سوشل میڈیا کے ذریعے ہم سے رابطہ میں رہنے کے لئے حسب ذیل لنکس ملاحظہ کر یں۔
’ساٹھ روپے کلو آلو ہے جو غریب ہی سب سے زیادہ استعمال کرتے ہیں اور اگر یہ آلو بیس روپے کلو ہوجائے تو بھی ان کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے‘ لاہور کی مال روڈ پر دو نوجوان گلے میں سبزیوں کی مالائیں پہنے پاکستانی عوامی تحریک کے حکومت مخالف احتجاجی جلوس کا حصہ تھے۔ ان نوجوانوں کا دعویٰ تھا کہ وہ ٹھوکر نیاز بیگ سے تین گھنٹے پیدل چل کر جلسے میں شرکت کے لیے پہنچے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ یہ احتجاج مہنگائی کے خلاف ہے۔
دھن، دھونس اور دھاندلی کی بنیاد پر منعقد ہونے والی پاکستان کی تاریخ کے کرپٹ ترین اِنتخابات کے نتیجے میں تشکیل پانے والی ناجائز حکومت کی پہلی ’سالگرہ‘ مکمل ہونے پر آج پاکستان عوامی تحریک ملک بھر کے ساٹھ اضلاع میں اِحتجاجی ریلیاں اور جلسے منعقد کر رہی ہے۔ اگرچہ پوری حکومتی مشینری تمام آئینی شقوں کو بالاے طاق رکھ کر عوام کو ان کے جمہوری حق سے محروم کرنے کی ناپاک سازش میں مصروف ہے، تاہم حکمرانوں کے مذموم عزائم کو ناکامی کا کفن پہناتے ہوئے عوام کے قافلے جوق در جوق سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور غریب کُش نظام کی تبدیلی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
پاکستان عوامی تحریک بہاولپور کی ریلی میں شرکت کے لئے بڑی تعداد میں آل پاکستان مسلم لیگ کے عہدیدار اور کارکنان فرید گیٹ بہاولپور پہنچ گئے۔
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) دولہا بھی قائد پر فدا ہوگیا اور اس سلسلے میں پاکستان عوامی تحریک کی ریلی میں بارات سمیت شامل ہوگیا ۔ ٹی وی رپورٹ کے مطابق انار کلی کا محمد ایوب بارات لینے نکلا اور باراتیوں سمیت گیارہ مئی کے احتجاج کے سلسلے میں نکالی جانیوالی ڈاکٹرطاہرالقادری کی پاکستان عوامی تحریک کا حصہ بن گیا۔ محمد ایوب نے اعلان کیا کہ وہ ڈاکٹر طاہرالقادری کی قیادت میں انقلاب کے بعد ہی شادی کرے گا، دلہن تو پھر بھی مل جائے گی، قائد نہیں ملے گا۔
ڈاکٹر طاہرالقادری نے احتجاجی ریلیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی از سر نو تعمیر کا وقت آچکا ہے اگر موجودہ حکمران مزید ایوانوں میں رہے تو لوگ خودکشیاں کرنے پر مجبور ہوجائیں گے، انہوں نے کہا کہ ہم جمہوریت کو ڈی ریل نہیں کرنا چاہتے لیکن ملک میں جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں، اس نظام کو جمہوریت نہیں کہتے جہاں غربت ہو، لوگ بھوکے سوتے ہوں اور مائیں اپنے بچوں کو فروخت کرتی ہوں، جمہوریت میں تمام طبقات کو برابری کے حقوق دیےجاتے ہیں اور کرپٹ عناصر کا خاتمہ کیا جاتا ہے۔
