توبہ درحقیقت رجوع اِلی اللہ کا سفر ہے جس میں انسان اپنی اصل کی طرف لوٹتا ہے: شیخ حماد مصطفی المدنی القادری

توفیقِ توبہ خود اِس بات کی علامت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بندے پر اپنی نظرِ رحمت فرما دی ہے: خطاب

توبہ محض الفاظ کی معافی طلبی نہیں، بلکہ روح کی وہ بیداری ہے جو انسان کو اپنی حقیقت پہچاننے اور اپنے رب کی طرف پلٹنے پر آمادہ کرتی ہے۔ جب دل پر ندامت کی روشنی اترتی ہے تو بندہ محسوس کرتا ہے کہ وہ محض خطا سے نہیں، بلکہ غفلت سے بھی واپسی کا سفر شروع کر رہا ہے۔ یہی رجوع اِلی اللہ دراصل انسان کو اس کی اصل بندگی سے جوڑتا ہے، اور توفیقِ توبہ اس امر کی لطیف بشارت بن جاتی ہے کہ رحمتِ الٰہی نے اُسے اپنی آغوشِ توجہ میں لے لیا ہے۔ یوں توبہ ایک ایسا باطنی انقلاب بن جاتی ہے جو گناہ کی تاریکی کو امید، قرب اور نئی زندگی کی روشنی میں بدل دیتا ہے۔ یوں قربِ خدا کا سفر دل کی ندامت سے شروع ہو کر عزم، ذکر اور مسلسل عملی جدوجہد کے ذریعے تکمیل پاتا ہے، اور یہی قبولیتِ توبہ کی اصل روح اور اس کا ادبی و روحانی حُسن ہے۔

توبہ کا مفہوم اور اُس کی حقیقت:

شیخ حماد مصطفی المدنی القادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: توبہ کا مطلب اہلِ عرب کے نزدیک ’’لوٹنا‘‘ یا ’’رجوع کرنا‘‘ ہے۔ جیسے کوئی شخص سفر پر نکلے، راستے میں مختلف جگہوں پر ٹھہرے، مگر آخرکار اُسے اپنے اصل مقام کی طرف واپس جانا ہوتا ہے۔ اسی طرح اپنی اصل کی طرف پلٹنے کو توبہ کہتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ ہماری اصل کیا ہے، ہمیں کہاں لوٹنا ہے، اور ہماری حقیقی منزل اور مقصد کیا ہے؟ قرآنِ مجید ہمیں یہی شعور دیتا ہے کہ انسان کا اصل رجوع اپنے رب کی طرف ہے، اور اسی واپسی میں اُس کی کامیابی اور سکون پوشیدہ ہے۔ اللہ رب العزت قرآنِ مجید میں اِسی اَمر کی طرف اشارہ فرماتا ہے۔ ارشادِ خداوندی ہے:

﴿إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ﴾

’’بے شک ہم بھی اللہ ہی کا (مال) ہیں اور ہم بھی اسی کی طرف پلٹ کر جانے والے ہیں‘‘[البقرة : 156]

یعنی ہر انسان اللہ ربّ العزت ہی کی طرف سے آیا ہے اور آخرکار اُسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ یہی واپسی ہماری اصل، ہماری حقیقی منزل اور ہمارے وجود کا مقصود ہے۔ اس اعتبار سے توبہ دراصل رجوع کا عمل ہے۔ ایک ایسا باطنی سفر جس میں انسان بھٹکاؤ سے نکل کر اپنی اصل کی طرف پلٹتا ہے۔ چونکہ انسان کی اصل اللہ تعالیٰ کی بارگاہ ہے، اس لیے توبہ حقیقت میں اپنے رب کی طرف شعوری واپسی اور قربِ الٰہی کی جستجو کا نام ہے۔ اِسی اَمر کی طرف قرآنِ مجید میں اللہ رب العزت فرماتا ہے:

﴿وَإِلَى اللَّهِ تُرْجَعُ الْأُمُورُ﴾

’’تو سارے کام اللہ ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے‘‘ [البقرة : 210]

یعنی ہر شے نے اور ہر کسی نے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا ہے۔

عزیزانِ محترم! اعتکاف کے بابرکت عشرے میں ہماری حاضری بھی دراصل ایک روحانی سفر ہے۔ اس مقدس ماحول میں آنا ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ ہر آنے والے کو ایک دن واپس بھی جانا ہوتا ہے۔ جیسے ہم دنیا میں آئے ہیں اور آخرکار پلٹ کر جانا ہے۔ اس لیے یہاں سے جو روحانی رنگ، شوق اور تازگی ہم لے کر جا رہے ہیں، اسے اپنی زندگی میں قائم رکھنا ہماری ذمہ داری ہے۔ جو نیک صحبت ہمیں میسر آئی، اُس کے فیوض و برکات اور دل میں اُترنے والی روشنی کو سنبھال کر رکھنا چاہیے، تاکہ اعتکاف کا اثر ہمارے کردار اور معمولات میں بھی نمایاں رہے۔

بلاگر: ڈاکٹر محمد اِقبال چشتی (ریسرچ اسکالر)

تبصرہ

ویڈیو

Ijazat Chains of Authority
Top