قرآن لیڈر شپ کے خادمانہ وصف پر زور دیتا ہے: پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری
سائنس آف مینجمنٹ کا تصور مغرب سے نہیں آیا، قرآن مجید کا یہ اہم موضوع ہے: لیکچر
لیڈر ظالم یا کم ظرف نہیں ہو تا، وہ ہمدردانہ اور منصفانہ کردار کا حامل ہوتا ہے: چیئرمین سپریم کونسل

لاہور (10جون 2026) چیئرمین سپریم کونسل منہاج القرآن انٹرنیشنل پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے لیڈر شپ اینڈ مینجمنٹ کے موضوع پر لیکچرز کی سیریز کے آخری لیکچر میں کالج آف شریعہ اینڈ اسلامک سائنسز کے زیراہتمام منعقدہ خصوصی، فکری نشست میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ قیادت کے حقیقی اوصاف سے متصف ہونے کے لئے قرآن اور سیرت مصطفیؐ سے اپنے تعلق کو مضبوط بنائیں۔ ابتدائے آفرینش سے ہی ”سائنس آف لیڈر شپ“ اور ”سائنس آف مینجمنٹ“ انسان کی ضرورت بن گئی تھی، لیڈرشپ اور مینجمنٹ کا تصور مغربی یا نیا نہیں ہے، اس مضمون کو قرآن مجید نے بطور خاص اپنا موضوع بنایا ہے، قرآن مجید کی ہر آیت لیڈر شپ اور مینجمنٹ کی تعلیم دیتی ہے، ہر آیت خدا کے حسن انتظام کی شاہد ہے، بگڑی ہوئی چیزوں کو ٹھیک کرنے کا عمل مینجمنٹ کہلاتا ہے، قرآن نے قیادت کے خادمانہ پہلو پر زور دیا ہے، لیڈر حکم نہیں چلاتا بلکہ اس کا کردار شفیقانہ، ذمہ دارانہ، ہمدردانہ اور منصفانہ ہوتا ہے، لیڈر اپنی ذات کے لئے ایک مثالی منتظم ہوتا ہے جو خود منتشر اور ڈس آرگنائز ہو وہ ذمہ داریوں کی انجام دہی میں آرگنائز نہیں ہو سکتا، لیڈر منزل اور منزل کی طرف جانے والے راستوں سے آگاہ ہوتا ہے، جب قوم خواب غفلت میں ہو تو لیڈر بیدار ہوتا ہے، لیڈر کی یہ صفت ہے کہ وہ برینڈ کو فالو نہیں کرتا وہ اپنے عمل میں خود ایک برینڈ ہوتا ہے۔
انہوں نے طلبہ کو نصیحت کی کہ دوسروں کی تہذیب و ثقافت کو کاپی کرنے کی بجائے عادات و اطوار میں مصطفوی سیرت و کردار کا پرتو اور برینڈ بنیں، حقیقی لیڈر اپنا جہان خود تعمیر کرتا ہے، وہ کاپی رائٹ کا قانون توڑتا ہے اور نہ ہی plagiarism کا شکار ہوتا ہے۔ لیڈر تخت نہیں دلوں کا سلطان ہوتا ہے، لیڈر دوسروں کی تکلیف کو اپنے جسم کے اندر محسوس کرتا ہے، کوئی کم ظرف لیڈر نہیں ہو سکتا، لیڈر وہ ہوتا ہے جو دوسروں کے لبوں کی مسکراہٹ دیکھ کر خود بھی متبسم ہو جاتا ہے، لیڈر کا وجود شفاء بخش ہوتا ہے، وہ Healing Nature والا ہوتا ہے۔ لیڈر اپنے اخلاص، بصیرت اور گہرے مشاہدہ سے چہرہ دیکھ کر دل کا حال جان لیتا ہے، فقط حال ہی نہیں جانتا تکلیف کے مداوا کی سعی بھی کرتا ہے، اللہ نے ہر شخص کو اس کے حلقہ اثر میں لیڈر بنایا ہے، لیڈر شپ کی یہ ذمہ داری گھر سے لے کر معاشرہ تک پھیلی ہوئی ہے، اگر آپ کے زیراثر چند ایک افراد بھی ہیں تو آپ ان کے لیڈر ہیں اور بطور لیڈر یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ ان کی بات کو توجہ سے سنیں، ان سے مشاورت کریں اور ہمیشہ منصفانہ اور ہمدردانہ رویہ اپنائیں،اپنے تخلیقی جوہر کو پہچانیں اور پھر اسے نکھاریں، قائدانہ صلاحیت کے جوہر کو نکھارنے کے لئے انسانیت، علم سے محبت اور اہل علم کی صحبت اختیار کریں۔
فکری نشست میں ناظم اعلیٰ خرم نواز گنڈاپور، پرنسپل کالج آف شریعہ اینڈ اسلامک سائنسز ڈاکٹر ممتاز الحسن باروی، ونگ کمانڈر (ر) محمد عبدالغفار، ڈاکٹر محمد رفیق نجم، رانا محمد ادریس، ڈاکٹر رانا محمد اکرم، پروفیسر محمد نواز ظفر چشتی، جواد حامد، بریگیڈیئر(ر) عمر حیات، کرنل(ر) خالد جاوید، علامہ عین الحق بغدادی، مظہر محمود علوی، علامہ شبیر احمد جامی، ڈاکٹر سید افتخار بخاری، علامہ محب اللہ اظہر، لبنیٰ مشتاق، درۃ الزہرہ، عائشہ مبشر اور کالج آف شریعہ اینڈ اسلامک سائنسز کے طلبہ اور منہاج کالج فار ویمن کی طالبات نے شرکت کی۔


















تبصرہ