ریلی سے قائد پاکستان عوامی تحریک ڈاکٹر طاہرالقادری نے بذریعہ وڈیو لنک خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں پُرامن انقلاب کے بعد ظلم کی تاریک رات ختم ہو جائے گی۔ گڈگورننس اور شفافیت کے نظام کو جمہوریت کہتے ہیں لیکن یہ پاکستان میں دونوں ناپید ہیں۔ جمہوریت لوگوں کے ووٹ کے تقدس کو کہتے ہیں کرپٹ حکمران تو پیسہ اور طاقت کے زور پر اسے خریدتے تھے۔ عوام نے لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر آ کر یہ ثابت کر دیا کہ وہ تبدیلی اور انقلاب چاہتے ہیں۔ میں عنقریب پاکستانی قوم کو انقلاب کی کال دوں گا۔
کرپٹ نظام کے تحت ہونے والے جعلی انتخابات کا ایک سال مکمل ہونے پر فرسودہ نظام اور نااہل حکومت کے خلاف پاکستان عوامی تحریک نے ملک بھر کے 60 اضلاع میں احتجاجی ریلیاں منعقد کیں۔ کراچی میں بھی بہت بڑی احتجاجی ریلی منعقد کی گئی جس میں تمام تر حکومتی رکاوٹوں کے باوجود ہزاروں افراد شریک ہوئے۔ حکومت نے 11 مئی سے دو دن قبل ہی ٹرانسپورٹ، پٹرول پمپ، بسوں کے اڈے بند کروا دیے اور کارکنوں کو ہراساں کرنے اور انہیں گرفتار کرنے کا عمل شروع کردیا تھا۔
کرپٹ نظام کے تحت ہونے والے جعلی انتخابات کا ایک سال مکمل ہونے پر فرسودہ نظام اور نااہل حکومت کے خلاف پاکستان عوامی تحریک نے ملک بھر کے 60 اضلاع میں احتجاجی ریلیاں منعقد کیں۔ بھکر میں بھی بہت بڑی احتجاجی ریلی منعقد کی گئی جس میں تمام تر حکومتی رکاوٹوں کے باوجود ہزاروں افراد شریک ہوئے۔ حکومت نے 11 مئی سے دو دن قبل ہی ٹرانسپورٹ، پٹرول پمپ، بسوں کے اڈے بند کروا دیے اور کارکنوں کو ہراساں کرنے اور انہیں گرفتار کرنے کا عمل شروع کردیا تھا۔
لاہور میں بھی بہت بڑی احتجاجی ریلی منعقد کی گئی جس میں تمام تر حکومتی رکاوٹوں کے باوجود ہزاروں افراد شریک ہوئے۔ حکومت نے 11 مئی سے دو دن قبل ہی ٹرانسپورٹ، پٹرول پمپ، بسوں کے اڈے بند کروا دیے اور کارکنوں کو ہراساں کرنے اور انہیں گرفتار کرنے کا عمل شروع کردیا تھا۔ لیکن ان تمام حالات کے باوجود غریب اور پسے ہوئے عوام اپنے حقوق کی بحالی اور ملکی خوشحالی کے لیے رکشوں، موٹرسائیکلوں، سائیکلوں حتی کہ پیدل سفر کر کے احتجاجی ریلیوں میں شریک ہوئے۔
کرپٹ نظام کے تحت ہونے والے جعلی انتخابات کا ایک سال مکمل ہونے پر فرسودہ نظام اور نااہل حکومت کے خلاف پاکستان عوامی تحریک نے ملک بھر کے 60 اضلاع میں احتجاجی ریلیاں منعقد کیں۔ لیہ میں بھی بہت بڑی احتجاجی ریلی منعقد کی گئی جس میں تمام تر حکومتی رکاوٹوں کے باوجود ہزاروں افراد شریک ہوئے۔ حکومت نے 11 مئی سے دو دن قبل ہی ٹرانسپورٹ، پٹرول پمپ، بسوں کے اڈے بند کروا دیے اور کارکنوں کو ہراساں کرنے اور انہیں گرفتار کرنے کا عمل شروع کردیا تھا۔
