زندگی کا حقیقی سکون اُس وقت نصیب ہوتا ہے جب انسان دنیا اور آخرت کے درمیان توازن قائم کر لیتا ہے: پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری

مورخہ: 12 مئی 2026ء

انسان اکثر اپنی پریشانیوں کا سبب دوسروں کو سمجھتا ہے، حالانکہ قرآن اُسے اُس کے اپنے اَعمال کا آئینہ دکھاتا ہے: صدر منہاج القرآن

آج کا انسان ظاہری آسائشوں کے باوجود اندرونی بے سکونی، ذہنی دباؤ اور اضطراب کا شکار دکھائی دیتا ہے۔ وہ سکون کی تلاش میں دنیا کے ہر دروازے پر دستک دیتا ہے، مگر حقیقی اطمینان اُس وقت نصیب ہوتا ہے جب انسان اپنی زندگی میں دنیا اور آخرت کے درمیان توازن قائم کر لیتا ہے۔ قرآنِ مجید انسان کو یہ حقیقت سمجھاتا ہے کہ بہت سی پریشانیاں اور ذہنی تناؤ دراصل اُس کے اپنے فیصلوں، اعمال اور طرزِ زندگی کا نتیجہ ہوتے ہیں، مگر انسان اکثر اُن کا سبب دوسروں کو ٹھہراتا رہتا ہے۔ اسلام انسان کو صرف مسائل کے حل کا علاج ہی فراہم نہیں کرتا بلکہ ایسی روحانی تربیت عطا کرتا ہے جو اُسے ذہنی دباؤ، بے چینی اور اضطراب سے محفوظ رکھنے کا سلیقہ بھی سکھاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بندہ اپنے ربّ کی طرف رجوع کرتا، اُس کے فیصلوں پر راضی رہتا اور اپنی زندگی کو اعتدال، صبر اور ذکرِ الٰہی سے آراستہ کر لیتا ہے تو اُس کے دل کو وہ سکون نصیب ہوتا ہے جسے دنیا کی کوئی طاقت چھین نہیں سکتی۔

توازنِ حیات: دنیا و آخرت میں کامیابی کا راز:

پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: زندگی کے بے شمار مسائل کا حقیقی حل دراصل توازنِ حیات (Balance of Life) میں پوشیدہ ہے۔ انسان اُس وقت سکون، اعتدال اور کامیابی حاصل کرتا ہے جب وہ دنیا اور آخرت کے درمیان توازن قائم کرنا سیکھ لیتا ہے۔ اللہ ربّ العزت اور اُس کے محبوب حضور نبی اکرم ﷺ چونکہ انسان کی فطرت، کمزوریوں اور ضرورتوں کو سب سے بہتر جانتے ہیں، اِس لیے وہ انسان کو مشکلات میں مبتلا ہونے سے پہلے ہی راہِ نجات عطا فرما دیتے ہیں۔ حقیقی اور حتمی رہنمائی وہی ہے جو خالقِ کائنات کی طرف سے آئے یا جسے حضور سیدِ عالم ﷺ اپنی تعلیماتِ مقدسہ کے ذریعے عطا فرمائیں۔

اللہ تعالیٰ ہی وہ ذات ہے جو انسان کو خوشی عطا کر کے ہنساتی ہے اور اُسی کے حکم سے غم آتا ہے جو انسان کو رُلا دیتا ہے۔ لہٰذا انسان کے ظاہری و باطنی امراض کا کامل علاج بھی اُسی ربّ کریم کے پاس ہے۔ قرآنِ مجید اور تعلیماتِ مصطفی ﷺ ہمیں یہی درس دیتی ہیں کہ انسان اپنی زندگی میں اعتدال، صبر، رضا اور توازن کو اختیار کرے۔ توازنِ حیات کا مطلب یہ ہے کہ انسان کسی ایک چیز کے پیچھے اِس قدر نہ دوڑنے لگے کہ باقی زندگی اُس سے چھن جائے۔ دنیا کی خواہشات میں اس حد تک گم ہو جانا کہ انسان اپنی روحانی زندگی، اپنے تعلقات، اپنی صحت اور اپنے سکون کو کھو دے اور یہی زندگی کا سب سے بڑا خسارہ ہے۔ مومن کی شان یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فیصلوں پر راضی رہے اور ہر حال میں اپنے دل کو اِس حقیقت پر آمادہ رکھے کہ: یہ میرے ربّ کا فیصلہ ہے اور یقینًا اِس میں میرے لیے بہتری ہے۔

