ریاستِ مدینہ صرف قانون و عدالت کا نمونہ نہیں تھی، بلکہ سچائی، اعتماد، وفاداری اور معافی جیسی اعلیٰ انسانی اقدار کا زندہ اور تابندہ مظہر تھی: پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری
مدنی معاشرہ وہ تھا جہاں سچائی جان سے عزیز، امانت ہر تعلق سے مقدّم، اور وعدے کی پاسداری ہر حال میں نبھائی جاتی تھی: صدر منہاج القرآن
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا طرزِ حکمرانی اسلامی تاریخ کا ایک ایسا روشن باب ہے جس میں عدل و انصاف کے ساتھ رحم، دیانت اور اعلیٰ انسانی اقدار کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔ آپؓ نے ریاستِ مدینہ کو محض ایک سیاسی یا انتظامی نظام نہیں بنایا، بلکہ اسے اخلاق، کردار اور اجتماعی ذمہ داری کی بنیاد پر استوار کیا۔ آپؓ کے دور میں قانون سب کے لیے برابر تھا، وعدے کی پاسداری زندگی سے بڑھ کر سمجھی جاتی تھی، امانت کو ہر تعلق پر ترجیح دی جاتی تھی اور معافی و درگزر کو کمزوری نہیں بلکہ عظمتِ کردار کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ یہی وہ مدنی معاشرہ تھا جہاں افراد اپنے ذاتی مفادات سے بلند ہو کر دین کی اقدار اور اجتماعی بھلائی کے تحفظ کو اپنی ذمہ داری سمجھتے تھے۔ حضرت عمر فاروقؓ کی حکمرانی ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ ایک مضبوط ریاست صرف قوانین سے نہیں، بلکہ سچائی، اعتماد، وفاداری اور اخلاقی کردار سے قائم ہوتی ہے۔
مدنی معاشرے کے اجزائے ترکیبی اور خصوصیات:
پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: خلیفۂ وقت سیدنا حضرت عمر فاروقؓ اپنی مجلسِ قضا میں تشریف فرما تھے کہ دو نوجوان حاضر ہوئے۔ انہوں نے ایک شخص کی طرف اشارہ کرتے ہوئے عرض کیا: اے امیر المؤمنین! یہ شخص ہمارے والد کا قاتل ہے، ہمیں انصاف چاہیے۔ سیدنا عمر فاروقؓ نے اس شخص سے پوچھا: کیا واقعی تم نے ان کے والد کو قتل کیا ہے؟
اس نے جواب دیا: جی ہاں، لیکن یہ قتل دانستہ نہیں تھا۔ وہ شخص زبردستی میرے باغ میں داخل ہوگیا تھا۔ میں اسے مسلسل منع کرتا رہا، مگر وہ نہ مانا۔ آخر میں نے اس کی طرف ایک پتھر پھینکا، قتل کا ارادہ ہرگز نہ تھا، مگر اتفاق سے پتھر اسے لگا، وہ گر پڑا اور وفات پا گیا۔
سیدنا عمر فاروقؓ نے فرمایا: شریعت کے مطابق تم پر قصاص لازم ہے۔ اس شخص نے سرِ تسلیم خم کرتے ہوئے کہا: اے امیر المؤمنین! میں اللہ کے حکم کے سامنے راضی ہوں۔ پھر اس نے عرض کیا: میری ایک گزارش ہے۔ میں اپنی بیوی اور چھوٹے بچوں کو دور صحراء میں اکیلا چھوڑ کر آیا ہوں۔ مجھے چند دن کی مہلت دے دیجیے تاکہ میں جا کر انہیں اپنے انجام سے آگاہ کر دوں اور ان کے مستقبل کا کچھ انتظام کر سکوں۔
سیدنا عمر فاروقؓ کے دل میں اس کے یتیم بچوں کا خیال آیا۔ آپ نے فرمایا: اسے مہلت تو دی جا سکتی ہے، لیکن اس کی ضمانت کون دے گا؟ اگر یہ واپس نہ آیا تو ضامن کو اس کے بدلے قصاص دینا ہوگا۔ مجلس پر خاموشی چھا گئی۔ کوئی شخص اتنی بڑی ذمہ داری اٹھانے کے لیے تیار نہ ہوا۔ سیدنا عمرؓ نے بار بار پوچھا، مگر کوئی آگے نہ بڑھا۔
