اسلامی معاشی نظام معاشرتی انصاف اور پائیدار ترقی کی ضمانت ہے: پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری

مورخہ: 12 مئی 2026ء

Dr Hussain Mohiuddin Qadri Addresses LCCI on Islamic Economy

ماہرِ معاشیات پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری، صدر منہاج القرآن انٹرنیشنل و ڈپٹی چیئرمین بورڈ آف گورنرز منہاج یونیورسٹی لاہور نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے زیرِاہتمام اسلامی معاشی نظام، اسلامی بینکاری و مالیات اور پاکستان کی موجودہ معاشی صورتحال کے حوالے سے منعقدہ خصوصی نشست میں شرکت اور خطاب کیا۔ اس موقع پر تاجر برادری، صنعتکاروں، ماہرینِ معیشت، بینکاری شعبے سے وابستہ شخصیات اور مختلف تجارتی تنظیموں کے نمائندگان کی بڑی تعداد موجود تھی۔

پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے اسلامی معاشیات اور پاکستان کے معاشی مستقبل کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی معاشی نظام کی بنیاد دولت کی منصفانہ تقسیم، معاشرتی انصاف اور انسانی فلاح پر قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ Relative Poverty کو مکمل طور پر ختم کرنا ممکن نہیں، تاہم مؤثر معاشی پالیسیوں کے ذریعے Absolute Poverty کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے تاکہ ہر فرد کی بنیادی ضروریات باعزت انداز میں پوری ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر معاشرے میں غربت موجود رہے تو اس کی ذمہ داری صرف حکومت پر نہیں بلکہ صاحبِ ثروت طبقے پر بھی عائد ہوتی ہے، جو اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہ ہیں۔

انہوں نے سرمایہ دارانہ اور سوشلسٹ نظام کا تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ سرمایہ دارانہ نظام سود پر مبنی ہونے کی وجہ سے دولت کو چند ہاتھوں تک محدود کر دیتا ہے جبکہ سوشلسٹ نظام نجی ملکیت کی نفی کے باعث معاشی کارکردگی کو متاثر کرتا ہے۔ اس کے برعکس اسلامی معاشی نظام ایک متوازن، منصفانہ اور پائیدار ماڈل فراہم کرتا ہے جو نجی ملکیت کو اخلاقی حدود کے ساتھ تسلیم کرتا ہے اور اجارہ داری و استحصالی رویوں کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر حسین قادری نے کہا کہ اسلامی مالیات اسلامی معاشیات کا صرف ایک جزو ہے جبکہ اسلامی معیشت ایک مکمل نظام ہے جس میں مالیاتی پالیسی، زرعی اصلاحات، سماجی تحفظ، وقف اکانومی، تجارتی پالیسی اور فلاحی اقدامات شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نبی اکرم ﷺ نے مدینہ منورہ میں میثاقِ مدینہ کے ذریعے دنیا کا پہلا تحریری آئین نافذ کیا جس نے تمام طبقات کے معاشی و سماجی حقوق اور تحفظ کو یقینی بنایا، جبکہ مواخاتِ مدینہ اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ایک کامیاب معاشی ماڈل کی عملی مثال ہے۔

اسلامی بینکاری و مالیات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلامی بینکاری اور سود سے پاک مالیاتی نظام وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی معاشی چیلنجز کے تناظر میں اسلامی مالیاتی نظام نہ صرف مذہبی تقاضوں سے ہم آہنگ ہے بلکہ معاشی استحکام، شفافیت اور سماجی انصاف کے فروغ کا مؤثر ذریعہ بھی ہے۔ انہوں نے کاروباری برادری پر زور دیا کہ وہ سود سے پاک نظام کو اپناتے ہوئے ایسے مالیاتی ذرائع اختیار کریں جو شریعت سے ہم آہنگ ہوں اور ملکی معیشت کے استحکام میں مثبت کردار ادا کریں۔