بد قسمتی سے اکثر لوگ اپنی زندگی کے ابتدائی اور قیمتی سال صرف دنیا کے پیچھے دوڑتے ہوئے گزار دیتے ہیں۔ وہ مال، شہرت اور کامیابی کی تلاش میں اِس قدر کھو جاتے ہیں کہ شدید ذہنی دباؤ، بے سکونی اور اضطراب کا شکار ہو جاتے ہیں۔ پھر جب عمر کا ایک بڑا حصہ گزر جاتا ہے تو وہ آخرت کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، مگر اُس وقت تک اُن کی جوانی، سکون اور زندگی کے حَسین لمحات ضائع ہو چکے ہوتے ہیں۔ اگر انسان اپنی زندگی کے آغاز ہی سے دنیا اور آخرت کے درمیان توازن قائم کر لے، اپنے وقت، صلاحیتوں اور توجہ کو دونوں کے لیے برابر اہمیت دے، تو نہ اُس کی جوانی ذہنی دباؤ کی نذر ہوتی ہے اور نہ اُس کے تعلقات تباہ ہوتے ہیں۔ وہ اپنے گھر، خاندان، دوستوں اور معاشرتی زندگی کو بھی محفوظ رکھتا ہے اور اپنی روحانی زندگی کو بھی سنوارتا ہے۔

اکثر لوگ جب توازنِ حیات کی حقیقت کو سمجھتے ہیں تو تب تک بہت کچھ کھو چکے ہوتے ہیں۔ کئی تعلقات بکھر چکے ہوتے ہیں، اولاد کے دل اُن سے دور ہو چکے ہوتے ہیں، دوستیاں ختم ہو چکی ہوتی ہیں اور معاشرتی و تنظیمی زندگی میں اُن کا وقار متاثر ہو چکا ہوتا ہے۔ وقت گزر جانے کے بعد انسان اپنی باقی ماندہ زندگی کو تو بہتر بنا سکتا ہے، مگر گزرے ہوئے سال واپس نہیں لا سکتا۔ اِسی لیے کامیاب انسان وہی ہے جو زندگی کے آغاز ہی سے دنیا اور آخرت کے درمیان حسین توازن قائم کر لے۔

اِس لیے تو قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

﴿وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾

’’اور انہی میں سے ایسے بھی ہیں جو عرض کرتے ہیں: اے ہمارے پروردگار! ہمیں دنیا میں (بھی) بھلائی عطا فرما اور آخرت میں (بھی) بھلائی سے نواز اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھ‘‘[البقرة : 201]

یعنی وہ اپنی دنیا، اپنی آخرت اور اپنی قبر؛ تینوں کو ہمیشہ اپنے پیشِ نظر رکھتے ہیں۔ وہ زندگی میں کسی ایک جانب اس قدر نہیں جھکتے کہ باقی پہلو نظر انداز ہو جائیں۔ دنیا میں بھی بھلائی کے طلبگار رہتے ہیں اور اُس کے لیے جائز اور اچھے اعمال اختیار کرتے ہیں، آخرت کی کامیابی بھی چاہتے ہیں اور اُس کے لیے نیک اعمال اور عبادات میں مشغول رہتے ہیں، جبکہ اپنی قبر اور انجام کی بہتری کے لیے بھی مسلسل اعمالِ صالحہ، توبہ، ذکرِ الٰہی اور نیکیوں کا اہتمام کرتے رہتے ہیں۔

اِنسان کے سٹریس کا حقیقی سبب:

پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے مزید کہا کہ: آج انسان جن ذہنی دباؤ، پریشانیوں اور سٹریسز کا شکار ہے، آئیے اُنہیں قرآنِ مجید کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اللہ ربّ العزت خود ارشاد فرماتا ہے:

﴿وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ﴾

’’اور جو مصیبت بھی تم کو پہنچتی ہے تو اُس (بد اعمالی) کے سبب سے ہی (پہنچتی ہے) جو تمہارے ہاتھوں نے کمائی ہوتی ہے حالاں کہ بہت سی(کوتاہیوں) سے تو وہ درگزر بھی فرما دیتا ہے‘‘ [الشورى،42/30]

اللہ ربّ العزت فرماتا ہے کہ انسان جن پریشانیوں، آزمائشوں اور ذہنی دباؤ کا شکار ہوتا ہے، اُن میں سے بہت سی چیزیں اُس کے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہوتی ہیں۔ یہ مصیبتیں کسی پر ناجائز طور پر مسلّط نہیں کی جاتیں بلکہ اکثر یہ انسان کے اپنے غلط فیصلوں، ناسمجھی اور بے اعتدالی کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ انسان اپنی زندگی میں جو فیصلے کرتا ہے، بعد میں اُسی کے اثرات اُسے سٹریس، پریشانی اور بے سکونی کی صورت میں بھگتنا پڑتے ہیں۔

لیکن انسان کی عادت یہ ہے کہ وہ اپنے فیصلوں کا بوجھ دوسروں پر ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ ہمیشہ کوئی نہ کوئی سہارا یا کندھا تلاش کرتا ہے تاکہ اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر سکے۔ کبھی کہتا ہے کہ فلاں شخص کی وجہ سے میں یہ نقصان اٹھا بیٹھا، کسی نے مجھے مجبور کیا، کسی کے رویّے نے مجھے غلط فیصلہ کرنے پر آمادہ کر دیا۔ یوں انسان اپنی غلطیوں کی ذمہ داری دوسروں پر ڈال کر خود کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

