حضور نبی اکرم ﷺ نے ماں کے قدموں کو جنت کا راستہ قرار دے کر اُس کے مقامِ عظمت کو ہمیشہ کے لیے روشن کر دیا: شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری

مورخہ: 13 مئی 2026ء

حضور نبی اکرم ﷺ نے تین مرتبہ ماں کے حق کا ذکر فرما کر اُس کے حق کو سب پر مقدّم قرار دیا: شیخ الاسلام کا خطاب

ماں وہ عظیم ہستی ہے جس کے وجود سے انسان کو محبت، شفقت، قربانی اور ایثار کا پہلا درس ملتا ہے۔ اسلام نے ماں کے مقام کو اس قدر بلند کیا کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے اُس کی خدمت کو جنت کے حصول کا ذریعہ قرار دیا اور بار بار اُس کے حق کو سب پر مقدّم فرمایا۔ ماں اپنی اولاد کے لیے تکلیفیں برداشت کرتی ہے، اپنی راحت قربان کرتی ہے اور اپنی پوری زندگی اولاد کی پرورش اور کامیابی کے لیے وقف کر دیتی ہے، اسی لیے شریعتِ مطہرہ نے اُس کے حقِ خدمت کو سب سے پہلے رکھا۔ حقیقت یہ ہے کہ ماں کی خدمت صرف ایک اخلاقی ذمہ داری نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا، سعادتِ دنیا و آخرت اور جنت تک پہنچنے کا روشن راستہ ہے۔

اسلام میں ماں کا عظیم مقام:

مجدّد المئۃ الحاضرۃ حضور شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیۃنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: ایک صحابی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم:

مَنْ أَحَقُّ النَّاسِ بِحُسْنِ صَحَابَتِي.

(بخاری، الصحیح، جلد5، ص 2227، رقم: 5626)

’’لوگوں میں سے حُسنِ معاشرت (خدمت اور حُسنِ سلوک) کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟‘‘

یعنی: یارسول اللہ ﷺ! میرے حسنِ سلوک اور بہترین برتاؤ کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟ آقا دو جہاں ﷺ نے فرمایا: اُمُّكَ. تمہاری ماں کا۔ صحابی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم؛ ماں کے بعد کس کا حق ہے؟ حضور نے پھر فرمایا: تمہاری ماں۔ عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ، پھر اُس کے بعد کس کا ہے؟ فرمایا: تمہاری ماں کا۔ اُس شخص نے تین بار بدل بدل کر سوال کیا کہ مجھ پر سب سے بڑھ کر حق کس کا ہے؟ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تمہاری ماں کا۔ پھر اُس نے چوتھی بار عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اس کے بعد؛ تو حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تمہارے باپ کا۔

اس حدیثِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں ماں کا مقام نہایت بلند ہے۔ ماں نے اولاد کو حمل کی تکلیفیں برداشت کرکے جنم دیا اور بے شمار مشقتوں کے ساتھ پرورش کی، اسی لیے شریعت نے اُس کے حقوق کو غیر معمولی اہمیت عطا فرمائی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ إِحْسَانًا حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا﴾ [الأحقاف، 46/15]

’’اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے کاحکم فرمایا۔ اس کی ماں نے اس کو تکلیف سے (پیٹ میں) اٹھائے رکھا اور اسے تکلیف کے ساتھ جنا، اور اس کا (پیٹ میں) اٹھانا اور اس کا دودھ چھڑانا (یعنی زمانۂ حمل و رضاعت) تیس ماہ (پر مشتمل) ہے۔‘‘

اسی لیے چوتھے درجے میں حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ پھر باپ کا حق ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول ﷺ نے ماں کے حق کو کس قدر عظیم، مقدس اور مقدّم مقام عطا فرمایا ہے۔

ماں کی خدمت: جنت کا راستہ:

شیخ الاسلام نے مزید کہا کہ: اِسی طرح ایک صحابی حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، میں جہاد پر جانا چاہتا ہوں اور آپ سے اجازت اور مشورے کے لیے حاضر ہوا ہوں۔ امام احمد بن حنبل اور امام نسائی روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی حضور نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور کہا یا رسول اللہ ﷺ:

أَرَدْتُ الْغَزْوَ وَجِئْتُكَ أَسْتَشِيرُكَ فَقَالَ: هَلْ لَكَ مِنْ أُمٍّ؟ قَالَ: نَعَمْ۔ فَقَالَ: الْزَمْهَا، فَإِنَّ الْجَنَّةَ عِنْدَ رِجْلِهَا.

1 - أحمد بن حنبل، المسند، جلد3، ص 429، رقم: 15577
2 - نسائی، السنن، جلد6، ص 11، رقم: 3104

’’یا رسول اللہ ﷺ، میں جہاد پر جانے کا ارادہ رکھتا ہوں اور آپ سے مشورہ کرنے کی غرض سے آپ کے پاس حاضر ہوا ہوں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تمہاری والدہ زندہ ہے؟ اُس نے کہا: ہاں، تو حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اُسی کی خدمت کو لازم پکڑ لے، اس لیے کہ جنت اُس کے قدموں کے قریب ہے۔‘‘

حضور نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمانا کہ جاؤ! اپنی ماں کی خدمت کو لازم پکڑو، اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ وہ تمہیں اپنی ماں کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے، کیونکہ اسی خدمت میں تمہارے لیے عظیم اجر پوشیدہ ہے۔

ماں کی خدمت کرنے والے کو حج کا ثواب بھی ملتا ہے، عمرے کا اجر بھی عطا ہوتا ہے اور جہاد فی سبیل اللہ کا ثواب بھی نصیب ہوتا ہے۔ اس حدیث پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابیؓ نے صرف جہاد کے بارے میں سوال کیا تھا، مگر حضور نبی اکرم ﷺ نے ماں کی خدمت کو ایسا عظیم عمل قرار دیا کہ اُس میں حج، عمرہ اور جہاد تینوں عبادات کے اجر کی بشارت عطا فرما دی۔

اس حدیثِ مبارکہ اور حضور نبی اکرم ﷺ کے ارشادات سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اگر والدین بڑھاپے یا بیماری کی وجہ سے اس حالت میں ہوں کہ انہیں اپنی اولاد کی ضرورت ہو اور اُن کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی دوسرا موجود نہ ہو، تو ایسی صورت میں اولاد کے لیے اُن کی خدمت کرنا حج اور جہاد جیسے اعمال پر بھی مقدّم ہو جاتا ہے۔ ایسے وقت میں اولاد کا اصل فرض یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی والدین کی خدمت، تیمارداری اور راحت کے لیے وقف کر دے، کیونکہ والدین کی خدمت ہی اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت کے حصول کا ذریعہ ہے۔

بلاگر: ڈاکٹر محمد اقبال چشتی (سینئر ریسرچ اسکالر)

تبصرہ

ویڈیو

Ijazat Chains of Authority
Top