2025 غریب ملکوں کے لئے تباہ کن ثابت ہوا: پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری
انسانیت آج بھی امن، تحفظ اور انصاف کی متلاشی ہے: صدر منہاج القرآن

لاہور(7 جنوری 2026) صدر منہاج القرآن انٹرنیشنل پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے کہا ہے کہ سال 2025 انسانی تاریخ کے ان المناک ادوار میں شامل ہو چکا ہے جب دنیا کے مختلف خطوں میں بسنے والے انسان ایک ہی طرح کے درد، بھوک، خوف اور غیر یقینی مستقبل کا سامنا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جدید تہذیب، سائنسی ترقی اور معاشی نظام کے باوجود انسانیت آج بھی امن، انصاف اور بنیادی ضروریاتِ زندگی کی ضمانت حاصل کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے عالمی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2025 غریب اور ترقی پذیر ممالک کے لیے غیر معمولی طور پر تباہ کن سال ثابت ہوا، جہاں جنگوں، بھوک، ماحولیاتی تبدیلیوں اور بین الاقوامی امداد میں شدید کمی نے انسانی بحران کو خطرناک حد تک بڑھا دیا۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت دنیا بھر میں 61 جنگیں جاری ہیں، جو دوسری جنگِ عظیم کے بعد بدترین صورتحال قرار دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر جاری جنگوں اور مسلح تنازعات کے باعث 2025 میں دنیا بھر میں 2 لاکھ 40 ہزار سے زائد افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جن میں بڑی تعداد عام شہریوں کی ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے کہا کہ یہ بحران محض اعداد و شمار تک محدود نہیں بلکہ یہ انسانی دکھ، بے گھری، بھوک اور برباد مستقبل کی ایک طویل داستان ہے۔ دنیا کے مختلف خطوں میں لاکھوں خاندان زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں، کہیں بھوک سے بچوں کی اموات ہو رہی ہیں تو کہیں بوڑھے اور بیمار بنیادی سہولیات نہ ہونے کے باعث زندگی کی آخری سانسیں لے رہے ہیں۔ جنگ زدہ علاقوں میں بستیاں اجڑ چکی ہیں، کھیت ویران ہو چکے ہیں اور امید کی کرنیں ماند پڑتی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس کے مطابق 2025 میں 6 کروڑ بچے شدید غذائی قلت کا شکار رہے جبکہ ایک کروڑ 10 لاکھ بچوں کو براہِ راست موت کے خطرے کا سامنا کرنا پڑا۔ ورلڈ فوڈ پروگرام نے خبردار کیا ہے کہ 2026 تک دنیا بھر میں 31 کروڑ 80 لاکھ افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہوں گے، جو 2019 کے مقابلے میں دگنی تعداد ہے۔


















تبصرہ