آخر کار آپ نے ان نوجوانوں سے فرمایا: کیا تم اسے معاف نہیں کر سکتے؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں، اس نے ہمارے والد کو قتل کیا ہے۔ کافی دیر بعد صحابیٔ رسول سیدنا ابوذر غفاریؓ کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے امیر المؤمنین! میں اس شخص کی ضمانت دیتا ہوں۔ حالانکہ وہ اس شخص کو جانتے تک نہ تھے، مگر اس کے صدق و امانت پر اعتماد کرتے ہوئے ضامن بن گئے۔
اس شخص کو دو دن کی مہلت دے دی گئی۔ مقررہ دن آیا تو سورج غروب ہونے کے قریب تھا۔ سیدنا عمر فاروقؓ اپنی مجلس میں تشریف فرما تھے، سیدنا ابوذر غفاریؓ بھی موجود تھے، مقتول کے دونوں بیٹے بھی انصاف کے انتظار میں بیٹھے تھے۔
وقت تیزی سے گزر رہا تھا اور وہ شخص ابھی تک واپس نہیں آیا تھا۔ سیدنا عمر فاروقؓ نے سیدنا ابوذر غفاریؓ سے دریافت فرمایا: وہ شخص کہاں ہے جس کی آپ نے ضمانت دی تھی؟ انہوں نے بڑے اطمینان سے جواب دیا: مجھے اس کی کوئی خبر نہیں، لیکن اگر وہ واپس نہ آیا تو میری گردن حاضر ہے۔
اتنے میں وہ شخص دوڑتا ہوا، ہانپتا کانپتا دربارِ فاروقی میں حاضر ہو گیا۔ سورج غروب ہونے میں چند ہی لمحے باقی تھے۔ حاضرینِ مجلس حیران تھے کہ وہ واقعی واپس آگیا ہے۔ سیدنا عمر فاروقؓ نے فرمایا: تمہارے گھر کا پتا کسی کو معلوم نہ تھا، تم چاہتے تو کہیں بھی چلے جاتے۔ پھر واپس کیوں آئے؟
اس شخص نے جواب دیا: اے امیر المؤمنین! میں اس لیے واپس آیا ہوں کہ کہیں لوگ یہ نہ کہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے تربیت یافتہ معاشرے میں وعدے کی پاسداری ختم ہو گئی ہے۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ میرے عمل کی وجہ سے کسی کو اس مبارک معاشرے پر انگلی اٹھانے کا موقع ملے۔ اس لیے میں اپنے عہد کو پورا کرنے کے لیے لوٹ آیا ہوں۔ پھر سیدنا عمر فاروقؓ نے سیدنا ابوذر غفاریؓ سے پوچھا:
آپ اس شخص کو جانتے تک نہ تھے، پھر اتنا بڑا خطرہ مول لے کر اس کی ضمانت کیوں دی؟ سیدنا ابوذر غفاریؓ نے جواب دیا: میں نے اس لیے ضمانت دی کہ کہیں لوگ یہ نہ کہنے لگیں کہ مصطفیٰ ﷺ کے تربیت یافتہ معاشرے میں اعتماد کرنے والے لوگ باقی نہیں رہے۔ میں چاہتا تھا کہ دنیا دیکھ لے کہ اس امت میں اب بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو ایک دوسرے پر اعتماد کرتے ہیں۔
یہ جواب سن کر مقتول کے دونوں بیٹے بھی کھڑے ہو گئے اور عرض کیا: اے امیر المؤمنین! ہم اپنے والد کے قاتل کو معاف کرتے ہیں۔ سیدنا عمر فاروقؓ نے فرمایا: دو دن سے یہ سارا معاملہ تمہارے انصاف کے لیے چل رہا تھا، اب تم نے اسے کیوں معاف کر دیا؟
انہوں نے عرض کیا: ہم نے اسے اس لیے معاف کیا ہے کہ کہیں لوگ یہ نہ کہیں کہ رسولِ اکرم ﷺ کے تربیت یافتہ لوگوں کے دلوں سے معافی اور در گزر کا جذبہ ختم ہو گیا ہے۔ جس نبیِ رحمت ﷺ نے فتح مکہ کے دن اپنے بدترین دشمنوں کو عام معافی عطا فرما دی تھی، ہم نہیں چاہتے کہ کوئی یہ کہے کہ اُن کے بعد ان کے ماننے والوں کو معاف کرنا نہیں آتا۔ پھر انہوں نے کہا: ہم نے اپنے والد کے خون کا بدلہ چھوڑ کر اس عظیم معاشرے کی ان اقدار کو زندہ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، جن کی بنیاد سچائی، اعتماد، وفاداری اور عفو و در گزر پر رکھی گئی تھی۔
بلاگر: ڈاکٹر محمد اِقبال چشتی (ریسرچ اسکالر)


















تبصرہ