حالانکہ اللہ تعالیٰ واضح فرما دیتا ہے کہ انسان جن آزمائشوں یا سٹریسز کا شکار ہوتا ہے، اُن کی بنیادی وجہ اُس کے اپنے اعمال اور فیصلے ہوتے ہیں۔ پھر بھی اللہ ربّ العزت کا کرم دیکھیے کہ وہ انسان کی بے شمار کمزوریوں، خطاؤں اور غلطیوں سے درگزر فرما دیتا ہے۔ جو کچھ انسان تک بطورِ آزمائش یا پریشانی پہنچتا ہے، وہ دراصل اُن بے شمار لغزشوں کے معاف ہو جانے کے بعد بچ جانے والا حصہ ہوتا ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ انسان کی ہر غلطی اور ہر کوتاہی کا پورا بدلہ فورًا واپس لوٹا دے اور کسی چیز کو معاف نہ فرمائے، تو انسان کی زندگی کس قدر دشوار ہو جائے۔ مگر اُس ربِّ کریم کی رحمت یہ ہے کہ وہ بہت سی خطاؤں کو نظر انداز فرما دیتا ہے، اور پھر جو تھوڑا بہت باقی رہ جاتا ہے، وہی کبھی آزمائش، کبھی پریشانی اور کبھی ذہنی دباؤ کی صورت میں انسان تک پہنچتا ہے۔

ایک اور مقام پر قرآن مجید میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے کہ:

﴿لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ﴾

’’اللہ کسی جان کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا، اس نے جو نیکی کمائی اس کے لیے اس کا اجر ہے اور اس نے جو گناہ کمایا اس پر اس کا عذاب ہے‘‘ [البقرة: 286]

اِس حقیقت کے اندر ایک بہت بڑا جواب بھی پوشیدہ ہے کہ جن ذہنی دباؤ، آزمائشوں اور سٹریسز کا ہم شکار ہوتے ہیں، وہ ہماری استطاعت سے بڑھ کر نہیں ہوتے۔ کیونکہ جب اللہ ربّ العزت خود فرما دیتا ہے کہ انسان پر اُس کی طاقت اور وسعت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالا جاتا، تو پھر یہ ممکن نہیں کہ کوئی آزمائش انسان کی حقیقی استطاعت سے باہر ہو۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ انسان اکثر اپنی صلاحیتوں، اپنی اندرونی قوت اور اپنی ذہنی و روحانی استعداد کو پوری طرح پہچان نہیں پاتا۔ وہ اپنی حکمتِ عملی، صبر، تدبر اور قوتِ برداشت کو مکمل طور پر استعمال نہیں کرتا، جس کے باعث وہ خود کو بے بس محسوس کرنے لگتا ہے۔ ورنہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ بالکل واضح ہے کہ وہ کسی انسان کو اُس کی طاقت سے زیادہ آزمائش میں مبتلا نہیں فرماتا۔

حاضرینِ گرامی! جب اسلام انسان کو سٹریس مینجمنٹ، ذہنی سکون اور متوازن زندگی کا سلیقہ سکھاتا ہے تو وہ مسئلے کے دونوں پہلوؤں پر بیک وقت گفتگو کرتا ہے۔ دنیا کے ڈاکٹرز، مغربی مفکرین اور ماہرینِ نفسیات عموما اُس وقت حل تلاش کرتے ہیں جب انسان پہلے ہی پریشانی اور دباؤ کا شکار ہو چکا ہوتا ہے، لیکن اسلام کا انداز اس سے بالکل مختلف ہے۔ اسلام صرف علاج نہیں دیتا بلکہ بیماری سے پہلے حفاظت اور رہنمائی بھی عطا کرتا ہے۔ اللہ ربّ العزت نے اسلام کو ایک مکمل نظامِ حیات بنا کر نازل فرمایا ہے، جس میں مسائل پیدا ہونے سے پہلے ہی اُن کے اسباب اور اُن سے بچنے کے طریقے بیان کر دیے گئے ہیں۔ قرآن و سنت انسان کو ابتدا ہی سے وہ راستہ اختیار کرنے کی تعلیم دیتے ہیں جو اُسے ذہنی اضطراب، بے سکونی اور روحانی بوجھ سے محفوظ رکھے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسولِ مکرم ﷺ انسان کی فطرت، کمزوریوں اور آنے والے نتائج کو پہلے سے جانتے ہیں، اِسی لیے وہ انسان کو پہلے ہی خبردار فرما دیتے ہیں کہ فلاں راستہ اختیار کرو گے تو سکون ملے گا، اور اگر غلط روش اپناؤ گے تو پریشانیوں اور سٹریسز کا شکار ہو جاؤ گے۔

بلاگر: ڈاکٹر محمد اِقبال چشتی (ریسرچ اسکالر)

تبصرہ

ویڈیو

Ijazat Chains of Authority
Top