پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری کی ہانگ کانگ میں شبِ براءت کے روحانی اجتماع میں خصوصی شرکت و خطاب

ہانگ کانگ: منہاج القرآن انٹرنیشنل کے صدر پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے منہاج القرآن اسلامک سنٹر، کھوائی چنگ، ہانگ کانگ میں منعقدہ روحانی اجتماع بسلسلہ شبِ براءت میں خصوصی شرکت کی اور خطاب فرمایا۔
اجتماع میں صدر منہاج ایشین کونسل عبد الرسول بھٹی، صدر منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن انٹرنیشنل فیصل حسین مشہدی، میاں محمد واسق، سرپرست ایم کیو آئی ہانگ کانگ حاجی قمر منہاس، صدر ہانگ کانگ حاجی نجیب، محمد حفیظ، منہاج القرآن ہانگ کانگ کے تمام ای سی ممبرز، ممبرز ایشین کونسل، علماء کرام، علامہ حافظ محمد نسیم نقشبندی، علامہ حافظ محمد ظہیر نقشبندی، علامہ حافظ سید تنویر حسین شاہ، علامہ حافظ محمد طیب شمیم اور منہاج القرآن کے لائف ممبرز سمیت کمیونٹی کے دیگر احباب نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
اپنے خطاب میں پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے فرمایا کہ انسان روزمرہ زندگی کی مصروفیات میں بڑے گناہوں سے تو بچنے کی کوشش کرتا ہے، مگر چھوٹے گناہوں اور باطنی آلودگی کو محسوس نہیں کرتا، حالانکہ یہی آلودگی دل اور اعمال کو متاثر کرتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ گناہوں کے اسباب میں باطنی اور ظاہری دونوں عوامل شامل ہوتے ہیں، تاہم اللہ تعالیٰ نے رہنمائی، منزل اور مواقع عطا فرما کر محفوظ رہنے کا راستہ بھی دکھایا ہے۔
انہوں نے رجب، شعبان اور رمضان کو روحانی اعتبار سے زرخیز مہینے قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان ایام میں عبادت، توبہ اور اصلاحِ نفس کے ذریعے آئندہ کے لیے خیر کا بیج بویا جاتا ہے۔ انہوں نے شبِ براءت کی فضیلت بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ رات مغفرت، قبولیتِ دعا اور اللہ تعالیٰ کی خصوصی رحمت کا موقع ہے۔
آخر میں انہوں نے دل کی اصلاح، سچی توبہ اور رمضان المبارک کی تیاری پر زور دیا۔ اجتماع کا اختتام امام زین العابدینؒ کی دعاؤں کے ساتھ ہوا۔
اجتماع میں تلاوتِ قرآنِ مجید کی سعادت علامہ قاری محمد عثمان الترازی نے حاصل کی، جبکہ منہاج القرآن اسلامک سنٹر کھوائی چنگ کے طلبہ محمد حارث اور ان کے ساتھیوں نے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں ہدیۂ نعت پیش کیا۔
صدر منہاج القرآن انٹرنیشنل نے ڈائریکٹر منہاج القرآن ایسوسی ایشن ہانگ کانگ محترم راشد اور محترم طارق محمود آسی کو اُن کی تنظیمی خدمات کے اعتراف میں شیلڈز پیش کیں، جبکہ منہاج القرآن کی لائف ممبرشپ لینے والے احباب میں اسناد تقسیم کی گئیں۔

























تبصرہ