کی دعائیں اس کمی کو پورا کر دیتی ہیں۔ اس لیے ماں باپ کو چاہیے کہ وہ زندگی ہی میں یہ عزم کر لیں کہ اپنی اولاد کو دیندار، صالح اور نیک بنا کر جائیں۔ کیونکہ انسان کے انتقال کے بعد اس کے ذاتی اعمال ختم ہو جاتے ہیں، اب وہ خود کچھ کرنے کے قابل نہیں رہتا۔ ایسے وقت میں جو سب سے بڑا نفع پہنچانے والا عمل باقی رہتا ہے وہ نیک اولاد ہوتی ہے۔ جو والدین اپنی اولاد کی صحیح تربیت کر جاتے ہیں، وہ دراصل اپنی آخرت کا سامان خود تیار کر لیتے ہیں۔

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَرْفَعُ الدَّرَجَةَ لِلْعَبْدِ الصَّالِحِ فِي الْجَنَّةِ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، أَنَّى لِي هَذِهِ؟ فَيَقُولُ: بِاسْتِغْفَارِ وَلَدِكَ لَكَ.

أحمد بن حنبل، المسند، جلد2، ص 509، رقم: 10618

’’بے شک اللہ تعالیٰ اپنے کسی نیک بندے کا جنت میں درجہ بلند فرماتا ہے، وہ عرض کرتا ہے یا رب، مجھے یہ درجہ کیسے میسر ہوا ہے؟ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تیرے بیٹے نے تیرے لیے بخشش کی دعا کی ہے۔‘‘

اولاد کی دعا اور جنت میں والدین کا بلند مقام

شیخ الإسلام نے مزید توضیح کرتے ہوئے کہا کہ: جب جنت میں کسی بندے کا درجہ بلند کیا جائے گا تو وہ حیرت سے عرض کرے گا: اے اللہ! میرے اعمال تو ایسے نہیں تھے کہ میں اس بلند مقام تک پہنچ سکتا۔ یہ مقام مجھے کیسے عطا ہو گیا؟ تب اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا: یہ تیرے انتقال کے بعد تیری اولاد کی دعاؤں اور استغفار کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے تیرے لیے بخشش مانگی، اسی دعا نے تجھے جنت میں بلند مرتبہ عطا کر دیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اولاد کا والدین کے لیے دعا کرنا اور استغفار کرنا، والدین کے لیے جنت میں اعلیٰ درجات کا سبب بن جاتا ہے۔

ایک اور مقام پر حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

تُرْفَعُ للمیّتِ بعد موتہ درجۃٌ أي رب أيُّ شيءٍ هذه؟ فيقال: ولدك استغفر لك۔

(بخاری، الأدب المفرد، ص 28، رقم: 36)

’’میت کے فوت ہونے کے بعد اُس کے درجات بلند کیے جاتے ہیں، وہ میت کہے گی، اے میرے رب: یہ درجہ مجھے کیسے میسر ہو گیا؟ تو اُسے کہا جائے گا: یہ تیری اولاد نے تیرے لیے بخشش کی دعا کی ہے۔‘‘

یعنی اولاد کی طرف سے کی گئی دعا والدین کےلیے وہ نیکی ہے جو اُن کے نامۂ اعمال کو روشن رکھتی ہے۔

بلاگر: ڈاکٹر محمد اقبال چشتی (ریسرچ اسکالر)

تبصرہ

ویڈیو

Ijazat Chains of Authority
Top