انہوں نے اسلامی بینکاری کے مختلف ماڈلز، مضاربہ، مشارکہ اور دیگر شریعت سے ہم آہنگ مالیاتی ذرائع پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ اسلامی مالیاتی ادارے کاروباری طبقے کی ضروریات پوری کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آگاہی، تربیت اور مؤثر پالیسی سازی کے ذریعے اسلامی مالیاتی نظام کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔

پاکستان کی موجودہ معاشی صورتحال پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت سنگین مالی چیلنجز کا سامنا ہے جہاں مجموعی عوامی قرضہ 80 ہزار ارب روپے کے قریب پہنچ چکا ہے جبکہ قرضوں کا حجم جی ڈی پی کے تقریباً 70 سے 80 فیصد کے درمیان ہے۔ گزشتہ برسوں میں مہنگائی کی بلند شرح نے عوام پر شدید معاشی دباؤ ڈالا ہے۔ اس صورتحال سے نکلنے کے لیے انہوں نے ڈیجیٹل زکوٰۃ نظام، وقف جائیدادوں کی ڈیجیٹل رجسٹری، اسلامی مائیکرو فنانس، بلا سود قرضہ اسکیموں، کمپیٹیشن کمیشن کی خودمختاری، ٹیکس اصلاحات، سکوک اور گرین سکوک کے فروغ سمیت مختلف اصلاحاتی تجاویز پیش کیں۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اگر ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح کو 9 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد تک لے جایا جائے اور مرحلہ وار اصلاحات نافذ کی جائیں تو پاکستان معاشی استحکام، غربت میں کمی اور پائیدار ترقی کی جانب پیش رفت کر سکتا ہے۔ انہوں نے قلیل المدتی، درمیانی مدت اور طویل المدتی اصلاحاتی روڈ میپ بھی پیش کیا جس کے تحت فوری مالی اصلاحات، ادارہ جاتی استحکام اور مکمل سود سے پاک معیشت کے قیام پر زور دیا گیا۔

نشست میں صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمن سہگل، سینئر نائب صدر تنویر احمد شیخ، سابق صدر میاں انجم نثار، سابق نائب صدر ظاہر منظور چوہدری، ناظم اعلیٰ منہاج القرآن انٹرنیشنل خرم نواز گنڈاپور، راجہ زاہد محمود قادری، رجسٹرار منہاج یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر خرّم شہزاد، میاں زاہد اسلام، محمد الطاف رندھاوا، محمد راشد چودھری، سہیل احمد رضا محمد شہزاد خان، جنید وارثی، آمنہ رندھاوا، لاہور چیمبر کے ایگزیکٹو کمیٹی ممبران اور مختلف کاروباری، سماجی و تنظیمی شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب کے اختتام پر سوال و جواب کی نشست بھی ہوئی جس میں شرکاء نے اسلامی بینکاری، مالیاتی معاملات اور ملکی معیشت سے متعلق مختلف سوالات کیے جن کے تفصیلی جوابات دیے گئے۔

Dr Hussain Mohiuddin Qadri Addresses LCCI on Islamic Economy

Dr Hussain Mohiuddin Qadri Addresses LCCI on Islamic Economy

Dr Hussain Mohiuddin Qadri Addresses LCCI on Islamic Economy

Dr Hussain Mohiuddin Qadri Addresses LCCI on Islamic Economy

Dr Hussain Mohiuddin Qadri Addresses LCCI on Islamic Economy

Dr Hussain Mohiuddin Qadri Addresses LCCI on Islamic Economy

Dr Hussain Mohiuddin Qadri Addresses LCCI on Islamic Economy

Dr Hussain Mohiuddin Qadri Addresses LCCI on Islamic Economy

Dr Hussain Mohiuddin Qadri Addresses LCCI on Islamic Economy

Dr Hussain Mohiuddin Qadri Addresses LCCI on Islamic Economy

Dr Hussain Mohiuddin Qadri Addresses LCCI on Islamic Economy

Dr Hussain Mohiuddin Qadri Addresses LCCI on Islamic Economy

Dr Hussain Mohiuddin Qadri Addresses LCCI on Islamic Economy

تبصرہ

ویڈیو

Ijazat Chains of Authority
Top