نفس کی اصلاح ہی انسان کی اصل کامیابی ہے: پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری

dr-hussain qadri jumma address Jamia Shaykh-ul-Islam Lahore

صدر منہاج القرآن انٹرنیشنل پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے جامع شیخ الاسلام ماڈل ٹاؤن لاہور میں جمعۃ المبارک کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انسانی ذہنی و روحانی سکون کا ایک منظم تصور چار اصولوں، یعنی خِرد آگہی، خُدا آگہی، خیال آگہی اور خُود آگہی، پر مشتمل ہے۔ آج کی نشست میں بالخصوص خیال آگہی اور خُود آگہی کو سمجھنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیال آگہی مائنڈفل نیس کا تیسرا اصول ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے خیالات، احساسات اور وسوسوں کا مشاہدہ کرے، ان کے اسباب کو سمجھے اور حال میں جینا سیکھے۔ اسی کیفیت کو Present Moment Awareness کہا جاتا ہے، جو انسان کو بے مقصد ذہنی بھٹکاؤ سے بچا کر توجہ، یکسوئی اور استقامت عطا کرتی ہے۔ قرآنِ مجید کے مطابق وہی شخص فلاح پاتا ہے جو اپنے نفس کو پاک کر لیتا ہے، کیونکہ درحقیقت نیت ہی اعمال کی بنیاد ہے اور اگر نیت میں کھوٹ ہو تو بظاہر نیک اعمال بھی بارگاہِ الٰہی میں مقبول نہیں ہوتے۔

پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے کہا کہ خیال آگہی انسان کو تکبر، حسد اور وسوسوں کا محاسبہ سکھاتی ہے اور جب خیالات پاکیزہ ہو جائیں تو اعمال بھی مقبول ہو جاتے ہیں۔ اسلام ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ وسوسوں کو پہچان کر اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کی جائے۔ نبی کریم ﷺ نے ذکر، استغفار، طہارت اور پاکیزگیِ لباس کے ساتھ ساتھ خیالات کی پاکیزگی پر خصوصی زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ نماز محض جسمانی مشق نہیں بلکہ ربِ کائنات کی بارگاہ میں کامل توجہ اور حضوری کا نام ہے، اور اس کی روح خشوع و خضوع ہے۔ ایسی نماز جو بندے کو دنیا سے کاٹ کر مکمل طور پر اللہ کے حضور جھکا دے، دراصل خیال آگہی کی اعلیٰ ترین صورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صوفیا و اولیائے کرام کے ہاں خلوت، مراقبہ اور نماز ایک ہی حقیقت کے مختلف مظاہر ہیں، اور نماز وہ مراقبہ ہے جو مومن کو دن میں پانچ مرتبہ نصیب ہوتا ہے۔

صدر منہاج القرآن انٹرنیشنل نے خُود آگہی کو چوتھا اور نہایت اہم اصول قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو شخص خود کو پہچان لیتا ہے، وہی خُدا کو پہچاننے کے راستے پر گامزن ہو جاتا ہے۔ خُود آگہی انسان کو اپنی کمزوریوں، خامیوں اور مقصدِ حیات کا شعور عطا کرتی ہے۔ انہوں نے حضرت عمرؓ کے فرمان “اپنا محاسبہ خود کرو، اس سے پہلے کہ تمہارا حساب لیا جائے” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مسلسل خود احتسابی ہی مضبوط کردار کی بنیاد ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ صوفیائے کرام کے مطابق خُود آگہی کے چار مراحل، خُود شناسی، خُود نگری، خُود گری اور خُود گیری ہیں، یہ چار مراحل انسان کو مسلسل اصلاحِ نفس اور کردار سازی کی طرف لے جاتے ہیں۔ غصہ اور حسد جیسے منفی جذبات کا علاج اعتراف، توبہ اور دعا میں ہے، کیونکہ حسد بذاتِ خود ایک سزا ہے جو انسان کو دنیا ہی میں جلا دیتی ہے۔

آخر میں انہوں نے دعا کی کہ جب انسان کو خِرد آگہی، خُدا آگہی، خیال آگہی اور خُود آگہی نصیب ہو جائے تو اسے حضورِ قلب عطا ہوتا ہے اور اس کی زندگی خیر، سکون اور بھلائی میں بدل جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو حضورِ قلب، پاکیزہ خیالات اور کامل خود آگہی نصیب فرمائے، آمین یا رب العالمین۔

جمعۃ المبارک کے اجتماع میں علمائے کرام، قائدین تحریک منہاج القرآن، گوشہ نشینان، اندرونِ ملک و بیرونِ ممالک سے آئے وفود سمیت لاہور بھر سے عوام الناس کی کثیر تعداد نے شرکت و ملاقات کی۔ بعد از نماز ملک و ملتِ اسلامیہ بالخصوص عالمِ اسلام کے استحکام اور سلامتی کے لیے دعا کی گئی۔

dr-hussain qadri jumma address Jamia Shaykh-ul-Islam Lahore

dr-hussain qadri jumma address Jamia Shaykh-ul-Islam Lahore

dr-hussain qadri jumma address Jamia Shaykh-ul-Islam Lahore

dr-hussain qadri jumma address Jamia Shaykh-ul-Islam Lahore

dr-hussain qadri jumma address Jamia Shaykh-ul-Islam Lahore

dr-hussain qadri jumma address Jamia Shaykh-ul-Islam Lahore

dr-hussain qadri jumma address Jamia Shaykh-ul-Islam Lahore

dr-hussain qadri jumma address Jamia Shaykh-ul-Islam Lahore

dr-hussain qadri jumma address Jamia Shaykh-ul-Islam Lahore

dr-hussain qadri jumma address Jamia Shaykh-ul-Islam Lahore

dr-hussain qadri jumma address Jamia Shaykh-ul-Islam Lahore

dr-hussain qadri jumma address Jamia Shaykh-ul-Islam Lahore

تبصرہ

ویڈیو

Ijazat Chains of Authority
Top