اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام علم و حکمت کے وہ درخشاں چراغ ہیں جن کی روشنی میں امت نے ہمیشہ اپنے مسائل کا حل تلاش کیا ہے: پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری

مورخہ: 19 جون 2026ء

اللہ تعالیٰ نے اہلِ بیتِ اطہارؑ کو قربِ مصطفیٰ ﷺ، علم، طہارت اور فضیلت کا وہ بلند مقام عطا فرمایا ہے جو اپنی مثال آپ ہے: صدر منہاج القرآن

سیدنا عمر بن خطابؓ کی سیرتِ مبارکہ اس حقیقت کی روشن گواہ ہے کہ آپؓ اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام سے بے پناہ محبت، عقیدت اور احترام رکھتے تھے۔ آپؓ نہ صرف ان کے مقام و مرتبہ کے معترف تھے بلکہ علمی، دینی اور اجتماعی معاملات میں ان کی رائے کو غیر معمولی اہمیت بھی دیتے تھے۔ اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام وہ مقدس ہستیاں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے قربِ مصطفیٰ ﷺ، علم، طہارت اور فضیلت کی بے مثال نعمتوں سے سرفراز فرمایا۔ یہی وجہ ہے کہ سیدنا فاروقِ اعظمؓ اُن کی علمی بصیرت، حکمت اور روحانی عظمت کا برملا اعتراف کرتے اور امت کو ان کے علم و فیض سے استفادہ کرنے کی ترغیب دیتے تھے۔ ان کے طرزِ عمل سے واضح ہوتا ہے کہ اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام امت کے لیے ہدایت، علم اور حکمت کے وہ روشن مینار ہیں جن کی روشنی ہر دور میں حق کے متلاشیوں کی رہنمائی کرتی رہی ہے۔

حضرت عمر بن خطابؓ کی نظر میں عظمتِ اہلِ بیتِ اطہار:

پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: سیدنا عمر بن خطابؓ اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام اور کاشانۂ نبوت سے بے حد محبت اور عقیدت رکھتے تھے۔ جب بھی اہلِ بیت کا کوئی فرد آپؓ کی مجلس میں تشریف لاتا، آپؓ اس کا غیر معمولی احترام کرتے اور اسے خاص عزت و تکریم سے نوازتے۔ اسی طرح جب کوئی اہم علمی یا دینی مسئلہ درپیش ہوتا تو آپؓ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کی طرف رجوع فرماتے اور لوگوں سے کہتے: اس علم کے سمندر سے پوچھو، اس کے علم کے موتی حاصل کرو، کیونکہ یہ گھرانۂ نبوت کے چشمۂ علم سے فیض یافتہ ہیں۔ (ذہبی، سیر أعلام النبلاء، جلد3، ص 346)

اَسی طرح حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے کہ:

أَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنْ مُعْضِلَةٍ لَيْسَ لَهَا أَبُو الْحَسَن - يَعْنِي عَلِيّ بْن أَبِي طَالِب

’’میں اُس دن سے ڈرتا ہوں کہ جس دن مجھے مشورہ دینے کے لیے میرے پاس مولا علی شیرِ خداؓ نہ ہوں۔‘‘

(أحمد بن حنبل، فضائل الصحابۃ، جلد2، ص647، رقم: 1100)
(ابن عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، جلد42، ص 406)

ایک موقع پر حضرت علی المرتضیٰ علیہ السلام نے سیدنا عمر بن خطابؓ کو ایک اہم مشورہ دیا جس سے ایک پیچیدہ مسئلے کا حل نکل آیا۔ اس پر سیدنا عمرؓ نے ان کی علمی بصیرت کا اعتراف کرتے ہوئے فرمایا: اگر علی علیہ السلام نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہو جاتا۔ یہ اہلِ بیتِ اطہارؑ کے علم، حکمت اور بصیرت کا روشن مظہر ہے۔

اسی طرح ایک دن سیدنا عمرؓ کے سامنے ایک مشکل مسئلہ پیش ہوا۔ آپؓ نے اس کے حل کے لیے حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کی طرف رجوع فرمایا۔ انہوں نے نہایت حکمت اور بصیرت کے ساتھ اس مسئلے کا حل بیان کیا۔ یہ سن کر سیدنا عمرؓ نے فرمایا کہ ایسا عالمانہ جواب اسی گھرانے سے آ سکتا ہے جو نبوت کے نور سے منور ہوا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ اہلِ بیتِ اطہارؑ علم و حکمت کے وہ سرچشمے ہیں جن سے امت نے ہمیشہ رہنمائی پائی ہے۔ جو لوگ اس مقدس گھرانے سے وابستہ رہتے ہیں، وہ علم، بصیرت اور خیر کے فیوض سے بہرہ مند ہوتے ہیں۔

نسبتِ مصطفیٰ ﷺ اور اہلِ بیتِ اطہار کی بے مثال فضیلت:

ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے مزید کہا کہ: ایک مرتبہ سیدنا عمر فاروقؓ کی خدمت میں دو افراد اپنا تنازع لے کر حاضر ہوئے۔ آپؓ نے فیصلہ کے لیے انہیں سیدنا علی المرتضیٰؓ کی طرف بھیج دیا۔ ان میں سے ایک شخص نے ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ حضرت علیؓ کا فیصلہ قبول نہیں کرے گا۔ یہ سن کر سیدنا عمرؓ جلال میں آ گئے اور فرمایا: تم یہ کیا کہہ رہے ہو؟ مولا علیؓ تمہارے بھی مولا ہیں، میرے بھی مولا ہیں اور ہر مومن کے مولا ہیں۔ کیا تم اپنے مولا کا فیصلہ ماننے سے انکار کرتے ہو؟

سیدنا عمرؓ درحقیقت حضور نبی اکرم ﷺ کے اس فرمانِ مبارک کی طرف اشارہ فرما رہے تھے کہ: ’’علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں، اور وہ ہر مؤمن کے ولی ہیں۔‘‘ یہی وجہ ہے کہ صحابۂ کرامؓ حضرت علیؓ کی علمی و روحانی عظمت کے معترف تھے اور ان کے فیصلوں کو احترام و اعتماد کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔

اِسی طرح سیدہ عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

ذکرُ علیٍ عبادۃٌ

’’مولا علی علیہ السلام کا ذکر بھی عبادت ہے۔‘‘ (ديلمي، الفردوس بمأثور الخطاب، جلد2، ص 244، رقم: 3151)

اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام وہ مقدس ہستیاں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے علم، تقویٰ، فضیلت اور قربِ مصطفیٰ ﷺ سے سرفراز فرمایا۔ امت کے تمام اکابر قابلِ احترام، عظمت و رفعت کے حامل اور ہمارے سروں کے تاج ہیں، لیکن اہلِ بیتِ اطہارؑ کو جو مقام عطا ہوا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ ان کی فضیلتیں عطائے الٰہی اور نسبتِ مصطفیٰ ﷺ کا فیض ہیں، اسی لیے ان کی عظمت کا کوئی ہم پلہ نہیں ہو سکتا۔

بلاگر: ڈاکٹر محمد اِقبال چشتی (ریسرچ اسکالر)

تبصرہ

ویڈیو

Ijazat Chains of Authority
Top