حضرت علیؓ امت کی رہنمائی کے لئےعلم و حکمت کا سرچشمہ ہیں: علامہ رانا محمد ادریس
حضرت علیؓ کی زندگی تقویٰ، طہارت، سادگی اور زہد و قناعت کا کامل نمونہ تھی
حضرت علیؓ دین کے علم کے ظاہری اور باطنی معانی سے آگاہ تھے: جمعۃ المبارک کے اجتماع سے خطاب

لاہور (2 جنوری 2026) نائب ناظمِ اعلیٰ تحریک منہاج القرآن علامہ رانا محمد ادریس نے جامع شیخ الاسلام میں جمعۃ المبارک کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئےکہا کہ جس کاسینہ اسلام کے علم کے لیے جتنا کھلتا جاتا ہے وہ اتنا ہی اللہ کے نور پر فائز ہوتا چلا جاتا ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ دین کے علم کے ظاہری اور باطنی معانی سے آگاہ تھے آپ سے بہتر قرآن و سنہ کا کوئی اور بڑا شارح نہیں ہو سکتا، آپ کے فرامین اور اقوال جہالت کے اندھیروں کو دور کرتے ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ اللہ جس کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین کا فہم عطا کر دیتا ہے مولائے کائنات حضرت علیؓ کی ذاتِ گرامی اسلام کی حقانیت، عدل و انصاف، شجاعت، علم و حکمت اور تقویٰ و طہارت کا روشن مینار ہے۔ آپؓ کی پوری زندگی دینِ اسلام کی عملی تصویر اور رسولِ اکرم ﷺ کی تعلیمات کا مظہر ہے۔ حضرت علیؓ کی ولادتِ باسعادت اللہ تعالیٰ کی طرف سے امتِ مسلمہ کے لیے عظیم نعمت ہے۔
علامہ رانا محمد ادریس نے کہا کہ حضرت علیؓ نے بطور خلیفہ عدل و انصاف کا ایسا نظام قائم کیا جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ حضرت علیؓ کا عدل آج کے حکمرانوں اور عدالتی نظام کے لیے مشعلِ راہ ہے، جسے اختیار کر کے معاشرے سے ظلم و ناانصافی کا خاتمہ ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت علیؓ کی شجاعت محض میدانِ جنگ تک محدود نہیں تھی بلکہ حق بات کہنے، ظلم کے سامنے ڈٹ جانے اور اصولوں پر قائم رہنے میں بھی نمایاں تھی۔ بدر، اُحد، خندق اور خیبر سمیت متعدد معرکوں میں حضرت علیؓ نے اسلام کی سربلندی کے لیے بے مثال جرأت کا مظاہرہ کیا۔ آپؓ کی شجاعت دراصل ایمان کی پختگی اور اللہ پر کامل توکل کا عملی اظہار تھی۔
نائب ناظمِ اعلیٰ علامہ رانا محمد ادریس نے کہا کہ حضرت علیؓ علم و حکمت کا وہ سرچشمہ ہیں جن سے صدیوں سے امتِ مسلمہ فیض یاب ہو رہی ہے۔ آپؓ کے فرامین، خطبات اور اقوال میں زندگی کے ہر شعبے کے لیے رہنمائی موجود ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ نے آپؓ کو ’’بابُ العلم‘‘ قرار دے کر امت کو یہ پیغام دیا کہ حضرت علیؓ کا علم قرآن و سنت کی گہری سمجھ کا عکاس ہے۔
علامہ رانا محمد ادریس نے کہا کہ حضرت علیؓ کی زندگی تقویٰ، طہارت، سادگی اور زہد و قناعت کا کامل نمونہ تھی۔ آپؓ اقتدار میں رہ کر بھی سادہ زندگی بسر کرتے رہے اور ہمیشہ آخرت کو دنیا پر ترجیح دی۔ انہوں نے کہا کہ یومِ ولادتِ حضرت علیؓ ہمیں اس عہد کی تجدید کا درس دیتا ہے کہ ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں عدل، علم، شجاعت اور تقویٰ کو اپنائیں اور اسلامی معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کریں۔


















تبصرہ