کرپٹ نظام کے تحت ہونے والے جعلی انتخابات کا ایک سال مکمل ہونے پر فرسودہ نظام اور نااہل حکومت کے خلاف پاکستان عوامی تحریک نے ملک بھر کے 60 اضلاع میں احتجاجی ریلیاں منعقد کیں۔ بہاولنگر میں بھی بہت بڑی احتجاجی ریلی منعقد کی گئی جس میں تمام تر حکومتی رکاوٹوں کے باوجود ہزاروں افراد شریک ہوئے۔ حکومت نے 11 مئی سے دو دن قبل ہی ٹرانسپورٹ، پٹرول پمپ، بسوں کے اڈے بند کروا دیے اور کارکنوں کو ہراساں کرنے اور انہیں گرفتار کرنے کا عمل شروع کردیا تھا۔
کرپٹ نظام کے تحت ہونے والے جعلی انتخابات کا ایک سال مکمل ہونے پر فرسودہ نظام اور نااہل حکومت کے خلاف پاکستان عوامی تحریک نے ملک بھر کے 60 اضلاع میں احتجاجی ریلیاں منعقد کیں۔ جھنگ میں بھی بہت بڑی احتجاجی ریلی منعقد کی گئی جس میں تمام تر حکومتی رکاوٹوں کے باوجود ہزاروں افراد شریک ہوئے۔ حکومت نے 11 مئی سے دو دن قبل ہی ٹرانسپورٹ، پٹرول پمپ، بسوں کے اڈے بند کروا دیے اور کارکنوں کو ہراساں کرنے اور انہیں گرفتار کرنے کا عمل شروع کردیا تھا۔
جلسے سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی صدر پاکستان عوامی تحریک ڈاکٹر اشتیاق بلوچ نے کہا کہ فرسودہ اور کرپٹ نظام کی وجہ سے ہمارا ملک ترقی کی بجائے غیر ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہوچکا ہے۔ چائنہ اور کوریا سمیت وہ ممالک جو ہم سے بعد میں آزاد ہوئے آج وہ ترقی کی حدوں کو چھو رہے ہیں جبکہ ہمارے حکمران ملک بھیک مانگ کر چلا رہے ہیں۔ غریب کے مسائل برھتے جا رہے ہیں، مہنگائی آسمان سے باتیں کررہی ہے، چوری، ڈکیتی اور اگوا کی وارداتیں عام ہیں۔
نظام کی تبدیلی کے لئے پاکستان عوامی تحریک کے مظاہرین سے ملک کے مختلف شہروں میں کینیڈا سے ویڈیو لنک خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہرالقادری کاکہنا تھا کہ پاکستان کی از سر نو تعمیر کا وقت آچکا ہے اگر موجودہ حکمران مزید ایوانوں میں رہے تو لوگ خودکشیاں کرنے پر مجبور ہوجائیں گے، انہوں نے کہا کہ ہم جمہوریت کو ڈی ریل نہیں کرنا چاہتے لیکن ملک میں جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں، اس نظام کو جمہوریت نہیں کہتے جہاں غربت ہو، لوگ بھوکے سوتے ہوں اور مائیں اپنے بچوں کو فروخت کرتی ہوں، جمہوریت میں تمام طبقات کو برابری کے حقوق دیےجاتے ہیں اور کرپٹ عناصر کا خاتمہ کیا جاتا ہے۔
کرپٹ نظام کے تحت ہونے والے جعلی انتخابات کا ایک سال مکمل ہونے پر فرسودہ نظام اور نااہل حکومت کے خلاف پاکستان عوامی تحریک نے ملک بھر کے 60 اضلاع میں احتجاجی ریلیاں منعقد کیں۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں بھی بہت بڑی احتجاجی ریلی منعقد کی گئی جس میں تمام تر حکومتی رکاوٹوں کے باوجود ہزاروں افراد شریک ہوئے۔ حکومت نے 11 مئی سے دو دن قبل ہی ٹرانسپورٹ، پٹرول پمپ، بسوں کے اڈے بند کروا دیے اور کارکنوں کو ہراساں کرنے اور انہیں گرفتار کرنے کا عمل شروع کردیا تھا۔
4M
فیس بک
2M
ٹوٹر
© 1994 - 2026 Minhaj-ul-Quran International.